آگے بڑھ کر مدد کیجیے

اگرچہ اس معاشرے کے مسائل بہت زیادہ ہیں اور ریاستی و حکومتی نظام لوگوں کو بنیادی سہولتیں،  انصاف کی فراہمی اور شفافیت پر مبنی نظام کو یقینی بنانے میں وہ خدمات انجام نہیں دے سکیں جو ان کی ضرورت ہے۔معاشرے کا حقیقی حسن ایک ایسا اجتماعی نظام ہوتا ہے جو عملی طو ر پر ایک دوسرے کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار ہو۔
 دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جو معاشرہ انسانی وسائل اور انسانی سرمایہ کاری کو بنیاد بنا کر  کمزور لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے وہی لوگوں میں اپنی ساکھ بھی قائم کرتا ہے۔پاکستانی معاشرے کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں لوگوں کی مدد کرنے کا جذبہ موجود ہے۔یہ ہی وجہ ہے ایسے ایسے افراد او رسماجی اداروں کی کمی نہیں جو نامساحد حالات کے باوجود سماجی او رانسانی ترقی کے شعبہ میں کچھ نہ کچھ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ڈاکٹر انتظار بٹ ایک معروف آئی سرجن ہیں او رلاہور کے سیاسی، سماجی، علمی و فکری حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔کیونکہ وہ صرف  آنکھوں کے معروف ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ انسانی خدمت کا جذبہ اور سماجی شعبہ میں آگے بڑھ کر کام کرنے کا جنون و شوق او رلگن بھی رکھتے ہیں۔ وہ آنکھوں کے علاج سے جڑے ایک بڑے سماجی ادارے Prevention of Blindness Trust پی اوبی ٹرسٹ کے سربراہ ہیں۔اندھے پن سے بچاؤ، روک تھام کے جذبہ  سے2007سے قائم  یہ ادارہ ملک کے طول وعرض  کے علاوہ  مختلف ممالک میں آنکھوں کے مریضوں اور بالخصوص غریب،  نادار اور ضرورت مند افراد کی بلامعاوضہ خدمات انجام دے رہا ہے۔ ان کے کام سے متاثر ہوکر کئی ملکی اور عالمی ادارے ان کے کام کو نہ صرف پزیرائی دیتے ہیں بلکہ کئی ملکی او رعالمی ایوارڈ بھی ان کی خدمات کے صلہ میں مل چکے ہیں۔
پی او بی آئی اب تک پاکستان کے 58مختلف اضلاع جو چاروں صوبوں سے ہیں اور تقریبا 22غیر ممالک میں اپنی خدمات پیش کرچکے ہیں۔  اب تک 730آئی کیمپس کا انعقاد اور13لاکھ 94ہزار سے زائد مریضوں کا معائنہ سمیت ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد مریضوں کے آپریشن او رمصنوعی عدسہ کی پیوند کاری کرچکے ہیں۔اسی طرح مختلف مخیر حضرات کی مدد کے ساتھ لاہو ر اور کراچی میں ایک بڑے پی او بی آئی ہسپتال کا آغاز کرچکے ہیں جہاں یہ جدید ترین آلات, اہل ترین ماہرین امراض چشم, جدید طریقہ علاج)فیکو آپریشن(، سکریننگ کیمپس کا انعقاد سے آنکھوں کے مریضوں کا مفت علا ج کرانے کا جذبہ رکھتے ہیں۔مستقبل میں ڈرائیور آئی کیراور سٹریٹ چلڈرن آئی کیئر کے منصوبہ کو بھی شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
پاکستان میں آنکھوں سے جڑے امراض میں بڑ ی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ایک اندازے کے مطابق 18سے 20 لاکھ افراد اس وقت آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ڈاکٹر انتظار بٹ کے بقول اس میں سے تقریبا 75فیصد افراد ایسے ہیں جو بہت ہی معمولی یعنی سفید موتیا کے آپریشن کی مدد سے دوبارہ دیکھ سکتے ہیں۔آنکھوں کے مرض میں سفید موتیا، کالیا موتیا، ککرے،شوگر کی وجہ سے آنکھوں کے پردے  پر خون کی نالیوں کا رسنا جیسے امراض شامل ہیں۔ بچوں میں وٹامین اے کی کمی بھی آنکھوں کی بیماریوں کو پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ڈاکٹر انتظار بٹ نے کمال یہ کیا ہے کہ بچوں میں آنکھوں کے امراض کی درست تشخیص کے لیے اسکول آئی کیئر جیسے منصوبے بھی شروع کئے ہیں۔  اس کے تحت اب تک 31سکولوں میں 7000سے زائد بچوں او ربچیوں کا معائنہ کرنا او ران کا ادوایات سمیت عینکیں فراہم کی گئی ہیں۔ جو ایک اچھے منصوبے کی عکاسی کرتا ہے۔
پی او بی آئی کا منصوبہ  ہے کہ لاہور او رکراچی میں قائم ہسپتالوں کو جدید بنیادوں پر چلایا جائے او راس کے لیے جدید مشینری اور ڈاکٹرز کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ان کا ہدف ہے کہ سالانہ 22000سفید موتیا کے مفت آپریشن او رمصنوعی عدسہ کی پیوند کاری کو ممکن بنائیں او ر یقینی طور پر یہ سب کچھ مختلف مخیر حضرات کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔اس وقت ا س ادارے کو فری آئی کیمپس، ہسپتالوں کی تعمیر،سالانہ اخراجات اور آلات کی فراہمی کے لیے تقریبا 50کروڑ روپے درکار ہیں۔پاکستان میں بہت سے لوگ عطیات دیتے ہیں۔ ضرور ت اس امر کی ہے کہ یہ عطیات عام افراد کے مقابلے میں ایسے اداروں کو دیں جو واقعی اللہ کی رضا کے لیے خدمت انسانی کا جذبہ لے کر کام کررہے ہیں اوران میں ڈاکٹر انتظار بٹ او ران کا ادارہ پی او بی آئی بھی شامل ہے۔
اسی طرح ایک او رایم ادارہ پچھلے 23برس سے تعلیم اور بالخصوص پرائمری تعلیم میں ایک بڑا کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ یہ ادارہ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ ہے او راس کے تحت تقریبا 100000طلبہ وطالبات سمیت 700سکول کام کررہے ہیں جو کہ دور دراز کے گاؤں اور چھوٹے قصبوں او رشہروں میں موجود ہیں جہاں بہت سے لوگ محض غربت کی وجہ سے اپنی تعلیم حاصل نہیں کرسکتے۔ان بچوں او ر بچیوں میں 45000یتیم اور مستحق بچے بھی شامل ہیں،جبکہ 2000سے زیادہ بچے او ربچیاں معذور بھی ہیں جن کو نفسیات کی بنیاد پر ان کی راہنمائی کی جاتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان اداروں میں مسلم طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ اقلیتی بچوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جن کو مذہبی آزادی کی بنیاد پر تعلیم دی جاتی ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ ان بچوں او ربچیوں کو اچھا شہری بنانے کے حوالے سے ان میں سوک تعلیم کو بھی فروغ دیا جاتا ہے۔
 غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کا بنیادی مقصد بھی ایسے ہی غریب بچوں او ربچیوں کو تعلیم دینا ہے جو غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہتے ہیں جو خود ایک بڑی خدمت ہے۔غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ نہ صرف مفت تعلیم کو یقینی بناتا ہے بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر کتابیں، کاپیاں، سٹیشنری،یونیفارم، رمضان و عید پیکج سمیت بچوں میں بہت زیادہ سرگرمیوں کو پیدا کرکے ان میں مقابلہ بازی اور انعامات کی تقسیم کو یقینی بناتا ہے۔
 اس وقت علمی طو ر پر غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کو سخت مالی بحران کا سامنا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے مخیر حضرات کا حق بنتا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کا حصہ بنیں۔ کیونکہ اس ادارے کا مقصد محض اپنی تشہیر نہیں بلکہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے بچوں اوربچیوں میں تعلیم کی جنگ کو عام کرنا ہے۔ ایسی جنگ جس میں ہم معاشرے میں موجود ہر فرد کو تعلیم دیں او ریہ عمل یقینی طو رپر ایک بڑی سماجی تحریک او رلوگوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔
پی او بی آئی یعنی ڈاکٹر انتظار بٹ اور غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ جیسے ادارے اس ملک او رسماج کے لیے ایک رحمت سے کم نہیں۔ خاص طو رپر ایسے سماج میں جہاں ریاست او رحکمرانی کا نظام بگڑا ہوا ہو وہاں ایسے سماجی اداروں کی مدد او رحمایت سے معاشرے کے محروم طبقات کی بھرپو رمدد اور ترقی ہوسکتی ہے۔