ایران کے خلاف حصار بندی: امریکہ نے پیٹریاٹ میزائل اور بی 52 بمبار مشرق وسطیٰ روانہ کردیے

  • ہفتہ 11 / مئ / 2019
  • 11920

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہؤا ہے۔ جس کے بعد امریکی حکام نے فضائی دفاع کے میزائل سسٹم ’پیٹریاٹ‘ کو اپنے جنگی بحری بیڑے یو ایس ایس آرلنگٹن کے ہمراہ مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا ہے۔

یو ایس ایس آرلنگٹن خلیجِ فارس میں پہلے سے تعینات یو ایس ایس ابراہم لنکن سے جا ملے گا۔ پنٹاگون کا کہنا ہے کہ بمبار B-52 طیارے بھی قطر میں امریکی فوجی اڈّے پر اُتر گئے ہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ فوجی تعیناتیاں ایران کی جانب سے خطے میں امریکی افواج کو لاحق خطرے کے پیشِ نظر کی جا رہی ہیں۔

امریکہ نے ان دھمکیوں کی نوعیت سے متعلق بہت کم معلومات دی ہیں جنہیں ایران نے ’احمقانہ‘ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتیاں نفسیاتی جنگی حربہ ہیں جن کا مقصد ایران کو دھمکانا ہے۔

ایک بیان میں پینٹاگون کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتا لیکن واشنگٹن ’خطے میں امریکی افواج اور مفادات کی حفاظت کے لیے تیار ہے۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہِ دفاع ایرانی حکومت کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کر رہا ہےاور کسی ممکنہ حملے کے پیشِ نظر فضائی دفاع کے میزائل سسٹم ’پیٹریاٹ‘ کو بھی تعینات کیا جا رہا ہے۔ یہ میزائل سسٹم بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور جدید جنگی طیاروں کی روک تھام کے لیے بنا ہے۔

امریکی حکام نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ یو ایس ایس آرلنگٹن کو پہلے ہی خطے میں بھیجے جانے کا ارادہ تھا لیکن اس کی تعیناتی اس وقت اس لیے عمل میں لائی گئی ہے تاکہ بہتر کمانڈ اور کنٹرول کی صلاحیتیں فراہم کی جا سکیں۔

گزشتہ اتوار امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کو 'واضح اور دو ٹوک پیغام بھیجا جائے گا‘ کہ اس خطے میں امریکی مفادات پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

امریکی بحریہ کی اطلاع کے مطابق، ابراہم لنکن نامی طیارہ بردار امریکی بحری جہاز صدر ٹرمپ کے حکم پر بحیرہ روم سے بحیرہ احمر میں داخل ہوگیا ہے۔ اب یہ مشرقِ وسطیٰ میں سینٹرل کمانڈ یا سینٹکام کہلانے والی امریکی کمان کے تحت امریکی تنصیبات کی حفاظت کرے گا۔ ابراہم لنکن اب امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کا حصہ بن جائے گا۔

اسی پس منظر میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے امریکی فضائیہ کے طیاروں کی کھیپ قطر تعینات کردی ہے جس میں B-52 بمبار طیارے بھی شامل ہیں۔  امریکی افواج کی یہ تبدیلیاں امریکی قومی سلامتی کی کونسل کے اس بیان کے بعد کی جارہی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کے اشتعال انگیز رویے اور نئی انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق امریکہ اپنی افواج کی بحیرہ روم سے خلیج کی جانب از سرِ نو تعیناتیاں کر رہا ہے۔

بی بی سی کے دفاعی اور سفارتی نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایک طیارہ بردار بحری بیڑے اور جنگی گروپ کو خلیج میں بھیجنا غیر معمولی نہیں لیکن یہ اقدام کشیدگی کو ہوا دے سکتا ہے۔