متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں سعودی ٹینکرز پر تخریب کاری

  • سوموار 13 / مئ / 2019
  • 5560

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے مطابق فجیرہ بندرگاہ کے قریب چار تیل بردار بحری جہازوں کو تخریبی کارروائی کے ذریعے نقصان پہنچایا گیا ہے۔ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اماراتی حکام کے مطابق تخریب کاری آبنائے ہرمز سے کچھ ہی فاصلے پر کی گئی۔ فجیرہ بندرگاہ کو خطے کا تیل بردار جہازوں کی آمدورفت کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

امارات کی وزارت خارجہ نے تاحال تخریبی کارروائی کی نوعیت سے متعلق تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق تخریبی کارروائی کے ذریعے عملے کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا معمولی بات نہیں ہے۔ تاہم تخریب کاری کے باعث تیل بردار جہازوں سے کوئی رساؤ نہیں ہوا۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئیں ہیں اور جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

سعودی عرب کے وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ تخریب کاری کا نشانہ بننے والے دو تیل بردار جہاز سعودی عرب کے تھے۔ سعودی وزیر نے ان تیل بردار جہازوں کی شناخت تو ظاہر نہیں کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ان جہازوں کو 'خاصا نقصان‘ پہنچا ہے۔  انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے تیل بردار بحری جہازوں میں سے ایک سعودی عرب آ رہا تھا جہاں اس پر امریکہ بھیجا جانے والا سعودی خام تیل لادا جانا تھا۔

خالد الفلیح نے کہا کہ ’خوش قسمتی سے حملے میں کوئی جانی نقصان یا تیل کا رساؤ نہیں ہوا تاہم اس سے دونوں بحری جہازوں کے ڈھانچے کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔‘ خیال رہے کہ جس علاقے میں سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا وہ تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم بحری راستہ ہے۔

 ایران اور امریکہ کے مابین جاری تناؤ کے باعث خطے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ امریکہ کے مطابق ایرانی خطرات سے نمٹنے کے لئے اس نے جنگی جہازوں سے لیس بحری بیڑا مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کیا ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے امریکہ ایران کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔

ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ حشمت اللہ کا کہنا ہے  فجیرہ بندرگاہ پر دھماکے ہوئے ہیں اور ان سے خلیجی ممالک میں سکیورٹی کے نقائص  ظاہر ہوتے ہیں۔ تاہم فجیرہ بندرگاہ حکام نے دھماکوں کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندرگاہ پر معمول کے مطابق سرگرمیاں جاری ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکہ نے ایران پر حال ہی میں مزید پابندیاں کرتے ہوئے اس سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کا استثنیٰ بھی ختم کر دیا تھا۔ جس کے بعد ایران نے بھی دھمکی دی تھی کہ وہ دوبارہ اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے یورینیم کی افزودگی شروع کر دے گا۔