پاکستانی معیشت کے بگڑے سنورتے معاملات

حال ہی میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشائی گرقیاتی بینک نے پاکستانی معیشت پر دباؤ، جی ڈی پی گراؤتھ بے روز گاری میں اضافے اور آئندہ دو سالوں میں معاشی بد خالی کی پیش گوئی کی ہے۔ وہ  باعث تشویش ہے۔
پاکستان کو مشرق وسطیٰ شمالی افریقہ اور افغان گروپ MENAPمیں رکھا گیا ہے جن کی معیشتوں کے مستقبل کا انحصار تیل کی قیمتوں پر ہوگا۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ ایکسپورٹ وانٹڈ میں پاکستان کی معیشت کو مایوس کن قرار دیا ہے اور کہا ہے آئندہ سالوں میں پاکستان کی ترقی کی شرح سست روی کا شکار رہے گی۔ عالمی بینک کی ساؤتھ ایشیاء اکنامکس فوکس رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والا خطہ ہے جہاں رواں سال اوسط جی ڈی پی بڑھ کر7%ہو جائے گی اور 2020.21میں 7.5%ہو جائے گی۔ جس میں چین6.3%اور بھارت 7.3%اونچی گراؤتھ کے ساتھ سر فہرست ہوں گے۔ جبکہ پاکستان میں  بد ترین اقتصادی صورت حال کی وجہ سے بہت کم پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ عالمی بینک نے عندیہ دیا ہے کہ اگر پاکستان معاشی اصلاحات کرتا ہے تو 2021میں ہماری شرح نمو بہتر ہو کر4%تک پہنچ سکتی ہے۔ فصلوں کو پانی کی کم دستیابی اور پنجاب میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے رواں سال زرعی شعبہ 3.8%گروتھ حاصل نہیں کر پائے گا۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری اور مینو فیکچرنگ شعبے کی گروتھ میں کمی آئی ہے، برآمدات میں 7.5%کمی ہوئی ہے۔
حکومت ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے اصلاحات کرنے میں ناکام رہی ہے برآمد کنندگان کو ٹیکس ریفنڈ نہیں دیئے گئے۔عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کم ترین ترقی کی شرح نمو اور غیر تسلی بخش معاشی کارکردگی کے باعث سرمایہ کاری نہیں آ رہی ہے، روپے کی گرتی ہوئی قدر کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی ہے۔ مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق 9ماہ میں غیر ملکی قرضے 95.34ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ گردشی قرضے اور نقصان میں چلنے والے ادارے قومی خزانے پر مسلسل بوجھ ہیں۔ اس صورتحال کی ذمہ داری مسلم لیگ ن کے وزیر خزانہ پر بھی ڈالی جا سکتی ہے جس نے روپے کی قیمت پر مصنوعی طور پر ڈالر کے مقابلے میں بڑھنے سے روکا تھا۔
 ملکی شرح نمو میں اضافے کیلئے قرضہ جات کے ذریعے ترقیاتی کام کروائے گئے جس سے قومی آمدنی میں کوئی اضافہ نہ ہوا اور قرضوں کا بوجھ مزید بڑھتا گیا۔
عمران خان کی حکومت کرپشن کے  خلاف احتساب کے نام پر بر سر اقتدار آئی تھی مگر اس نے اقتدار میں آنے سے قبل کوئی معاشی منصوبہ بندی یا روڈ میپ نہیں بنایا تھا جس سے معاشی مسائل سے نمٹا جا سکتا تھا۔  اس نے عالمی اداروں سے قرضہ جات نہ حاصل کرنے کے نعرے لگائے، عمران خان کو یقین تھا کہ بیرون ملک پاکستانی اس پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بھاری رقوم بھجوائیں گے مگر ایسا نہ ہو سکا۔ اور نہ ہی دو سو ارب ڈالر لانے کے وعدے کو پورا کیا جا سکا۔  اسد عمر کو ماہر معاشیات کے طور پر ابھارا گیا اور اس کے ساتھ تمام امیدیں وابستہ کی گئیں مگر اس کی پالیسیوں سے کوئی تبدیلی نہ آئی۔ نہ ٹیکس کی ریکوری میں اضافہ ہوا بلکہ مہنگائی اور بے روز گاری میں اضافہ ہونے سے لوگوں کی مایوسی میں اضافہ ہوا۔
 یاد رہے کہ پاکستانی سابق حکومت نے ملکی معیشت کو کفالت کی طرف لے جانے کی نیم دلی کے ساتھ کوششیں کی تھیں۔ ان کی معاشی پالیسیوں کی ہمیشہ سیاسی ترجیحات رہی ہیں۔ ملکی صنعت کاروں نے اپنی مصنوعات کو ویلیو ایڈٹ اور جدید بنانے کی بجائے روایتی مہارتوں سے کام کیا جس کے نتیجہ میں ہماری مصنوعات مہنگا اور غیر معیاری ہونے کی وجہ سے بیرونی منڈیوں میں اپنی کھپت کی گنجائش کھو بیٹھی۔ قرضہ جات پر انحصار کیا جاتا رہا ملک میں ریاستی بد انتظامی کی وجہ سے حاصل کردہ قرضوں سے سٹکچر اور مالی اصلاحات سے عالمی مالیاتی ادروں کی ہدایات کے تحت روڈ میپ پر عمل کرنے میں ناکام رہیں۔
ہمارے حکمرانوں نے ملک میں اقتصادی بحالی کیلئے ہمیشہ آئی ایم ایف اور مالیاتی اداروں کی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کے غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کو بر طرف کر کے قابل کابینہ بنائی تو اس کا سربراہ محمد علی بوگرا،  امریکہ سے لایا گیا۔ ایوب خان کے وزیر خزانہ کا تعلق ورلڈ بینک سے تھا ڈاکٹر مبشر حسن کے فارغ ہونے کے بعد ورلڈ بینک کے محبوب الحق کو وزیر خزانہ کی ذمہ داری سونپی گئی جس نے معیشت میں بہتری کیلئے بہت سی تجاویز دیں۔ جس میں عام آدمی کیلئے ریلیف رکھا گیا تھا۔مگر جنرل ضیاء الحق اس کی پالیسیوں پر عمل نہ کر سکا۔اس کی بنیادی وجہ افغان جہاد کے حوالے سے ملنے والے بے پناہ امداد اور عالمی ملکوں کی طرف سے امدادیں شامل تھیں۔
عالمی مالیاتی اداروں کی دین میں معین قریشی جس کے پاس پاکستان کا شناختی کارڈ بھی نہیں تھا وہ وزیر اعظم رہا۔ شوکت عزیز سٹی بینک سے تعلق رکھتا تھا۔موجودہ مشیر خزانہ خفیظ اللہ شیخ ایشین ڈویویلپمنٹ بینک اور ورلڈ بینک میں کام کر چکے ہیں، شوکت عزیز اور حفیظ شیخ کی جوڑی نے مشرف دور حکومت میں سرکاری اداروں کو تیزی سے بیچا۔ پی ٹی سی ایل کو عرب امارات کی کمپنی کو فروغ کر دیا گیا جس سے 8سو ملین کی ادائیگی ابھی تک رکی ہوئی ہے۔ بہر صورت ان دونوں کی کارکردگی کی وجہ سے آئی ایم ایف کے قرضوں کی وصولی بہتر رہی۔ نجکاری سے دس لاکھ افراد بے روز گار ہوئے ایک کلو واٹ بجلی نہیں پیدا کی گئی۔ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے صنعتی ترقی بری طرح سے متاثر ہوئی۔ معاشرے کو پیدا واری شعبوں کی بجائے سروسز اور صارف کی فنانسنگ کی طرف گامزن کیا گیا۔کھاد کے تمام کار خانے فروخت کر دیئے گئے۔ حبیب بینک، الائیڈ بینک اور یونائیٹڈ بینک کو اونے پونے داموں فروخت کر دیا گیا۔
 پاکستان میں سب سے زیادہ ترقی بینکوں نے کی ہے مگر پھر بھی معیشت زوال پذیر ہوئی۔ عبدالحفیظ شیخ کی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک سب سے زیادہ متاثر ہوا جو کے 36%سے کم ہو کر15%رہ گیا۔  عمران خان اپنی 22 سال کی جدو جہد کے دوران تحریک انصاف میں معاشی امور کے ماہرین کو شامل نہ کر سکا جس کی وجہ سے آج سابق حکومتوں کی طرح اس کو آئی ایم ایف کے ماہرین معیشت کی امداد لینی پڑ رہی ہے۔جس پر اپوزیشن تنقید کر رہی ہے مگر یہ سب کچھ مجبوری کے تحت کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ آئی ایم ایف قرضہ دینے سے پہلے ان قرضوں کی وصولی کے بارے میں تحفظات چاہتا ہے اور اس کے سر براہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے بندوں کو لگا کر ہی مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔
 حکومت نے اسٹیٹ بینک کیلئے بھی آئی ایم ایف کا ملازم سید باقر رضا کا چناؤ کیا ہے۔ وہ افریقی ممالک، یونان، مصر، یوکرائین، بلغاریہ اور رومانیہ میں معاشی پالیسیاں بناتا رہا ہے، آئی ایم ایف نے باقر رضا کی نگرانی میں کئی اصلاحات کیں تا کہ صحت، تعلیم اور انفارسٹرکچر میں جگہ پیدا کی جا سکے، مگر عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس فنانسنگ کیلئے آنے والے ممالک معاشی مسائل میں پھنس جاتے ہیں۔ اس میں یونان، ارجنٹائن، سپین اور افریقہ کے ممالک شامل ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت میں عالمی مالیاتی اداروں کے ماہرین کی معاونت کوئی نئی بات نہیں ہے جس کی بنیادی وجہ ہماری بیورو کریسی میں ایسے ماہرین کی عدم موجودگی ہے یا تکنیکی مہارتوں کا فقدان ہے۔ کیونکہ وہ عالمی معیشت کی جزیات اور پچیدگیوں سے لا علم ہے۔ یہی وجہ ہے ہماری معیشت عالمی اداروں کی گرفت سے باہر نہیں نکل سکی ہے۔
ہمارے ادارے ٹیکس وصولی میں ناکام رہے ہیں آج نئے ٹیکس لگانے کی بجائے پہلے سے عائد شدہ ٹیکسوں کی ریکوری میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ رئیل اسٹیٹ اور کارپوریٹ کو ریگو لائز کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت نے ٹیکس کے ماہر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ شبر زیدی کو سی بی آر کا چیئر مین لگانے کا نوٹیفکیشن کیا ہے۔ وہ ملک کی سب سے بڑی آڈٹ کمپنی فرگوسن کے ڈائریکٹر ہیں اور انہیں کارپوریٹ سیکٹر کے اداروں کے اربوں روپے کے ٹیکسوں کے مقدمات کی پیروی کی ہے۔ شبر زیدی کیلئے سب سے بڑا چیلنج ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھانا ہے اور اس ادارے میں سالوں سے جاری کرپشن کو ختم کرنا ہے۔ جس کیلئے افسران کے صوابدیدی اختیارات میں کمی کرنے کی ضرورت ہے۔تا کہ محصولات کی وصولی میں اضافہ ہو سکے۔وہ کیونکر ایف بی آر میں اصلاحات کرتے ہیں یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
یاد رہے کہ نواز شریف کے عہد میں 8سو ملین روپیہ حکومت کو دیا گیا تھا تا کہ ٹیکس ریکوری کے نظام میں بہتری لائی جا سکے مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہو سکا۔تازہ خبر کے مطابق حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پا چکے ہیں جس کے مطابق  ساڑھے7سو ارب روپے کے مزید ٹیکس لگائے جائیں گے۔ مختلف شعبوں کو دی جانے والی امدادی رقوم ختم کی جائیں گی۔ بجلی اور گیس کے مزید نرخ بڑھائے جائیں گے جبکہ ڈالر کی قیمت میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا رہے گا۔اگر حکومت نے ملک کے امیر طبقات پر ٹیکس نہ لگائے جس میں سب سے ہم کام براہ راست ٹیکس لگانا ہے تو بحرانی کیفیات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔امیر طبقے کے دولت اور اثاثوں میں اضافہ ہوتا رہے گا جبکہ ریاست معاشی طور پر کمزور ہوگی۔معیشت کی پچیدگیوں اور بد عنوان سسٹم سے نجات دلانے کیلئے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے جس کیلئے ادارتی صلاحیتوں اور مہارتوں میں اضافہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔