فاٹا انضمام سے ڈاکٹر شکیل آفریدی اور ہزاروں سزا یافتہ افراد کو فائدہ ہوگا

  • جمعہ 10 / مئ / 2019
  • 6090

القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے میں مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے جرم میں سزا یافتہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو وفاق کے زیر انتظام سابق قبائلی علاقوں (فاٹا) کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام سے فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی قبائلی علاقوں کے پرانے قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز (ایف سی آر) کے تحت قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ انضمام سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے علاوہ  فاٹا کی عدالتوں سے سزا یافتہ دوسرے ہزاروں افراد کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ کے مطابق سابق فاٹا کی عدالتوں میں زیرِ التوا تمام کیس بشمول اپیلیں اب باقاعدہ عدالتوں میں سنی جائیں گی۔ سابق فاٹا میں ایف سی آر کے قانون کے تحت قائم عدالتوں کی صدارت انتظامی افسران یعنی پولیٹیکل ایجنٹ (پی اے) اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ (اے پی اے) کرتے تھے۔

عبدالطیف آفریدی کے مطابق ’وہ عدالتیں کسی قانون یا ضابطے کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتی تھیں بلکہ انتظامی افسران کی مرضی پر چلتی تھیں۔‘ انہوں نے کہا کہ نہ وہاں کوئی شہادت ہوتی تھی اور نہ ہی کسی ثبوت کے پیش کی ضرورت محسوس کی جاتی تھی۔ اکثر ’فیصلے غلط اور بدنیتی پر مبنی‘ ہوتے تھے۔

فاٹا کی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا واحد فورم فاٹا ٹریبونل تھا، جو سینئیر ریٹائرڈ سرکاری افسران اور ایک وکیل پر مشتمل ہوتا تھا۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم کا کہنا ہے کہ فاٹا کی کسی بھی عدالت میں قانون سے واقفیت رکھنے والے لوگ نہیں ہوتے تھے اور اسی وجہ سے اکثر فیصلے انصاف اور قانون کے تقاضوں سے متصادم ہوتے تھے۔

گزشتہ سال سابقہ فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام عمل میں آیا، جس کے بعد قبائلی علاقوں کی عدالتوں میں تمام کیس انسداد دہشت گردی، سول ججز اور سیشن ججز کی عدالتوں کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ فاٹا ٹریبونل میں زیر التوا اپیلیں پشاور ہائی کورٹ میں سنی جائیں گی۔

سابقہ فاٹا کی عدالتوں میں زیر التوا تقریباً چار ہزار کیس اور اپیلیں خیبر پختونخوا کے محکمہ قانون کو منتقل کی گئی ہیں، جہاں سے ہر کیس متعلقہ عدالت کو بھیجا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی اپیل اب پشاور ہائی کورٹ کا بنچ سنے گا۔