سفر در سفر ۔ 7 ۔ اواری ہوٹل میں تفتیشی سیشن
- تحریر مسعود مُنّور
- جمعہ 10 / مئ / 2019
- 7190
جمخانہ کے بعد اگلا پڑاؤ اواری ہوٹل میں جناب اسداللہ غالب کی دعوتِ شیراز تھی ۔ جہاں تک مجھے یاد ہے اکتوبر 1079 تک لاہور میں اس نام کا کوئی ہوٹل نہ تھا ۔غالباً میرے دربدری کے زمانے میں اس ہوٹل کا جنم ہوا ۔ یہاں ایک گول میز قسم کی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا لیکن یہ سلسلہ کب سے چل رہا ہے ، میں نہیں جانتا ۔
اس میٹنگ میں بیشتر مہمانوں کو مدعو کرنے کا کام صحافت کے شہزادے ریاض صحافی نے کیا تھا ۔ یہاں جن پُرانے دوستوں سے مُلاقات ہوئی اُن میں شمس الشعراء شعیب بن عزیز ، دانشمندِ گرامی وحید رضا بھٹی اور ملکہ داستان سرائی نیلم احمد بشیر بھی تھیں ۔ اگرچہ دربدری کے زمانے میں شعیب بن عزیز سے اوسلو میں اور نیلم احمد بشیر سے پٹیالہ کی پنجابی یونیورسٹی میں ملاقاتیں ہو چکی تھیں لیکن وحید رضا بھٹی کو لگ بھگ چالیس برس بعد دیکھ رہا تھا ۔ اُن کے چہرے میں محبت کی وہی سدا بہار رمق تھی جو زمانہ طالب علمی میں ہوا کرتی تھی اور آنکھوں کے چاند ہمیشہ کے طرح دوستی اور مروت کی چاندی تقسیم کر رہے تھے ۔
میں شاید اپنے ہمراہیوں کی عجلت پسندی کی وجہ سے وقت سے کچھ پہلے اواری پہنچ گیا تھا اس لیے مجھے انتظار کے لیے لابی میں ایک کرسی پر رکھ دیا گیا ۔ اس نجی تنہائی کے سرگم میں محسوس ہوا کہ مجھے " واچ" کیا جا رہا ہے ۔ اس پر میرا ماتھا ٹھنکا کہ کہیں اڈیالہ والوں نے میرے نام کا سیل تو مخصوص نہیں کر رکھا ۔ مگر اچانک ایک با وردی سیکیورٹی والے نے جو دو تین بار میرا طواف کر چکا تھا ، مجھ سے پوچھا کہ میں کہیں انور مقصود تو نہیں ؟ جی نہیں میں حیدر آباد دکن کا دانشور نہیں بلکہ کنارِ چناب کا جانگلی ہوں تو یہ سُن کر وہ وردی پوش نودو گیارہ ہو گیا اور میری جان میں جان آئی ۔
اتنے میں میزبان کی آمد آمد ہوئی ۔پھر مہمان بارش کے اِکّا دُکّا قطروں کی طرح رم جھم برسنے لگے اور تقریباً نصف ساعت میں جل تھل ہوگیا ۔ گول میز کانفرنس سج گئی ۔ میں نے گنا تو نہیں مگر بیس کے قریب لوگ ہوں گے۔ میں شعیب بن عزیز کی بغل میں بیٹھا خود کو محفوظ محسوس کر رہا تھا ، کیونکہ وہاں موجود بیشتر لوگ میرے لیے شناسائی کی مسکراہٹ پہنے ہوئے نہیں تھے ۔ گول میز کانفرنس شروع ہوئی تو لگا کہ میرا پینل انٹرویو ہو رہا ہے یا میرے دربدری کے زمانے کا سکرپٹ لکھا جا رہا ہے۔ اچانک شعیب بن عزیز نے میزبان کے پاس رکھے موبائل کی موجودگی پر اعتراض کیا کہ ساری گفتگو ٹیپ کیوں کی جا رہی ہے اور اُنہوں نے باقاعدہ مطالبہ کیا کہ اس ریکارڈ شدہ بات چیت کو ڈیلیٹ کیا جائے ۔وہ متذکرہ موبائل لے کر کمرے سے باہر بھی گئے مگر پھر کیا ہوا ، میں نہیں جانتا اور نہ ہی میں نے پوچھنے کی ضرورت محسوس کی تھی ۔
مجھ سے بار بار ایک ہی سوال کیا جاتا رہا کہ میں بھارت میں اپنے قیام کے دوران کیا کرتا رہا ؟ میں وہی کرتا رہا جو وہاں کے بائیس کروڑ مسلمان اور دوسری غیر ہندو ملتیں کرتی رہی ہیں ۔ کھانا ، پینا ، سونا اور اپنی اپنی ڈفلی بجانا ۔ لیکن میں نے دھریندر برہمچاری کے آشرم میں یوگا سیکھا اور سادھوؤں کے ساتھ ہندوستان گھوما۔ میں چار برس تک ہندوستان میں بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے رہا اور مجھ سے کسی نے اس لیے کچھ نہیں پوچھا کہ میں کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث رہا اور نہ ہی کسی سرکاری بھارتی ادارے سے رابطے میں تھا ۔ اس پر غالباً نیلم احمد بشیر نے کہا کہ یہ تو جاسوسوں والا انداز ہوا ۔ تس پر میں نے کہا کہ میں پاکستان کے عوام کا جاسوس تھا جو کسی سرکاری ادارے کا مہمان نہیں بلکہ اپنی اُفتادِ طبع کا سفیر تھا ۔ وہاں اُن دنوں فہمیدہ ریاض بھی تھیں جو اپنے بھاری بھرکم سندھی شوہر ظفر اُجُن کے ساتھ بھارت سرکار کی پناہ میں تھیں ۔ کیا اُن سے بھی کسی نے پوچھا ؟ بلکہ ایک بار ظفر اُجّن نے مجھ سے کہا کہ کوئی ادارہ یہ چاہتا ہے کہ میں اُن کے لیے کام کروں ، پاکستان جاؤں اور اُن کے دیے ہوئے پروگرام کو عملی جامہ پہناؤں تو میں نے ٹھینگا دکھا دیا ۔
میں نے کہا کہ میں نے زندگی بھر کام نہیں کیا ۔ صرف آوارگی کی ہے یا عیاشی ۔ میں عمر بھرخُدا کے مختلف مذاہب کا طالب علم رہا ہوں اور مذاہبِ عالم سے فلرٹ کرتا رہا ہوں ۔ میں کوئی سیاسی مچھر نہیں کہ کسی سرکاری ادارے کی فرمائش پر سیاسی ملیریا کا باعث بنوں ۔ مجھے معاف رکھیے ۔ اگر میں نے کتابوں کے تراجم کر کے ، جن میں خوشونت سنگھ کی ٹرین ٹو پاکستان ، امرتا پریتم کی ناول " دوسری منزل " اور شعری مجموعے کاغذ اور کینوس شامل ہیں ، اپنی کفالت کی تو میں نے کسی بھی حکومتی ساز باز میں شرکت نہیں کی ۔مجھے بھارت کے کسی بھی ادارے کی مالی مدد حاصل نہیں رہی ۔ پاکستان یا بھارت کا کوئی ادارہ یہ نہیں کہ سکتا کہ کسی نے مجھے چار برسوں میں مالی مدد فراہم کی ہو ۔ اس کے بجائے میں نے اپنی حماقتوں اور اپنی نجی بیوقوفیوں کو اپنا اثاثہ جانا اور اپنی مسکینی و مفلسی میں خوش رہا ہوں ۔ میں نے پاکستان میں بھی کسی سیاسی جماعت سے نوکری یا رہائشی پلاٹ نہیں لیا ۔ تو اسد اللہ غالب بولے کہ تمہاری پلاٹ کی درخواست موصول ہو گئی ۔ خیر میں اُن کے اس ریمارک پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا ۔ کچھ دوستوں نے میری شاعری کے بارے میں باتیں کیں ۔ شعیب بن عزیز نے میرے کچھ اشعار بھی سنائے ۔ اںہوں نے میرا شعر پڑھا:
میں نے تو خانقاہ میں چھپ کر گزار لی
اُس نے محل خرید لیا اور کار لی
اور پھر میرے اس خیالی محل کی بات کی جس کا کوئی وجود ہی نہیں اور رہی کار کی بات تو ناروے کی ساری اجتماعی ٹرانسپورٹ میری خدمت کے لیے موجود ہے تو میں خدا کی ایجاد کردہ ہوا کو گاڑی کے دھوئیں سے آلودہ کیوں کروں ۔ مجھ سے میری نظم "لوحِ محفوظ "بھی سنی گئی جو میں نے ستر کی دہائی میں لاہور میں لکھی تھی ۔ اس نظم کا چربہ لاہور کے ایک نامور متشاعر نے کیا اور اُسے اپنے دیوان میں ڈال لیا ۔ میں نے متشاعر کا نام نہیں لیا مگر محفل میں شریک دو اصحاب نے نام افشا کر کے بھانڈا بیچ گول میز کانفرنس کے پھوڑ دیا ۔ مگر میں نے کسی کی طرف انگشت نمائی نہیں کی ۔
پاکستان میں ہی نہیں ، دنیا میں ہر جگہ ایسے کاپی پیسٹ لوگ پائے جاتے ہیں جو مالی مفادات کے عوض کسی ویشیا کی طرح بک جاتے ہیں ۔ کمزوروں اور مجبوروں سے نفرت کرتے ہیں اور اگر اُنہیں کسی فقیر کی گودڑی میں کوئی نایاب پتھر نظر آ جائے تو اُسے ہڑپ کرنا اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں ۔ اُن کا خیال ہے کہ ہر اچھی تخلیق پر اُنہی کا حق ہے اور بعض متشاعر تو یہ بھی کہتے ہیں کہ میر اور غالب نے اُن کے دیوان چوری کر کے اپنے نام سے چھپوا لیے تھے ۔ ایسے کلا کاروں کی جمع پونجی صرف یہی حربے اور سرقے نہیں بلکہ اُن کی تحویل میں گالیاں ، الزام تراشیاں اور تہمتیں بھی ہیں جو وہ اُن لوگوں کے نام کرتے رہتے ہیں جن کی تحریروں کو وہ اپنے کاغذی حرم کی زینت بنا لیتے ہیں ۔ اور چونکہ وہ حکمرانوں کے چاپلوس اور خوشامدی ہوتے ہیں، اس لیے وہ اپنا استحقاق سمجھتے ہیں کہ اقبال ساجد جیسے مسکینوں سے زرِ شعر چھین کر اپنے اکاؤنٹ میں جمع کر لیں ۔ وہ سجھتے ہیں کہ وہ کھاتے پیتے گھرانوں کے لوگ ہیں اوربے سروسامانوں کو فُقرے کہ کر اُن سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔
کھاتے پیتے گھرانوں کا ایک لطیفہ سائیں منیر نیازی نے ایجاد کیا تھا کہ جب یارانِ جام و مینا شاموں کو ٹی ہاؤس کے اوپن ائر میکدے میں جمع ہوتے تو وہ کہتے کہ ہم کھاتے پیتے گھرانے کے لوگ ہیں جس پر سلیم شاہد لقمہ دیتے کہ کھاتے کم اور پیتے زیادہ ہیں ۔
بات کہاں سے کہاں نکل گئی ۔ جو احباب اواری ہوٹل میں بہرِ مکالمہ جمع تھے ، اس گفتگو سے مطمئن تھے ۔ میری خوش قسمتی کہ ہمارے عہد کے ایک مہان دانشور احمد بشیر کی بیٹی نیلم میرے لیے اپنی پھوپھی پروین عاطف کی کتاب لائیں جو آٹو گراف کے ساتھ مجھے عطا کی گئی ۔ اس وقت مجھے اُن کا ناول " طاؤس فقط رنگ" یاد آیا جو اس عہد میں لکھے گئے ناولوں میں ایک منفرد تخلیق ہے جسے میں نے لاہور سے بطورِ خاص منگوا کر پورا پڑھا جس پر میرا تبصرہ ایک الگ باب ہے ، جو جلد ہی شائع ہوگا ۔ تاہم مجھے اعتراف ہے کہ اس محفلِ یارانِ لوح و قلم نے مجھے سرشار کر دیا ۔( جاری ہے )