آئی ایم ایف سے تین برس میں 6 ارب ڈالر کا معاہدہ، مہنگائی میں اضافہ ہوگا
- سوموار 13 / مئ / 2019
- 5330
وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ، ریونیو اور معاشی امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے عالمی مالیاتی فنڈ سے قرضے کے حصول کا معاہدہ طے پانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے 3 سال کے دوران 6 ارب ڈالر ملیں گے۔
پی ٹی وی کو ایک خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ’آئی ایم ایف میں جانے سے پاکستان کو جو فائدے نظر آرہے ہیں اس میں 3 سال کے عرصے میں تقریباً 6 ارب ڈالر ملیں گے۔ اس کے علاوہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے مالیاتی اداروں سے بھی تقریباً 2 سے 3 ارب ڈالر کی اضافی رقم ملے گی‘۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر 6 ارب ڈالر اور اضافی 2 سے 3 ارب ڈالر کم سود پر ملیں گے جس سے ہمارے قرضے کی صورت حال میں قدرے بہتری آئے گی۔ جو پروگرام ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر کریں گے اس سے دنیا میں ایک اچھا پیغام جائے گا اور سرمایہ کار سمجھیں گے کہ پاکستان میں اصلاحات کی جارہی ہیں‘۔
آئی ایم ایف کی شرائط پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’کچھ ایسی چیزیں تھیں جس کو ہمیں خود کرنا چاہیے جیسے کہ اگر آئی ایم ایف کہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کریں تو یہ ہمارے بھی مفاد میں ہے، اگر سرکاری ادارے مسلسل خسارے میں جائیں تو ان کو ٹھیک کرنا ہمارے مفاد میں ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم امیر لوگوں کو سبسڈی روکیں اور ان سے ٹیکس زیادہ لیں تاکہ پورے ملک کا فائدہ ہو، تو ایسی باتیں آئی ایم ایف بھی کہہ رہا لیکن یہ ہمارے مفاد میں بھی ہیں‘۔
مشیرخزانہ نے کہا کہ ’کئی چیزیں ایسی ہیں جو پاکستان کے اندر کافی عرصے سے نہیں ہوئیں۔ یہ ایک موقع ہے کہ ہم آئی ایم ایف سے پروگرام کے تحت ان مسائل کو حل کریں جنہیں اسٹرکچرل مسائل کہا جاتا ہے۔ یعنی دیکھیں کہ پاکستان میں ہر دور میں مسلسل برآمدات نہیں بڑھ سکیں، بیرونی سرمایہ کاری نہیں آسکی، سرکاری ادارے ویسے ہی رہے، ریونیو کبھی بھی اچھے انداز میں نہیں بڑھا سکے ہیں‘۔
معاہدے کی منظوری آئی ایم ایف کے بورڈ سے مشروط ہے۔
مہنگائی کے مزید بڑھنے کا اشارہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’کئی ایسے پہلو ہیں جہاں ہم اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں اور ہمیں دنیا کو مالی ڈسپلن کا پیغام دینا ہے۔ ہماری مالی حیثیت بگڑی ہوئی ہے اس کو درست کرنا ہے تو لاگت کو برابر کرنے کے لیے ہمیں کچھ شعبوں میں قیمتیں بڑھانا ہوں گی‘۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ ’چونکہ اس حکومت کا فوکس یہ ہے کہ عام آدمی پر بوجھ نہیں ڈالنا جائے اس لیے ہم نے یہ طے کیا ہے کہ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر کوئی منفی اثر نہ ہو۔ بجلی کے 75 فیصد استعمال کنندگان اسی دائرے میں آتے ہیں۔ بجلی کی سبسڈی کی مد میں تقریباً 216 ارب روپے رکھے جارہے ہیں جس میں 50 ارب روپے اضافی ہیں‘۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں بھی پاکستان سے معاہدے پر اتفاق ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’آئی ایم ایف، پاکستان کے ساتھ تین برس کے لیے توسیعی فنڈ سہولت کے اسٹاف سطح کے معاہدے پر اتفاق ہوگیا ہے‘۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’توسعی فنڈ سہولت کے انتظامات کا مقصد حکام کو اندورنی اور بیرونی عدم توازن کو کم کرنے، شفافیت کو بڑھانے اور سماجی سطح پر اخراجات کو بہتر کرکے معاشی بڑھوتری کے لیے مضبوط حکمت عملی بنانے میں تعاون کرنا ہے‘۔
یاد رہے کہ اسلام آباد میں آئی ایم ایف مشن سے حتمی مذاکرات 29 اپریل کو شروع ہوئے تھے جو 10 روز جاری رہے تھے جس کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ معاہدے میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم چند معاملات پر رکاوٹ ہے جس کے باعث مزید مذاکرات ہوں گے۔