داتا دربار کے باہر خودکش دھماکہ، 8 افراد جاں بحق، 25 زخمی

  • بدھ 08 / مئ / 2019
  • 23250

لاہور میں داتا دربار کے باہر خود کش دھماکے میں ایلیٹ فورس کے 5 اہلکاروں سمیت 8 افراد جاں بحق جبکہ 25 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

دھماکہ صبح 8 بجکر 45 منٹ کے قریب داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 کے قریب کھڑی پولیس موبائل کے پاس ہوا۔ ابتدائی طور پر پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ دھماکہ میں پولیس وین کو نشانہ بنایا گیا اور اس میں 3 پولیس اہلکار اور 2 شہری جاں بحق ہوئے، تاہم بعد ازاں جاں بحق افراد کی تعداد 8 ہوگئی۔

دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھا کرنا شروع کردیے جبکہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو میو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے 15 افراد کو ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ، جن میں سے 9 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

دھماکے کے متعلق انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عارف نواز خان نے بتایا کہ 5 پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد شہید جبکہ 25 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 7 کلو کے قریب دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا اور اس میں پولیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ دھماکا خود کش تھا اور حملہ آور کی باقیات بھی مل گئی ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات میں مصروف ہیں۔  انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی داتا دربار کے اندر داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ جو لوگ داتا دربار میں موجود تھے انہیں بھی باہر نکال دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کی اطلاعات تھیں لیکن مخصوص داتا دربار پر اس طرح کے واقعے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔

داتا دربار  پاکستان کے ان مزاروں میں سے ایک ہے جہاں زائرین کی بہت بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ یہ داتا دربار کے باہر دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل جولائی 2010 میں حملہ ہوا تھا، جس میں 50 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہوئے تھے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور دیگر شخصیات نے لاہور دھماکے پر اظہار افسوس کیا۔