سفر در سفر ۔ 6 ۔ دھنک رنگ
- تحریر مسعود مُنّور
- بدھ 08 / مئ / 2019
- 11820
لاہور ، پچھلے دو چار دن میں مجھ سے مانوس سا ہو چلا تھا ۔نئے لاہور میں پُرانے لوگ ملنے لگے تھے اور نئے پُرانے کا گنگا جمنی ماحول بننے لگا تھا ۔ فضا کی آلودگی میں ٹھہراؤ سا آ گیا تھا ۔اچانک برقی قاصد نے سندیسہ دیا کہ آج اُس مہمان سرا میں جہاں میرا قیام ہے ، دوستی کی گھٹا چھائے گی ، رم جھم رم جھم پھوار پڑے گی اور دھنک اُترے گی ۔ اچانک ایک پُرانی غزل کا مطلع میری یاد کے دیوان سے نکلا اور رقص کے مُوڈ میں تحت اللفظ ہو گیا :
خلا تھا ، انجان سی سڑک تھی ، کوئی نہیں تھا
دھنک کے اُس پار بھی دھنک تھی ، کوئی نہیں تھا
اتنے میں دروازے کی گھنٹی بجی تو "دھنک" مہمان سرا میں چاروں طرف پھیل گئی اور رنگوں کے پردے سے نکلا ایک چالیس سال پرانا چہرا جو اب بھی نواں نِکور تھا ۔ بالکل سرور سکھیرا کی طرح ۔ سرور سکھیرا بلا کے حُسن پرست ہیں ۔ ستیم ، شوم سُندرم گاتے ہوئے اُن کا زور ہمیشہ پوری شدت سےسندرم پر ہوتا ہے ۔ اِس حُسن پرستی نے اُن کے چہروں کے خدو خال میں دھنک کے رنگ ایسی فن کاری سے بھر دیے ہیں کہ حُسن کے ایک ہزار ایک شیڈ اُن کے سراپے میں غُٹر غُوں کرتے سنائی دیتے ہیں ۔
سرور سکھیرا سے یوں تو فیس بُک اور وٹس ایپ پر مسلسل رابطہ رہتا ہے اور بات چیت بھی ہوتی رہتی ہے ، پیغامات اور تصویروں کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا ہے لیکن اُنہیں روبرو دیکھ کر لگا کہ اُن کی اپنی شخصیت میں اتنی جاذبیت ہے کہ وہ بیک وقت ایک معصوم سے بچّے اور ایک عمرو عیار لگتے ہیں جن کی زنبیل دوستی کی دھنک سے بھری رہتی ہے جس میں فاختائیں ، کبوتر ، پھول ، چاکلیٹ اور خوشبوئیں رکھی رہتی ہیں اور وہ حسبِ مراتب یہ تحائف چوک میں کھڑےتقسیم کرتے رہتے ہیں ۔
سرور سکھیرا کے چہرے پر جعلی جمہوریتوں کی گھُٹن اور آمریتوں کی بادِ سموم کے منفی اثرات نظر نہیں آتے ۔وہ ہر زہر گھول کر سقراطی بے نیازی سے پی سکتے ہیں اور پھر بھی خوش اسلوبی سے جی سکتے ہیں ۔ سرور سکھیرا سے حسینوں ، مہ جبینوں ، زہرہ وشوں اور نازنینوں کے عشووں اور غمزوں کے بارے میں کیا کیا باتیں ہوئیں ، وہ تو میں بتاؤں گا نہیں کیونکہ میرا تجاہلِ عارفانہ کہتا ہے کہ میں نے سب کچھ سُن کر بھی کچھ نہیں سنا ۔ یاروں دوستوں کی باتیں قیمتی خزانوں کی طرح ہوتی ہیں جن کی معصومیت کو غیروں کی آنکھ اور سماعت سے آلودہ نہیں ہونا چاہیے ۔ بقول احسان دانش :
کسی کے سامنے، مت کھول قصہ ہائے جنوں
یہ دل کی بات ہے دل میں رہے تو اچھا ہے
دانش صاحب کے شعر کو اس طرح ترمیمی قینچی سے کاٹ کر حسبِ ضرورت بنانا کفر نہیں ہے ۔ میں اصل شعر بھی سنائے دیتا ہوں جس کی کتر بیونت کی گئی ہے :
کسی کے سامنے اشکوں کی آبرو نہ گنوا
یہ گھر کی بات ہے ، گھر میں رہے تو اچھا ہے
وہیں مہمان سرا میں بیٹھے بیٹھے طے پایا کہ جمخانہ کلب چلا جائے جو مال پر اواری ہوٹل سے زیادہ دور بھی نہیں جہاں شام کو ایک مجلس میں مجھے شریک ہونا تھا اور میں وہاں سے بآسانی شام کی طے شدہ ملاقاتیں کھری کرسکتا تھا ۔ سڑک پر نکلے تو ان گنت انڈر پاس آئے جو مختلف چھوٹی بڑی شخصیات کے نام سے بلکہ بعض بونوں کے نام سے منسوب تھے لیکن جنرل مشرف کے نام کا کوئی انڈر پاس نہ تھا حالانکہ وہ بھی تو لاہور کےایف سی کالج کے طالب علم رہے تھے ۔ شاید جنرل جنرل میں فرق ہوتا ہے کیونکہ ہر جرنیل جیلانی یا ضیا نہیں ہوتا ۔
ان انڈر پاسوں کے علاوہ مجھے درختوں سے لٹکی جن تصویروں نے متوجہ کیا وہ امامِ کعبہ اور وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کی تھیں ، اُن بُزدار کی جو اپنی بکریاں جنوبی پنجاب میں اپنے گاؤں میں چھوڑ کر اب لاہور کے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے درختوں کے طوطے پال رہے ہیں ۔ میرے پاس وقت ہوتا تو میں ان تصویروں کو گنتا اور اُن کی قیمت کا تخمینہ لگا کر عمران سرکار سے پوچھتا کہ مدینہ کی ریاست میں اس قسم کی اشتہار بازی پر رقم ضائع کرنے کی اجازت جس نے دی ، اس کا بل بھی وہ ادا کرے ، بیت المال پر بوجھ نہ ڈالا جائے لیکن مجھے غریب میں اتنی مجال کہاں ؟ میں جو بولا تو کونوں کھدروں سے مفتی نما متکبرے نکل کر میرا گلا پکڑ لیں گے اور میرے کان مروڑ کر مجھے ایسا مزا چکھائیں گے کہ مجھ بے وطن مسافر پرندے کی چیں بول جائے گی ۔ میں ہوتا کون ہوں جو عثمان بُزدار کی امامِ کعبہ سے عقیدت کے باب میں کوئی بد شگونی کروں ۔آخر یہ پبلی سٹی کا زمانہ ہے ۔ لیڈر تصویر میں نہ آیا تو قوم کی تقدیر میں نہ آیا ۔ چنانچہ خیالوں کی بکریاں چراتے میں سرور سکھیرا صاحب کی معیت میں جمخانہ پہنچ گیا تھا ۔
سبحان اللہ ، کیا خوبصورت منظر تھا ، گھاس کے مخملیں تختوں ، مستی میں جھومتے ہرے بھرے درختوں اور شرارت سے آنکھیں مارتے پھولوں کے درمیان خیمہ نما عمارت کے بیرونی دائرے میں رکھی میزوں اور کرسیوں میں ایک جگہ منتخب ہوئی اور دونوں دوست خالی نشتوں پر آمنے سامنے جم گئے تاکہ ایک دوسرے کی نظر سے اوجھل نہ ہوں ۔
سرور سکھیرا ایک متواضع آدمی ہیں ۔ اُنہوں نے ایک ایسی سوغات سے میری تواضع کی جو کریم رول اور آئس کریم کی پیوند کاری سے جنم لینے والی کوئی تیسری خوردنی مخلوق تھی ۔ اس کے ساتھ گرم مشروب ۔ اور پھر باغ کے درختوں کے ذخیرے سے نکلتی آکسیجن تو مجھے نہال کر گئی ۔ سرور سکھیرا سے باتیں کرتے مجھے وہ زمانہ یاد آیا جب سوسائٹی میگزین " دھنک" نکلا تو اردو ماہ ناموں کی دنیا میں ہلچل سی مچ گئی ۔ ہر مکتبِ فکر کے خواتین و حضرات ، شخ و شاب ، مولانا اور مشائخ ، دانشور اور صحافی سب ایک ساتھ چونکے اور آنکھ بھر کر دیکھا کہ یہ دھنک آسمان سے نہیں اُتری ، گلبرگ میں ایک ماہنامے کے دفتر سے نکل کر لاہور کے نئے اور پرانے رہائشی علاقوں پر سایہ فگن ہے اور نئی نسل تو اس دھنک کی دیوانی ہے ۔دھنک کی مقبولیت نے سرور سکھیرا کو بہت سے دلوں کا مکین بنا دیا تھا ۔ میں نے اُس زمانے کو یاد کیا اور پھر نظر بھر کر سرور سکھیرا کو دیکھا تو آپ ہی آپ ، مصطفیٰ زیدی مرحوم کا ایک شعر میری یادوں میں گنگنانے لگا :
اُن گناہوں میں جلا ہوں کہ مرے سینے میں
خوشبوئے عصمتِ مریم بدنام آج بھی ہے
لیکن میں نے اُس وقت یہ شعر سرور سکھیرا کو نہیں سنایا کہ کہیں وہ اپنے راز کے فاش ہوجانے پر مجھ سے اُلجھ نہ پڑیں ۔ خیر یہ ایک ایسی بات ہےجو محض سُخن گسترانہ بھی ہو سکتی ہے مگر دوستوں کو کبھی کبھی چاقو سے گدگدی کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہوتا ۔ منیر نیازی یہی کہا اور کیا کرتے تھے ۔
سرور سکھیرا کی مہمان نوازی کی بدولت جمخانہ کے ریستوران میں بیٹھ کر مجھ فقیر نے جو عیاشی کی اور جو گلچھرے اُڑائے وہ بیان سے باہر ہی رہیں تو اچھا ہے ۔ اور کسی ہمدمِ دیرینہ سے ملنے کو تو یارانِ لوح و قلم نے مسیحا و خضر کی ملاقات سے بھی بہتر قرار دیا ہے اور وہ ہمدمِ دیرینہ سرور سکھیرا ہوں تو سونے پر سہاگہ کا محاورہ صادق آتا ہے ۔
لگ بھگ چار دہائیوں کے بعد ایک پرانے دوست سے یہ یادگار ملاقات تھی اور اگلی ملاقات تک اس کا نشہ طاری رہے گا ، اور سرور سکھیرا کی دریا دلی اور مہمان نوازی مجھے مسرور اور سرشار رکھے گی ۔ ( جاری ہے )