ہمارے دل ہر لاپتہ شخص کے اہلِ خانہ کے ساتھ دھڑکتے ہیں: آصف غفور

  • جمعہ 10 / مئ / 2019
  • 5800

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ہمارے دل تمام لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

ایک ٹوئٹ پیغام میں  انہوں نے کہا کہ ہم ان خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کی کوششوں میں ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں فوجی جوانوں نے اپنے ہم وطن پاکستانیوں کے تحفظ کے لیے جانیں قربان کیں، وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاسکتے۔  انہوں نے تاکید بھی کی کہ کسی کو بھی کسی بھی طرح اس معاملے کو خراب نہ کرنے دیا جائے۔

پاکستان میں لاپتہ افراد یا جبری گمشدگیوں کا معاملہ بہت سنگین ہے۔ ان افراد کے اہلِ خانہ  دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے عزیزوں کو جبری طور پر سیکیورٹی ادارے لے جاتے ہیں اور انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا۔

یاد رہے کہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے حراست میں لیے جانے والے یا جبری طور پر گمشدگی کا شکار سینکڑوں افراد کو کچھ عرصے کے بعد مبینہ طور پر پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جعلی مقابلوں میں ہلاک بھی کیا گیا اور اس حوالے سے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ سابق ایس ایس پی راؤ انوار پر 400 سے زائد افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کرنے کا الزام ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی متعدد بار اس معاملے پر آواز اٹھاتی رہی ہیں اور لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایات پر وزارت داخلہ نے جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں 2 رکنی کمیشن قائم کیا تھا جس کے دوسرے رکن انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبر پختونخوا ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2011 سےکمیشن کو جبری گمشدگیوں کے حوالے سے 5 ہزار 3 سو 69 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 3 ہزار 6 سو کیسز کو خارج کردیا گیا جبکہ ان میں سے 2 ہزار لوگوں کی موجودگی کے حوالے سے کمیشن کو معلومات حاصل نہیں ہوسکیں۔

ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کمیشن کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فورم لاپتہ افراد کو بازیاب کروانے میں ناکام رہا ہے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ کے مطابق شکایت موصول ہونے پر کمیشن انکوئری کا آغاز کرتا ہے اور جب انہیں خفیہ اداروں کے حکام کی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص ان کی حراست میں تفتیش کے مرحلے میں ہے تو شکایت کو خارج کردیا جاتا ہے۔