میشا شفیع علی ظفر کیس میں گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ کرنے کی اجازت

  • منگل 14 / مئ / 2019
  • 5570

سپریم کورٹ نے گواہوں اور جرح کرنے سے متعلق میشا شفیع کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

گواہان کا بیان اور جرح کرنے سے متعلق جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس دوران عدالت نے گلوکار و اداکار علی ظفر کے وکیل کو ایک ہفتے میں گواہوں کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔

کیس کی سماعت کے دوران میشا شفیع کے وکیل نے عدالت سے گزارش کی کہ اگر اگلی سماعت پر جرح کے لیے تیاری نہ کر سکے تو انہیں ایک ہفتے کا وقت دیا جائے۔ عدالت نے میشا شفیع کے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس سے متعلق 9 گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ کرنے کی اجازت بھی دے دی۔

سپریم کورٹ نے میشا شفیع اور علی ظفر کو غیر ضروری درخواستیں دائر کرنے سے بھی روک دیا۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ تیاری مکمل ہونے کے بعد ایک ہی روز گواہان پر جرح مکمل کرنے کی کوشش کی جائے۔

عدالت عظمیٰ نے علی ظفر کے وکیل کو بھی 7 دن میں گواہوں کا بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ غیر ضروری التوا نہ دیتے ہوئے ٹرائل جلد مکمل کرے۔

اس دوران میشا شفیع کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ گلوکارہ علی ظفر کی جانب سے پیش کردہ تمام گواہوں کو نہیں جانتی جبکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب علی ظفر کے ملازمین ہیں۔ البتہ علی ظفر کے وکیل سبطین ہاشمی نے میشا شفیع کے وکیل سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ پیش کردہ کوئی بھی گواہ علی ظفر کا ملازم نہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے علی ظفر کا میشا شفیع کی درخواست پر بنیادی اعتراض جاننے پر استفسار کیا تو ان کے وکیل نے بتایا کہ قانون کے مطابق گواہ کا بیان اور جرح ایک ہی دن ہوتی ہے۔ البتہ جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ بیان اور جرح ایک دن ہونے کا اختیار عدالت کا ہے۔

اس موقع پر میشا شفیع کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ اگر گواہوں کی فہرست مل جائے تو وہ ایک دن میں جرح کر لیں گے۔ جس کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق مقررہ وقت میں ٹرائل مکمل کیا جائے۔

دونوں فنکاروں  کے درمیان تنازع اپریل 2018 میں اس وقت سامنے آیا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ایک ٹوئٹ جنسی طور سے ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ علی ظفر نے انہیں ایسے وقت میں جنسی طور پر ہراساں کیا جب وہ 2 بچوں کی ماں اور معروف گلوکار بن چکی تھیں۔ تاہم علی ظفر نے ان کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے خلاف سازش قرار دیا تھا۔