تجاوزات نہ گرانے پر سپریم کورٹ وزارت دفاع پر برہم

  • جمعرات 09 / مئ / 2019
  • 6410

سپریم کورٹ نے کراچی میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران آپریشن نہ کرنے سے متعلق بیان دینے پر وزیر بلدیات سعید غنی اور مئیر کراچی وسیم اختر پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن اور شہر کو اصل نقشے میں بحالی سے متعلق کیس کی سمات ہوئی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل، سیکریٹری دفاع، میئر کراچی وسیم اختر، ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی  افتخار قائم خانی، ایس ایس پی سہائی عزیز اور ایس بی سی اے، کے ایم سی، واٹر بورڈ سمیت دیگر اداروں کے نمائندے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

سپریم کورٹ نے رہائشی علاقوں سے کمرشل سرگرمیوں کا خاتمہ کرکے شہر کو اصل ماسٹر پلان کے تحت بحالی کا حکم دے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے مارکی اور کنوینشن ہال سمیت دفاعی مقاصد کے لیے مختص زمین پر کمرشل سرگرمیوں سے روک رکھا ہے۔

دوران سماعت کراچی میں تجاوزات اور ملٹری لینڈ پر کمرشل سرگرمیوں کا معاملہ سامنے آیا تو سیکریٹری دفاع نے عدالتی حکم پر رپورٹ پیش کی۔ جسے عدالت عظمیٰ نے مسترد کردیا۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ یہ رپورٹ غیر اطمینان بخش اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ مجھے سیکریٹری دفاع بتائیں، آرڈر پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں کراچی میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق معاملے زیر غور آیا اس موقع پر تجاوزات کے خلاف آپریشن سے متعلق بیان دینے پر سپریم کورٹ نے وزیر بلدیات سعید غنی اور مئیر کراچی پر برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کہاں ہیں وہ بلدیاتی وزیر اور میئر کراچی جو کہتے پھر رہے ہیں ہم ایک بھی عمارت نہیں گرائیں گے۔ کیا انہوں نے عدالت سے جنگ لڑنی ہے؟

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم پہلے سب کو سن لیں پھر دیکھتے ہیں ان کو کہاں بھیجنا ہے۔ پورے شہر میں لینڈ مافیا منہ چڑا رہا ہے اور یہ ایسی باتیں کررہے ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کی تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔

عدالت نے کنٹومنٹ بورڈ و دیگر کی نظرثانی درخواستیں مسترد کردی اور حکم دیا کہ عدالتی احکامات پر عمل کیا جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بات ایک نقطے پر عمل درآمد کی نہیں، پورے آرڈر پر ہی عمل نہیں ہوا۔ دفاع کا محکمہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کر رہا، کیا سپریم کورٹ کو بند کردیں؟

عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں عدالتی احکامات پر عمل کیا گیا ہے۔ یہ جو اتنا بڑا پی اے ایف میں شادی ہال چل رہا ہے، کسی کو نظر کیوں نہیں آیا؟

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فوج کو کیا اختیار ہے کہ سرکاری زمین الاٹ کرے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کا فوج کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، ہمیں پتہ نہیں، نہ ہی اس کا حساب کتاب ہے۔ عدالت نے سیکریٹری دفاع کو عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا ایک مرتبہ پھر حکم دے دیا۔

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ 'کراچی شہر میں سب پارک اور کھیل کے میدانوں پر قبضہ کرکے شہیدوں کے نام کردئیے گئے۔ ہم شہیدوں میں نمبر ون ہیں کیا پتہ میں بھی شہید ہو جاؤں یا مارا جاؤں'۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ شہیدوں کا رتبہ بڑا ہے اس کے لیے بڑی شرائط ہیں۔ جس پر جسٹس گلزار نے ان سے استفسار کی کہ آپ کا مطلب ہے میں شہید نہیں بن پاؤں گا؟ 'ہم تو پیدا ہی شہید ہونے کے لیے ہوئے ہیں'۔

بعد ازاں کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ میں نے اس وقت بھی گزارش کی تھی کہ ایک مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ ہم نے دکانیں ٹوٹتے ہوئے دیکھیں جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہوئے، ان میں سے بہت کم ایسے ہیں جو اپنا ذریعہ معاش دوبارہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔