رمضان کے رمدان ہونے تک جان ناتوان پر کیا بیتی
- تحریر سرور غزالی
- ہفتہ 11 / مئ / 2019
- 11990
رمضان کے بابرکت ماہ کے شروع ہوتے ہی ہر سال کی طرح اس سال بھی مبارکباد، فضیلت اور اخراجات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
ہمیں آج بھی وہ وقت یاد ہے جب واٹس ایپ اور دیگر سائنسی آلات و میڈیا کے ذریعہ سلامت، مبارکباد اور نصیحتوں کا سلسلہ نہیں شروع ہوا تھا۔ تب ہم رمضان شریف کی آمد کے ساتھ ہی گھگنی، پھلکی، اور شربت کے افطار کی میز پر موجودگی سے خوش ہوا کرتے تھے۔ سحری میں لچھے اور دیگر خوش ذائقہ پکوان سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ تب کوئی بھی خط، چٹھی، اخبار یا ریڈیو، اس دور کے مروجہ ترسیلات سے ہمیں نہ پیغام تہنیت بھیجتا تھا، نہ روزے کی فضیلت بتاتا تھا اور نہ روزے نہ رکھنے کے عذاب سے ڈراتا تھا۔
تب یہ بحث بھی نہیں ہوتی تھی کہ رمضان اصل میں رمدان یا رامدان ہے۔ پھر اب ایسا کیوں ہے۔ ہماری تو بچپن سے خدا حافظ کہنے کی عادت باقی ہے۔ اور خدا سے ہماری دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مراد ہمارے پیارے اللہ میاں ہے تھے اور ہیں۔ اب ہمارے ابو کیسے خدا حافظ کو اللہ حافظ کہیں گے۔ وہ تو زندگی بھرخدا حافظ ہی کہتے رہے اور اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اب بچپن کی ہماری عادت اس پچپن میں تو جانے سے رہی۔
یہی حال رمضان کا ہے۔ ہماری زندگی میں تو روزے رمضان میں آیا کریں گے۔ پیغام تہنیت دینے کے لیے تو واٹس ایپ جائز ہے۔ مگر چاند کا حتمی دن پتہ چلانے کے لیے سائنسی قمری کیلنڈر کا اجراء ناجائز۔ یہ منطق ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ اصل میں تو شاید نماز بھی سورج کے نکلنے، اترنے اور چڑھنے کے حساب سے پڑھنی چاہیے۔ البتہ جس دن سورج نہ نکلے اس دن۔۔۔اس دن پھر نماز کا وقفہ ہو۔۔ یا کیا۔ خیر کچھ بھی ہو۔
رمضان کے ساتھ ہوشربا مہنگائی کس کھاتے میں ڈالی جائے۔ اس میں نصیحت اور فضیلت کا پہلو کیوں اوجھل ہے۔ جب رمضان رمدان نہیں کہلاتا تھا۔ تب ریستورانوں میں پردے لگا دیئے جاتے تھے کہ بیمار، ناتواں اور مسافر جو کسی بھی مجبوری کے تحت روزے رکھنے سے قاصر تھے، وہ چھپ چھپا کر اپنی اس کمزوری کے راز کو افشا کیے بغیر اور احترام رمضان کے ساتھ اپنا پیٹ بھی بھر سکتے تھے۔ مگر اب ایسا کرنا نا ممکن ہے۔ اس سے پہلے ہی کوئی احترام رمدان میں آپ کا حشر کر دے گا۔ یہ جانے بغیر کہ آپ کا عذر کیا ہے۔
اس زمانے میں جب ہمارے اندر صبر و سکون تھا۔ ہم جاننے کی کوشش کرتے تھے کہ شرعی عذر ہے کہ نہیں۔ اور پھر بھی یہ کہہ کر خاموش ہوجاتے تھے کہ بھئی ہر انسان اپنے اعمال کا خدا کے پاس خود جواب دہ ہے۔ مگر اب ایسا نہیں ہم خود کو ہر کس و نا کس کے اعمال کے حساب کتاب کا جوابدہ سمجھتے ہوئے خود کو انسداد کا سپاہی گرداننے لگے ہیں۔
اور رمدان بھی مہنگائی کے ساتھ ساتھ دیگر تجارت کا ذریعہ بن چکا ہے۔ کسی زمانے میں جو کوئی روزہ رکھنے سے قاصر ہوتا تھا وہ کسی ایک فرد کے لیے تیس دن کے کھانے پینے کے بندوبست کرنے کو اپنی ذمہ داری جان کر اسے کھانا کھلاتا۔ مگر اب ایسا ہے کہ فطرانہ و زکات کی طرح فدیہ کی شرح بھی طے ہے۔ اب کھانا کھلانے کی بجائے مقرہ رقم ادا کردی جاتی ہے۔
ہم تو اب تک اس رمضان شریف کے بابرکت مہینے میں ہی جی رہے ہیں مگر شاید زمانہ آگے نکل گیا ہے۔۔۔۔