کابینہ نے مدارس و اسکولوں میں یکساں نصابِ تعلیم نافذ کرنے کی منظوری

  • بدھ 08 / مئ / 2019
  • 5690

وفاقی کابینہ نے پورے ملک میں مدارس سمیت تمام اسکولوں میں یکساں نصاب تعلیم نافذ کرنے کی منظوری دے دی۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس کے دوران ملک میں وفاق المدارس کے تحت چلنے والے 30 ہزار مدارس سمیت تمام تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ پر جامع گفتگو ہوئی۔

مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ وزیراعظم عمران خان کا وژن تھا کہ پورے ملک میں یکساں نصاب تعلیم نافذ کیا جائے۔  انہوں نے کہا کہ حکومت تمام مدارس کو اپنی نگرانی میں لینے کی خواہشمند نہیں ہے لیکن وہ حکومت کے ساتھ منسلک ہوں گے۔ حکومت ان کی بینک ٹرانزیکشنز اور غیرملکی فنڈنگ کی نگرانی کرے گی۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت سے تمام مدارس کو حکومت کے ماتحت کرنے اور ملک میں یکساں نظام تعلیم کی کوششیں کی جاتی رہیں لیکن کامیاب نہیں ہو سکیں۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران رمضان المبارک کے مہینے میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے اور موبائل فون کمپنیوں کے لائنسنز کی تجدید کی بھی منظوری دی گئی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں کابینہ نے گردیشی قرضوں پر قابو پانے اور بجلی کی ترسیل کے نظام کی بہتری کے لیے خودکار میٹر نظام لگانے کی بھی منظوری دی۔

اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے تقرری سے متعلق دستاویزات کی عدم دستیابی کی وجہ سے اجلاس کے دوران سید شبر زیدی کی بطور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو تقرری کی منظوری نہیں دی۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیر توانائی عمر ایوب خان نے دعویٰ کیا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی۔  بجلی کے نرخ میں اضافے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمر ایوب نے بتایا کہ نیشنل الیکٹرک پاور اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے 3.4 فیصد بجلی کے نرخ بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی تھی تاہم حکومت نے صرف 1.87 فیصد ہی اضافہ کیا۔

مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کابینہ نے آئندہ 15 سالوں کے لیے موبائل کمپنیوں کے لائسنز کی تجدید کی منظوری بھی دے دی جس سے قومی خزانے میں ایک ارب 30 کروڑ ڈالر شامل ہوجائیں گے۔