ملک میں پی ٹی آئی کی نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی حکومت ہے: بلاول
- جمعرات 09 / مئ / 2019
- 6700
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ اس ملک میں اب پی ٹی آئی کی حکومت نہیں بلکہ ’آئی ایم ایف‘ کی حکومت ہے۔
قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں وزیراعظم عمران خان سے کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے ہونے والے معاہدے کو پارلیمنٹ سے منظور نہیں کروایا گیا تو عوام اس معاہدے کو نہیں مانیں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس نہ کوئی منصوبہ بندی ہے نہ ہی کوئی وژن ہے۔ عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں اور حکومت کی نااہلی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ بلاول کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے دور میں کسانوں، مزدوروں، تاجروں، غریب عوام اور پینشنرز کا معاشی قتل ہورہا ہے۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ عوام سوال کر رہے ہیں کہ ملک کے مشیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک سے وزیراعظم نے ملاقات کیے بغیر ہی انہیں تعینات کردیا، ایسا تو نہیں کہ آئی ایم ایف نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا ہو۔ حکومت نے ملک پر اچانک پیٹرول بم گرا کر 9 روپے مہنگا کردیا اور یہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ حکومت ٹیکس وصول کرنے اور آمدن بڑھانے میں ناکام ہوگئی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے تقریر کے دوران پی ٹی آئی حکومت کو ’منافق‘ قرار دیا تو اسپیکر قومی اسمبلی نے اس لفظ کو حذف کردیا۔
بلاول نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اقدام نہیں کررہی۔ حکومت کو دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سنسرشپ نافذ کرنے، ایف آئی آر کاٹنے، مخالفین کو جیل بھیجنے اور نیب گردی کی بجائے سنو اور سیکھو اور اپنا کام کرو۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو سندھ حکومت سے سیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ سندھ حکومت وہ واحد صوبہ ہے جہاں ٹیکس کی وصولی ہورہی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کہتی ہے کہ 18ویں ترمیم کی وجہ سے وفاق دوالیہ ہوگیا، جبکہ سچ تو یہ ہے کہ صوبے وفاقی حکومت کی ناکامی کی وجہ سے دیوالیہ ہورہے ہیں۔