آئی ایم ایف سے آئی ایم ایف تک

  • تحریر
  • جمعرات 09 / مئ / 2019
  • 5000

آئی ایم ایف اور ہم اس قدر مانوس ہو چکے ہیں کہ باہمی تعلق میں شاذ ہی کوئی حیرت کا سامان بچا ہو  لیکن گزشتہ تین ہفتوں نے ہمارا یہ گمان  ریزہ  ریزہ کر دیا۔ اپنی شناسائی  پر اس لئے ناز تھا کہ ہم آئی ایم ایف کے بارہ  قرض پروگراموں  کے مکلف رہ چکے ہیں۔  زیرِ غور پروگرام  13واں پروگرام ہے۔
 ہماری ایک ایک  رگ آئی ایم ایف کو معلوم ہے اور آئی ایم ایف  کے  مجرب  نسخے کا ایک ایک کیپسول اور سیرپ ہمیں ازبر یاد ہو چکا ہے۔ ادھر کسی بھی نئے پروگرام کا ڈول  ڈالا جاتا ہے تو یار دوست گنتی شروع کر دیتے ہیں،  ایک۔ شرح مبادلہ کی قدر میں کمی،  دو۔ بجلی  و گیس کی قیمتوں میں اضافہ،  تین۔  تیل کی قیمتوں  میں اضافہ، چار۔ معاشی نمو میں کمی، پانچ۔ شرح سود میں اضافہ، چھ۔ مہنگائی میں اندھا دھند اضافہ وغیرہ وغیرہ۔
 موجودہ  زیرِ غور آئی ایم ایف پروگرام میں زیرِ بحث  اقدامات کم و بیش وہی ہیں البتہ اس بار اس پروگرام  کے لئے مذاکرات کرنے والوں پر عجیب بپتا  آن  پڑی ہے۔  پی ٹی آئی کے مالیاتی جادوگر یعنی وزیر خزانہ  اسد عمر  نے حکومت سنبھالنے کے بعد  روایت سے ہٹ کر یعنی  out of box solutions کی تلاش میں ابتدا  میں آئی ایم ایف سے قرض پروگرام  سے گریز کیا۔ سعودی عرب، یو اے ای اور چین کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور کامیابی کی نوید سنائی گئی، بلکہ  امریکی ڈالرز میں کئی ارب ڈالرز قومی خزانے میں جمع کروا کے ان  غیر روایتی اقدامات   کے حق میں داد بھی وصول کی۔
 اس دوران آئی ایم ایف سے ملاقاتیں بھی ہوئیں  لیکن بتایا یہی گیا کہ شرائط بہت سخت ہیں جو قابلِ قبول نہیں۔ باقاعدہ مذاکرات میں تاخیر کی وجہ بھی یہی بتائی گئی کہ دوست ممالک سے مناسب شرائط پر ذخائر فراہمی کی بات چیت چل رہی ہے تاکہ آئی ایم ایف سے بڑی رقم کی ضرورت نہ پڑے۔ دوسرے یہ کہ متبادل بندوبست ہونے سے  آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے کی پوزیشن بہتر ہو گی اور یوں متوقع شرائط میں سختی کم ہو نے کی توقع ہے۔  اس  دوڑ دھوپ کے نتیجے میں اسد عمر نے واشگاف انداز میں قوم کو نوید سنائی کہ اگلے دوسال کی ضروریات کے مطابق بیرونی فنڈز کا بندوبست ہو چکا،   شرح مبادلہ  کے بارے  میں  اب  کوئی فکر کی بات نہیں بلکہ جو لوگ اب بھی ڈالر اکٹھا کرنے کی تگ و دو کر رہے ہیں انہیں منہ کی کھانی پڑے گی کیونکہ معیشت کو درکارسہارا مل چکا!
ابھی راوی چین ہی چین لکھنے کے لئے  کاغذ اورسیاہی ڈھونڈ ہی رہا تھا کہ اس کی  سوچی ہوئی عبارت ہی  بے کار ہو گئی۔ تین ہفتے قبل  واشنگٹن سے واپسی پر رات گئے اسد عمر کو وزارت سے  سبکدوش کر دیا گیا۔  ان کی سبکدوشی کی خبر کے ساتھ ہی متبادل بندوبست کا اعلان بھی کر دیا گیا کہ اب  ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ بطور مشیر  خزانہ  معاملات کی ڈور وہیں سے ہاتھ میں لیں گے جہاں سے اسد عمر کی پتنگ کٹی تھی۔اچانک اور جس  پرِاسرار   انداز میں وزیر خزانہ کو عین قرض پروگرام کے درمیان علیحدہ کیا گیا وہ حیران کن تھا۔  اسد عمر انڈسٹری، تاجروں اور سرمایہ کاروں کے سامنے پی ٹی آئی حکومت کا روشن چہرہ اور مالیاتی دماغ تھے لیکن  ان کی یوں اچانک علیحدگی نے بہت سی کہانیوں اور سازشی تھیوریوں کو جنم دیا لیکن  مشہور محاورے Show must go on   کے مصداق آئی ایم ایف پروگرام کے ٹیکنیکل مذاکرات کی تیاری نئے مشیر کی سربراہی میں شروع  ہو گئی۔
آئی ایم ایف کی ٹیم مذاکرات کے لئے اسلام آباد  پہنچی، مذاکرات شروع ہوئے  تو  ایک اور تبدیلی نے سب کو ہکا بکا کر دیا۔  ایک بار پھر رات گئے ہی اعلان ہوا کہ ایف بی آر کے چیئر مین ڈاکٹر جہانزیب اور اسٹیٹ بنک کے گورنر طارق باجوہ کو  ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا گیا۔ کیوں؟ حکومتی وضاحت ان اچانک اور پراسرار تبدیلیوں کے جواب میں ناکافی تھی بلکہ  اس کا  زور متبادل ناموں کی تعریف و توصیف پر تھا۔  گورنر اسٹیٹ بنک کے لئے آئی ایم ایف میں ملازم  ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر رضا باقر  کے نام قرعہ فال نکلا جو گذشتہ تین سال سے مصر میں مامور تھے۔ مصر میں وہ آئی ایم ایف کے ایک  سخت گیر  مالیاتی پروگرام کے انچارج تھے۔
ایف بی آر کے چیئرمین کے لئے ان لینڈ ریونیو کے ایک صاحب کا نام تجویز ہوا لیکن رات گئے نوٹیفیکیشن روک دیا گیا کیونکہ ان کے نام کے ساتھ تین سال قبل ایک الزام کہانی وابستہ  تھی۔ قرعہ فال بالآخر نجی شعبے کے معروف ماہر شبر زیدی کے نام نکلا۔  شبر زیدی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں، ٹیکس معاملات کے   ماہرگردانے جاتے ہیں۔ ماضی میں بے تحاشا کمیٹیوں کے ممبر رہ چکے ہیں۔ نگران دور میں صوبہ سندھ کی حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ اخبارات میں لکھتے رہے  اور ٹی وی ٹاک شوز میں شرکت کرتے رہے  ہیں۔  اینٹی منی لانڈرنگ کے حوالے سے ان کا ایک واضح موقف رہا ہے۔ وہ اس قانون کے خاتمے کے حق میں مدت سے دلائل دیتے آئے ہیں جس کے تحت بیرون ملک سے زرِمبادلہ کی ترسیل پر پوچھ گچھ منع ہے۔ ہماری ان سے سلام دعا بھی اسی سلسلے میں رہی۔ چند ہفتے قبل ان سے ہم نے ان کی ایک کتاب اور اینٹی منی لاندرنگ پر ان کے تین اقساط پر مبنی مضمون  منگوایا۔
 شبر زیدی تیسرے چیئرمین ہیں جو شعبے کے باہر سے تعینات ہوئے ہیں۔ ان کی تعیناتی کو عدالت میں چیلنج کئے جانے کے بھی اشارے ملے ہیں۔ اگر انہیں کھل کر کام کرنے کا موقع ملا تو عبداللہ یوسف کے بعد وہ دوسرے شخص ہوں گے جو اس موقعے پر یہ ثابت کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے کہ باہر سے بیٹھ کر تنقید کرنے والے اس پر عملدرآمد بھی کروا سکتے ہیں۔ اندیشہ مگر  یہ بھی ہے  کہ انہیں ایف بی آر کے اندر سے  شدید محکمانہ عدم تعاون کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہے گا۔ بقول ایک واقفِ حال کے یا تو نیا چیئرمین کامیاب  ہوکر ایک نئی ڈگر قائم کر سکے  گا یا پھر ایف بی آر پر تنقید کرنے والا یہ نقاد اپنے ہاتھوں اپنی ناکامی کا باب لکھنے پر مجبور ہوگا۔ 
عجیب مذاکرات ہیں کہ  مذاکرات کا ڈول ڈالنے والا وزیر اور ٹیکنیکل مذاکرات کے لئے ورکنگ کرنے والے دو اہم ترین عہدیدار دورانِ مذاکرات باہر  کر دیے گئے۔  بقول ایک ستم طریف دوست کے  اب مذاکرات کے ناکام ہونے کی کوئی وجہ ہی نہیں۔ ادھر آئی ایم ایف کی ٹیم ہے تو دوسری طرف بھی ان ہی میں سے آئی ایم ایف کے سابقین! سیکریٹری خزانہ ابھی حال ہی میں کامرس کی وزارت سے یہاں لائے گئے ہیں۔  اپوزیشن بجا طور پر  نکتہ چیں  ہے کہ ان مذاکرات میں سیاسی  ذمہ دار یعنی Ownership   کس کی ہے؟
آئی ایم ایف جیسے مانوس اجنبی کے ساتھ یہ 13واں پروگرام  جس طرح اور جن حالات میں ہورہا ہے اس کی وضاحت و شفافیت،   غیر منتخب اہم ترین   تین عہدیداران کی عین مذاکرات کے دوران انٹری اور کسی بھی  مضبوط سیاسی  کردار کی ان مذاکرات میں عدم شمولیت نے بہت سے  اندیشہ ہائے دوردراز کو  آواز دی ہے۔ اگر اس قرض پروگرام کے نتیجے میں پہلے سے سست روی کا شکار معیشت مزید سست ہوئی، مہنگائی کو مزید شہ ملی تو عوامی غیض و غضب کا سیاسی ملبہ صرف پچھلی حکومتوں پر  ڈالتے جانے سے کم نہ ہوگا ۔ ان اچانک اور پراسرار تبدیلیوں اور تعیناتیوں  کی  ٹائمنگ  اور  سیاسی ذمہ داری وزیر اعظم عمران خان پر عائد ہوگی۔ بقول سابق وزیر خزانہ  اس پروگرام کے نتیجے میں اگر عوام کی چیخیں نکلیں تو  یہ سیاسی ملبہ  خاصا بھاری ثابت ہو سکتا ہے۔