وزیر اعظم اڑھائی ماہ بعد 51 منٹ کے لئے قومی اسمبلی میں آئے اور تقریر کئے بغیر چلے گئے
- جمعرات 09 / مئ / 2019
- 7640
قومی اسمبلی کے نویں اجلاس کا آج گیارہواں دن تھا۔ وزیراعظم عمران خان اڑھائی ماہ بعد قومی اسمبلی آئے۔ تاہم 51 منٹ بعد تقریر کئے بغیر اسمبلی سے چلے گئے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی آمد 11 بجکر 41 منٹ پر ہوئی۔ جس کے بعد تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی وزیراعظم سے ملنے ان کی نشست کی جانب جوق در جوق آنے لگے۔ یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ دور دراز کے علاقوں سے آئے ہوئے اراکین اسمبلی کی وزیراعظم سے ملاقات صرف اسمبلی ہال میں ہی ممکن ہے۔ کئی اراکین اسمبلی نے ہاتھ میں درخواستیں بھی پکڑ رکھی تھیں تاکہ اپنی عرضی وزیراعظم تک پہنچا سکیں۔ عمران خان اپنی نشست پر آرام دہ انداز میں بیٹھے سب سے ملتے رہے۔
عمران خان کے برابر میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جبکہ اُن کے ساتھ اسد عمر بیٹھے تھے۔ دوران اجلاس اسد عمر اور شاہ محمود قریشی خوشگوار موڈ میں ایک دوسرے سے گپ شپ میں مصروف رہے۔ اسد عمر اگرچہ اب وزیر کے عہدے پر نہیں ہیں، اس کے باوجود وہ اگلی نشستوں پر بیٹھے تھے جو اُن کی وفاقی کابینہ میں واپسی کا بھی عندیہ ہے۔
وزیراعظم کی ایوان میں موجودگی کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن روحیل اصغر نے استفسار کیا کہ ’بلوچستان میں ڈیم منصوبے تو سابق حکومت کے ہیں وزیراعظم ان منصوبوں کا افتتاح کب کریں گے؟‘ جس پر وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے جواب دیا کہ ’وزیراعظم صرف ان منصوبوں کا افتتاح کرتے ہیں جن کے لیے ہماری حکومت فنڈز جاری کرتی ہے۔ سابق حکومت نے کئی ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز جاری نہیں کیے تھے۔‘
سابق حکومت پر تنقید کرنے پر اپوزیشن اراکین نے ایوان میں ہنگامہ کیا۔ شور کے نتیجے میں وزیراعظم عمران خان 12 بج کر 32 منٹ پر تقریر کیے بغیر ہی ایوان سے چلے گئے۔ جس پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے ’گو عمران گو‘ کے نعرے لگائے۔
پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ اسمبلی میں آ کر سب سوالوں کے جواب دیں گے۔
وزیراعظم عمران خان اپنی آٹھ ماہ کی حکومت میں پارلیمنٹ میں بہت کم آئے ہیں۔ آٹھ ماہ میں قومی اسمبلی کے آٹھ اجلاس ہوئے اور نواں اجلاس ابھی جاری ہے۔ ہر اجلاس کئی دنوں پر محیط ہوتا ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے 64 دنوں میں وزیراعظم اب تک صرف 10 بار ایوان میں آئے ہیں۔ تین بار انہوں نے بطور رکن پارلیمنٹ اور سات بار بطور وزیراعظم ایوان میں حاضری دی ہے۔
پارلیمانی صحافیوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تب بھی اُن کی اسمبلی میں حاضری غیر تسلی بخش تھی اور اب وزیراعظم بننے کے بعد بھی اسمبلی میں ان کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ وقفہ سوالات کے دوران اہم سوالات کا وہ خود جواب دیا کریں گے لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔