غیر منتخب افراد اور سیاسی نظام
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 09 / مئ / 2019
- 5280
آج کی سیاست میں بعض افراد او ر ادارے جمہوریت کو بنیاد بنا کر یہ بنیادی سوال اٹھاتے ہیں کہ ہماری حکمرانی کے نظام یا پارلیمانی جمہوری نظام میں منتخب افراد کے مقابلے میں غیر منتخب افراد کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ہمیں بہت سی حکومتوں میں ان کی جانب سے ایسے افراد کی سیاسی عہدوں پر تقرریاں نظر آتی ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہوتے۔ بہت سے اہل دانش ان تقرریوں کو سیاسی اقراپروری سے بھی جوڑتے ہیں۔ کیونکہ منطق دی جاتی ہے کہ پارلیما ن میں موجود منتخب افراد کی موجودگی میں کیا وجہ ہے کہ غیر منتخب لوگوں کو منتخب لوگوں کے مقابلے میں اہمیت دی جائے۔
موجودہ حکومت پر بھی ایک بڑی تنقید یہ ہورہی ہے کہ اس میں منتخب لوگوں کی بجائے غیر منتخب لوگوں کا قبضہ ہے جو بطور مشیر مقرر ہوئے ہیں۔ پہلی بات یہ سمجھنی ہوگی کہ یہ مسئلہ محض عمران خان کی حکومت کا نہیں ہے۔ سابقہ ادوار میں بھی دیگر حکومتیں بھی اسی طرح غیر منتخب لوگوں کی مدد سے اپنا حکمرانی کا نظام چلاتی رہی ہیں۔ بالخصوص معاشی میدان میں مختلف ماہرین سے استفادہ حاصل کرکے وہی کچھ کیا گیا جو آج عمران خان کی حکومت کررہی ہے۔یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ یہ عمل غیر قانونی نہیں ہے۔کیونکہ قانون وزیر اعظم اور وزرائے اعلی کو اختیار دیتا ہے کہ وہ ایک تعداد تک مختلف افراد بطور مشیر تقرر کرسکتے ہیں۔البتہ سیاسی نوعیت کے اعتبار سے یہ سوال ضرور اٹھایا جاسکتاہے کہ منتخب افراد کی موجودگی میں دیگر افراد کو اہم عہدوں پر سامنے لایاجاتا ہے۔
بنیادی طور پر حکومت کو چلانے بالخصوص حکمرانی کے نظام کو موثر، شفاف اور بہتر کارکردگی کی بنیاد پر اچھے افراد یعنی بہت سے پروفیشنل ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن میں معاشی،سماجی، انتظامی اور خارجی کے ماہر فرادشامل ہوتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اگر ہم اپنے سیاسی اورجمہوری نظام کا جائزہ لیں تو اس میں سیاسی افراد تو اپنی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر پارٹیوں سے ٹکٹ کے حصول کے بعد انتخابی سیاست میں میدان جیت کر پارلیمانی سیاست کا حصہ بن جاتے ہیں۔ لیکن پروفیشنل کلاس کے افراد میں انتخابات اور عملی سیاست میں براہ راست حصہ لینے اورجیت کر سامنے آنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ دوئم سیاسی قیادت سمجھتی ہے کہ ان افراد کے پاس حلقہ یا برادری کی بنیاد پر انتخاب کو جیتے اور انتخابی حکمت عملی کی صلاحیت بھی نہیں ہوتی۔ اسی بنیاد پر ان کو پارٹی ٹکٹ دینے سے پارٹی قیادت گریز کرتی ہے اور کبھی کبھی ایسے افراد کو کسی حد تک سینٹ میں لایا جاتا ہے۔ سوئم آج کی انتخابی سیاست کے جو رموز اور مروجہ طریقہ کار ہیں اس میں بھی کسی بھی سطح پر پروفیشنل لوگ پورے نہیں اترتے۔ چہارم دولت کی بنیاد پر ہونے والی سیاست میں بھی پروفیشنل لوگ بہت پیچھے ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ براہ راست انتخاب لڑنا ممکن نہیں۔پنجم سیاسی قیادت اپنے قریب بہت سے پڑھے لکھے او رپروفیشنل لوگوں کو اپنے قریب نہیں لاتی اوران کے بارے میں بلاوجہ ایک خوف پایا جاتا ہے۔
قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی سطح پر براہ راست انتخاب جیتنے والوں کا راستہ تو موجود ہے۔اسی طرح عورتوں، اقلیتوں کے لیے مخصوص طرز پر نشستوں کا انتظام موجود ہے جو ان کی پارلیمان میں موجودگی کو ممکن بناتاہے۔ جبکہ اس کے برعکس پارلیمان میں پروفیشل لوگوں کی آمد کو یقینی بنانے کا کوئی نظام موجود نہیں۔ ایسے افراد عملی طو رپر مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں او راگر وہ قیاد ت کے خوشامدی کلچر کا حصہ بن جائیں توان کے لیے کچھ راستہ موجود ہوتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں پڑھے لکھے افراد کی او ربالخصوص مختلف امو رکے ماہرین سیاسی تنہائی کا شکار ہوتے ہیں یا خود کو سیاسی نظام سے لاتعلق کرلیتے ہیں۔ حالانکہ مختلف امور سے تعلق رکھنے والے بہت سے اہم ماہرین موجود ہوتے ہیں او ران کی حکمرانی کے نظام میں موثر اور شفافیت کو پیدا کرنے میں اہم کردار بن سکتا ہے۔ مگر اس سے استفادہ نہیں کیا جاتا۔
حکمرانی کا جو بھی نظا م اپنے سماج میں موجود انسانی وسائل سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو یہ اس نظام کی قیادت کی ناکامی ہوتی ہے۔کیونکہ جو سیاسی نظام خود کو عقل کل سمجھے اور پارلیمان میں موجود افراد محض اپنی دانش پر ہی ناز کریں اور باہر بیٹھے ہوئے مختلف امو ر کے ماہرین کو اہمیت نہ دیں تو یہ سیاسی او رحکمرانی کے نظام کی زوال کے زمرے میں آتا ہے۔یہ جو تعلیم،صحت، روزگار، معیشت، ماحولیات، سیکورٹی، قانون، انصاف کا نظام اس ملک میں چلایا جارہا ہے او راس کی جو ابتری پر مبنی کہانی ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے افراد ان خرابیوں کو ختم یا کم نہیں کرسکے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ان لوگوں میں صلاحیت نہیں بلکہ اصل مسئلہ ان کی سیاسی ترجیحات کا ہے۔ ہم پاکستان میں چلنے والے بہت سے میگا پراجیکٹ کی کہانیوں کا تجزیہ کرسکتے ہیں جس کا جائزہ لیں تو اس میں سیاسی افراد او ران شعبہ جات کے ماہرین کی رائے اور سوچ مختلف ہوگی۔لیکن سیاسی نظام میں جڑے افراد پروفیشنل لوگوں پر اپنی سوچ یا خواہش کو مسلط کرکے سیاسی نظام سمیت حکمرانی کے نظام میں عد م شفافیت کو پیدا کرتے ہیں۔
سیاسی نظام کی ایک ناکامی یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتیں جو خاص طور پر اقتدار او رحزب اختلاف کا حصہ ہوتی ہیں ان میں مختلف شعبہ جات کے حوالے سے مختلف امور کے ماہرین کا کوئی تھنک ٹینک نہیں ہوتا جوان اہل افراد سے راہنمائی لے کر سیاسی او رحکومتی نظا م کو چلاسکے۔ بالخصوص جب آپ حکمرانی کے نظام کا حصہ بنتے ہیں تو سب سے پہلے اچھی حکومت کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ مختلف ماہرین کی مدد سے اپنا حکمرانی کا نظام وضع بھی کرتی ہے او ران کی مدد سے اسے بہتر انداز میں چلایاجاتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے آتے ہی ایک اچھا کام پندرہ رکنی اقتصادی کونسل کی تشکیل سے کیا تھا جس میں مختلف معاشی ماہرین اس کا حصہ بنائے گئے۔ دلیل یہ دی گئی کہ یہ معاشی ماہرین حکومتی معاشی پالیسیوں کو بنانے او راسے بہتر انداز میں چلانے کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔
بدقسمتی سے یہ تجربہ اچھے انداز میں نہیں چل سکا او رباہمی چپقلیش نے ان ماہرین کو بھی مایوس کیا کیونکہ جب فیصلے اس کونسل سے باہر ہوں گے تو اس طرز کے فورم کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔
اچھی حکومت کا تصور اور خاص طور پر حکمرانی کے نظام کو موثر بنانے کے لیے منتخب اور غیر منتخب ماہرین کے درمیان حکومت سازی میں ایک توازن درکار ہے۔اس کے لیے ہمیں پارلیمانی سیاست اور حکمرانی کے نظام کو چلانے میں مختلف ماہرین کے لیے سیاسی راستہ تلاش کرنا ہوگا، کیونکہ اس فکر سے نظام کی اصلاح بھی ممکن ہوگی اور نظام بہتر طور پر آگے بڑھ بھی سکے گا۔ اس کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے یہ کام اہل سیاست اور اہل پارلیمان کا ہے کہ وہ خود ایسی حکمت عملی اختیار کریں جو نظام میں اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھاسکے۔ یہ طرز عمل کہ ہم ان غیر منتخب افراد کو جو مختلف ماہر شخصیات ہیں کہ ان کوسیاسی طعنے دیں مناسب عمل نہیں اور یہ عمل زیادہ حوصلہ شکنی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
بہت سے ملکوں کی پارلیمان میں جہاں مختلف نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوتے ہیں تو ان تمام نشستوں میں سے ایک حصہ ایسے افراد کے لیے رکھا جاتا ہے جو مخصوص نشستوں پر بطور پروفیشنل یا ٹیکنوکریٹ سامنے آتے ہیں۔ہمیں ٹیکنوکریٹ کی نشستوں کا بھی طریقہ کار طے کرنا چاہیے۔کیونکہ ہم نے دیکھا ہے سینٹ جیسے اہم ادارے میں ایسے ایسے نااہل افراد کو سیاسی اقراپروری کی بنیاد پر ٹکٹیں دی جاتی ہیں جو اہلیت ہی نہیں رکھتے۔جبکہ تعلیم کی پابندی شرط کی وجہ سے بھی اچھے او رپڑھے لکھے افراد کا پارلیمانی سیاست کا حصہ نہیں بن پاتے۔
جمہوری او رپارلیمانی نظام بنیادی طو رپر سیاسی اصلاحات سے جڑا نظام ہے۔ سیاسی قیادت نظام میں ایسی پائدار اصلاحات کو سامنے لاتی ہے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سیاسی او رحکمرانی کے نظام میں ملکیت کے احساس یا حصہ دار بناتی ہیں۔لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی اصلاحات سے بہت دور ہے او رہم اب بھی پرانی اور روائتی طرز کی سیاست کی مدد سے حکمرانی کا نظام چلارہے ہیں جو ہمیں وہ نتائج نہیں دے رہا جو ہمیں درکار ہیں۔ یہ ہی ہماری حکمرانی کے نظا م کا بحران ہے او راس کا علاج تلاش کرنا اہل سیاست کی بنیادی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے۔