زمانہ در زمانہ ، لوگ در لوگ

  • تحریر
  • جمعہ 17 / مئ / 2019
  • 9350


 

وقت  کی ٹرین  تیزی سے زمانوں کے نئے نئے اسٹیشنوں سے گزر رہی ہے۔ زمانہ در زمانہ  ان  بدلتے مناظر کی وجہ سے اکثر  بہت سے  لوگ، ان کی  باتیں،  انسانی قدریں اور  نظریاتی بیانئے   زمانہ  قریب  سے تعلق کے باوجود  حافظے کی پہچان میں مشکل سے ہی آتے ہیں ۔  کچھ عرصے سے ہمیں یاد نگاری، آپ بیتیوں اور تاثرات پر  مبنی چند کتابیں پڑھنے کا موقع ملا،  اکثر اوقات  یوں لگا کہ جیسے کسی اور خطے کی بات ہو رہی ہے۔
 پاکستان  بننے سے قبل اور ما  بعد صحافت کے میدان کے شہسوار محمد سعید جو اپنے احباب میں مولوی سعید کے نام سے جانے جاتے تھے اور پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر بھی رہے، ان کی آپ بیتی آہنگ باز گشت نے جس خوبصورتی سے  گزشتہ صدی کی ابتدائی  دِہائیوں  کے دیہات اور شہروں  کا  منظر  پیش کیا وہ ایک عہد کی پوری سیاسی  تاریخ اور معاشرتی عکس ہے۔ دوسری جنگِ عظیم،  پھر تقسیم ِہند اور نوزائیدہ ملک پاکستان میں تقسیم اور ہجرت کے تجربات جنہیں آج بیشتر لوگ اپنے حافظے سے کھرچ چکے وہ تفصیلات پڑھنے لائق ہیں۔ نابغہ روزگار شخصیات اور معاشرتی رجحانات پر مشتمل یہ آپ بیتی ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت   رکھتی ہے، اس پر مستزاد انداز بیان ایسا کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی!
ایسی ہی ایک اور کتاب حال ہی میں پڑھنے کا موقع ملا۔ میری زندگی کے  پچھتر سال،  اعجاز الحق قدوسی کی  بظاہر تو آپ بیتی ہے لیکن پاکستان بننے سے قبل متحدہ  ہندوستان میں مسلمانوں کا معاشرتی عکس بھی ہے اور ان نابغہ روزگار شخصیات کا  ذکر بھی  جن کا  تذکرہ  تاریخ کا سرمایہ ہے۔ متحدہ ہندوستان میں  حیدرآباد مسلم اکثریت ریاست بھی تھی اور ان کی تہذیب کی نمائندہ بھی۔  اسی ریاست  کا سقوط  انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا: 11 ستمبر 1948   کو جب حضرت قائد اعظم کی وفات کا دن تھا اور تمام عالم اسلامی سوگوار تھا، انڈین فوجوں نے مختلف  محاذ کھول  کر حملہ کر دیا اور تین چار روز کے اندر ہی سلطنتِ آصفیہ  کا چراغ گل کر دیا۔
 اسی حید آباد کی رونق کے ضمن میں لکھتے ہیں:  غیر منقسمہ  ہندوستان میں حیدر آباد کو عروس البلاد کہا جائے توبے جا نہ ہوگا۔ یہاں علوم و فنون کی سر پرستیوں نے ہندوستان کے یگانہ روزگار اور باکمال حضرات کو جمع کر دیا تھا۔ فضل و کمال، شعر و ادب کے آفتاب اسی شہر میں جگمگاتے تھے۔ حیدر آباد کے امراء اور نواب عہدِ مغلیہ کی  یاد دلاتے۔ ان کی محفلیں مشرقی تہذیب اور روایات کا نمونہ ہوتی تھیں۔ اسی شہر میں اردو ادب اور مسلم زعما ء  کا ذکر اس  خوبصورتی  سے رقم ہے کہ یوں لگے کہ آپ بھی شریک محفل ہیں۔ خواجہ حسن نظامی، ریاض خیر آبادی، مناظر احسن گیلانی، فانی بدایونی، حکیم آزاد انصاری، جوش ملیح آبادی، مولانا ابولاعلیٰ مودودی،  نواب بہادر یار جنگ اور اسی شان کے اور بہت سے زعماء کا ذکر۔ پاکستان بننے کے بعد کے کراچی اور اداروں کی تشکیل  کے تذکرے  بھی   ایک اور جہانِ  حیرت ہے۔ یہیں ان کے دوست  بنے نامور شاعر  امید فاضلی کا درج کردہ ایک شعر  زمان در زمان ان تبدیلیوں کا خلاصہ لگا:
اے دوپہر کی دھوپ بتا کیا جواب دوں
دیوار پوچھتی ہے کہ سایہ کدھر گیا
 ابھی کل کی بات ہے کہ دنیا  سرمایہ دارانہ یعنی  کیپٹلزم اور سوشلزم کے درمیان بٹی ہوئی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد بالخصوص  ملکوں کی سیاست ان کے درمیان  ہی گھومتی تھی۔ ساٹھ اور ستّر کی دِہائی میں نظریاتی سیاست کا غلبہ اور دور دورہ تھا۔ ذولفقار علی بھٹو نے ایوب خان کی حکومت سے تاشقند معاہدے کے بعد علیحدگی اختیار کی تو اپنی نئی جماعت کی داغ بیل ڈالی۔ اسلامی سوشلزم  اس جماعت کے منشور کا ایک بنیادی جزو ٹھہرا۔ روس کے بکھرنے اور چین کے سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ سمجھوتے نے  سیاست میں  وقتی طور پر سوشلزم کی سیاست کو منجمد کر دیا ہے لیکن اس زمانے میں اس طرزِ سیاست کے لئے لوگوں نے جوانیاں اور پوری پوری زندگیاں داؤ پہ لگا دی تھیں۔  معروف سیاسی اور معاشرتی  کارکن  فرخ سہیل گوئیندی نے حال ہی میں شائع اپنی کتاب  لوگ در لوگ میں اس عہد کی بڑی دلچسپ تصویر کشی کی ہے۔
لاہور کی فصیل کے اندر جنم لینے والے ڈاکٹر انور سجاد ان ہی کرداروں میں سے ایک ہیں جن کا ذکر کچھ یوں ہے، ڈاکٹر دلاور علی  لاہور کے اولین ڈاکٹروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر سجاد انور  بحیثیت ڈاکٹر، ادیب، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، مصور، رقاص اور ایک سیاسی لیڈر  نے چونا مندی لاہور سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔   جنرل ضیاء کی آمریت میں ایک روز پولیس کی چار پانچ گاڑیاں اس  سیاسی ایکٹوسٹ کو  ان کے کلینک سے گرفتار کرنے آ گئیں۔ پولیس آفیسر نے کہا، چلیں ڈاکٹر صاحب، آپ کی گرفتاری کا حکم ہے۔ وہ اپنے کلینک سے اٹھے، پولیس کو گرفتاری دی اور پولیس وین میں بیٹھ گئے۔ محلے والے اکٹھے ہو گئے۔ گاڑی چلنے لگی۔ سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے  مارشل لاء کے زندان میں جاتے ہوئے انقلابی دانشور نے مسکراتے ہوئے تھانیدار سے کہا  ’ٹھہرو   ابھی گاڑی نہ چلانا‘۔ وہ رک گئے   اور  پوچھا، کیوں؟۔ ڈاکٹر انور سجاد نے کہا کہ ’گاڑیوں کے اوپر لگے ہوٹر بجاؤ،  محلے میں پتا چلے کہ میری بارات پسِ زنداں جا رہی ہے کہ آمریت کے خلاف جد وجہد  کرتے ہوئے گرفتار ہوا ہوں‘۔
لوگ در لوگ  کتاب کئی داستانوں کا مجموعہ  ہے۔ سرگودھا کے بسنے اور بسانے والوں کی داستان،  ایک سکھ خاتون دیپ کور اور اس کے انگریز شوہر کی بیٹی مرینا وھیلر کی اپنی  Roots  تلاش کرنے کی داستان، پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین اور اس پارٹی کو مقبول بنانے والوں  کی داستانیں ہیں۔ ذولفقار علی بھٹو سے ملاقات سمیت دیگر بہت سے ہنماؤں کے خاکے جن میں شیخ محمد رشید،  محمد حنیف رامے، ملک معراج محمد سمیت  دیگر بہت سے نمایاں نام ہیں جن  کے واقعات اور تاثرات  نے  اس عہد کو منقش کر  سا کر دیا ہے۔
 ہجرت کرکے جانیوالے کئی نامی گرامی ہندوستانی شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں ہیں جن میں گئے زمانوں کی یادیں ہیں،  جدائی  کی یادوں کی کسک  ہے اور مدتوں بعد بھی اپنی جنم بھومی سے جنون کی حد تک  عشق۔ ان میں خشونت سنگھ، کلدیپ نیئر، اندر کمال گجرال اور حاجی مستان مرزا شامل ہیں۔ 
دیگر ممالک  کی جہاں گردی کے دوران بنی دوستیوں اور ملاقاتوں کو بھی فرخ سہیل گوئیندی  نے  اس کتاب میں شامل کرکے اپنے عہد کی عالمگیریت کی جھلکیاں بھی دکھانے کی کامیاب کوشش کی۔ ان ملاقاتوں میں ترکی کے سابق بلند ایجوت،  اردن کے شہزادہ حسن بن طلال،  اسرائیل کے شمعون پیریز، عثمانی سلطان مراد پنجم کی پڑنواسی شہزادی کنیزے مراد قابل ِ ذکر ہیں۔
لوگ در لوگ کے   مختصر سوانحی خاکے، اس عہد کے  سیاسی  پسِ منظر، بیانیہ انداز اور مجموعی اختصار کے سبب یادنگاری کی صف میں ایک عمدہ تجربہ ہے۔ نظریاتی سیاست اور انسان دوستی کے  ایک معتبر نام  ملک معراج خالد کے ذکر کا کچھ حصہ  نمونے کے طور پر:  ’سعادت حسن منٹو کے اس پڑوسی نے اپنی  زندگی کا سیاسی عروج سادہ سے اپارٹمنٹ میں گزار دیا۔  جب وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی گورنمنٹ میں سپیکر قومی اسمبلی بنے  تو میں ان کے ہاں بیڈن روڈ سے ان کے گھر جانے والی گلی میں داخل ہوا تو  سوٹ بوٹ میں  ملبوس ایک شخص حیرانی سے پوچھنے لگا، مجھے سپیکر قومی اسمبلی ملک معراج خالد  کے ہاں جانا ہے، کیا وہ واقعی ادھر ہی رہتے ہیں؟  سوٹ  بوٹ میں ملبوس اس شخص کو کیا معلوم کہ بر صغیر کا سب سے بڑا افسانہ نگار سعادت حسن منٹو اور مایہ ناز ادیب  مستنصر  حسین تارڑ بھی یہیں کے رہنے والے ہیں۔ بڑے لوگ گھروں اور گاڑیوں سے نہیں ناپے تولے جاتے‘!