لبیک تحریک کے رہنماؤں خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کی ضمانت منظور

  • منگل 14 / مئ / 2019
  • 8930

لاہور ہائیکورٹ نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی اور سابق رہنما پیر افضل قادری کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قاسم علی خان اور جسٹس اسجد جاوید پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے ٹی ایل پی کے رہنماؤں کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ عدالت عالیہ نے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کو ضمانت کے عوض 5، 5 لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر 8 مئی کو درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ یاد رہے کہ ضمانت سے متعلق درخواستوں کی آخری سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے پولیس کو خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کے خلاف ثبوت پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

یکم مئی کو تحریک لبیک پاکستان کے بانی پیر افضل قادری نے صحت کی خرابی کی وجہ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے  ہوئے  اپنی بدکلامی کی معافی مانگی تھی۔  

بیان میں پیر افضل قادری کا کہنا تھا کہ ’میں دل، گردے، ہائی بلڈ پریشر اور شوگر جیسے امراض میں مبتلا ہوں اور جس وقت آسیہ بی بی کے کیس کا فیصلہ سنایا گیا تو اس سے میرے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی اور جس پر میں نے ایک تقریر کی۔ میں حکومت، عدلیہ اور آرمی چیف کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معذرت کرتا ہوں‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال توہین مذہب کے مقدمے میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو رہا کیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے خلاف تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پُر تشدد مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا تھا۔ اس دوران خادم حسین رضوی کو 23 نومبر 2018 کو 30 روزہ حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا۔