اسکینڈے نیوین ممالک میں سماجی تنظیمیں اہم کردار ادا کر رہی ہیں


اسکینڈے نیوین ممالک کے اڑھائی ہفتے کے ادبی اور سیاحتی دورے میں بہت کچھ دیکھنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ خصوصاََ ڈنمارک، سویڈن اور ناروے کی ادبی، صحافتی، سیاسی اور سماجی متحرک شخصیات اور تنظیموں سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔
 ان تینوں شہروں میں میری نئی کتاب ’دُنیا رنگ رنگیلی‘ جو حال ہی میں سنگ میل پبلشرز نے شائع کی ہے کی تقریبِ رونمائی تھی۔ان کے علاوہ بھی مختلف سماجی و سیاسی تنظیموں اوراہم ادبی، صحافتی اور سیاسی شخصیات سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ ڈنمارک میں رمضان رفیق اور ان کے ساتھیوں کی ادبی تنظیم بیلی اور صدف مرزا کی یورپین لٹریری سرکل، متحرک اور اردو زبان و ادب کی خدمت میں مسلسل مصروف ہیں۔ صدف مرزا اورشوکت علی دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ٹی وی لنک کے نام سے سوشل میڈیا پر ٹی وی کے پروگرام بھی نشر کرتے ہیں۔
بیلی نے میری کتاب کی تقریب کے ایک ہفتے بعد امجد اسلام امجد، وصی شاہ اور سلیمان گیلانی جیسے نامور شعرا کے ساتھ فنڈ ریزنگ مشاعرے کا انعقاد کیا۔ڈنمارک میں ہی عدیل احمد، ظفر اعوان، طاہر عدیل اور نصر ملک جیسے باکمال شاعر موجود ہیں۔ نصر ملک تو شاعر، ادیب اور صحافی ہونے کے ساتھ پاکستان اور ڈنمارک  کے ادب اور صحافت کے انسائیکلو پیڈیا ہیں۔ ڈنمارک کے صف اول کے صحافی اور نیشنل براڈکاسٹنگ کے اردو سروس کے سربراہ رہے ہیں۔ اس حیثیت سے انہوں نے اندرا گاندھی، ذولفقار علی بھٹو او ر اور صدر ضیا الحق جیسی شخصیات کے انٹرویو  کئے ہوئے ہیں۔اسی ڈنمارک میں راجا غفور جیسے پاکستانی ٹی وی چینل کے نمائندے بھی موجود ہیں جو بائیس برس سے مسلسل ریڈیو پروگرام کر رہے ہیں۔
سویڈن میں پاک سویڈن ویلفیئر اینڈ کلچرل سوسائٹی سمیت متعد د تنظیمیں پاکستان، اسلام اور زبان و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان میں عامر جبار ملک اور ڈاکٹر عارف کسانہ نمایاں نام ہیں۔ عارف کسانہ ادبِ اطفال اور کالم نگاری کے علاوہ اُخوّت اور شوکت خانم جیسے رفاعی اداروں کے لیے فنڈ ریزنگ بھی کرتے رہتے ہیں۔  سٹاک ہوم میں ہی  رحمت سائیں جیسے شاعر، ادیب اور دانشور اور چوہدری برکت علی(منتخب کونسلر) جیسے سیاست دان بھی پاکستانی کمیونٹی کی شان بڑھانے کے لئے موجود ہیں۔
ناروے تو جیسے ِمنی پاکستان ہے۔ یہاں کی ادبی تنظیموں میں ڈاکٹر سید ندیم حسین اور ادریس لاہوری کی دریچہ سب سے نمایاں ہے۔ یہ دونوں حضرات بہت اچھے شاعر ہیں۔ ڈاکٹر ندیم سینئر ڈاکٹر ہونے کے باوجود ادبی تقریبات میں سرگرم و مستعد رہتے ہیں۔  ان کے علاوہ ناروے میں جمشید مسرور،ضمیر طالب، فیصل ہاشمی اور شاہد اصغر سمیت کئی بہت اچھے شاعر موجود ہیں۔ شاہد اصغر کا ذکر آیا تو عرض کر دوں کہ یہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔شاعر ہیں، ادیب ہیں، سیاست دان ہیں اور سرگرم سماجی کارکن ہیں۔ اپنے محکمے کی یونین کے سرگرم لیڈر ہیں۔ کمیونٹی کے کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔اسی طرح راجا عاشق حسین اور چوہدری اسماعیل سرور اوسلو کی کاروباری، سیاسی اور سماجی شخصیات ہیں۔چوہدری اسماعیل سرور پاکستان پیپلز پارٹی ناروے کے سینئیر لیڈر ہیں اور پاکستان میں اپنے علاقے میں کئی فلاحی اداروں کے بانی ہیں۔
اوسلو سے سینئر صحافی سید مجاہد علی کاروان کے نام سے ادبی و صحافتی رسالہ نکالتے ہیں۔ ناروے میں اُردو ادب کا ذکرفیصل نواز چوہدری کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ چوہدری صاحب بیک وقت اردو اور نارویجین زبان میں افسانے لکھتے ہیں۔ ان کی کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ادبی سنگت کے نام سے ان کی بہت پرانی ادبی تنظیم ہے جس کے پلیٹ فارم سے بہت سے ادبی پروگرام ہو چکے ہیں۔
جہاں تک سماجی تنظیموں کا تعلق ہے ایک تنظیم نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اسلام آباد راولپنڈی ویلفئیر سوسائٹی نامی یہ تنظیم انتہائی منظم، انتہائی متحرک،انتہائی جمہوری اور فلاحی کاموں میں مسلسل مصروف ِ عمل ہے۔ اس سوسائٹی کا قیام 1991 میں عمل میں آیا۔جب سے لے کر نہ تو یہ زوال پذیر ہوئی اور نہ سست روی کا شکار ہوئی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید مستعد ہوتی چلی گئی۔اس تنظیم میں آٹھ سو سے زائد رجسٹرڈ ممبر ہیں جو باقاعدگی سے فیس ادا کرتے ہیں۔ تنظیم کا اپنا دفتر اور عملہ ہے۔ وہ ایک ایک پیسے کا حساب رکھتے ہیں اور ایک ایک ممبر کی مدد کے ہمہ وقت تیار ملتے ہیں۔ ممبران اور ان کے خاندان کی فلاح بہبود کے لئے ایسی تنظیم کی مثال نہیں ملتی۔
یورپی ممالک میں میت کی تدفین کا مرحلہ انتہائی مشکل اور مہنگا ہوتا ہے۔ اکثر خاندانوں کے لئے یہ مرحلہ سر کرنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے لیکن اسلام آباد راولپنڈی جیسی فلاحی تنظیم نے ناروے میں پچھلے aٹھائیس برس سے یہ کام اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ وہ نہ صرف میت کی تدفین(اگر وہ ناروے میں ہو)یا پھر میت کو پاکستان بھجوانا ہو دونوں کام اہل خانہ کی مرضی کے مطابق مگر ان کو کوئی تکلیف دئیے بغیر انجام دیتے ہیں۔ حتٰی کہ میت کے ساتھ جانے والے اہل خانہ کے ایک فرد کے ٹکٹ کا بھی بندوبست کرتے ہیں۔
 ایسو سی ایشن کے موجودہ صدر مرزا ذولفقار ہیں جن کا تعلق گوجرخان سے ہے۔وہ پچھلے سینتالیس برس سے ناروے میں مقیم ہیں۔ انتہائی دھیمے مزاج اور عمدہ شخصیت کے مالک ہیں۔ان کے علاوہ بھی بہت سی دینی، سیاسی اور سماجی تنظیمیں ان ملکوں میں سرگرم ہیں جیسے ادارہ منہاج القرآن، پاکستان مسلم لیگ، پاکستان تحریکِ انصاف وغیرہ۔ علاوہ  ازیں پاکستان کے میڈیا سے منسلک کئی شخصیات جیسے ناروے میں عقیل قادر، ڈنمارک میں راجا غفور اور سویڈن میں آصف شبیر پاکستانی کیمونٹی کو پاکستان کے قومی میڈیا سے جوڑے ہوئے ہیں۔یوں اسکینڈے نیوین ممالک میں پاکستانی کمیونٹی نہائت فعال، مثبت اور اہم خدمات سر انجام دے رہی ہے۔