شاہ زیب قتل کیس کے مجرم شاہ رخ جتوئی کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
- سوموار 13 / مئ / 2019
- 5120
سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے مجرموں کی اپیلوں کا فیصلہ سناتے ہوئے کیس کے مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا ہے۔
عدالت عالیہ نے کیسز میں نامزد دیگر 2 مجرموں سجاد تالپور اور غلام مرتضی لاشاری کی عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے 11 مارچ کو محفوظ کرلیا تھا۔ اب عدالت نے شاہ زیب قتل کیس کا 63 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے ملزمان اور مقتول کے ورثا کے درمیان ہونے والا صلح نامہ منظور کرلیا اور ریمارکس دیئے کہ عدالت نے شاہ زیب کے قتل میں ملزم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزا صلح نامے کی بنیاد پر ختم کی۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دی گئی سزا ناقابل معافی ہے لہذا سزائے موت عمر قید میں تبدیل کی جاتی ہے۔ عدالت نے شاہ رخ جتوئی کی عمر کے تعین کے حوالے سے دائر اپیل بھی مسترد کردی۔
20 سالہ نوجوان شاہ زیب کو دسمبر 2012 میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مقدمے کا از خود نوٹس لیا تھا جس کے بعد پولیس نے مجرموں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا۔
انسداد دہشتگردی کی عدالت نے 30 جون 2013 کو شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو سزائے موت جبکہ سجاد تالپور اور غلام مرتضی لاشاری عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
مجرموں نے 2013 میں ہی سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ عدالت کی جانب سے سزائے موت سنانے کے چند ماہ بعد شاہ زیب کے والدین نے معافی نامہ جاری کردیا تھا جس کو سندھ ہائی کورٹ نے منظور کیا ہے۔