حزب اختلاف کا رمضان کے بعد تحریک چلانے کا اعلان
- ہفتہ 18 / مئ / 2019
- 7360
پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے بعد پاکستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی عید کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔
پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف تحریک کی قیادت کریں گے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اپوزیشن یہ تحریک مشترکہ طور پر چلائے گی یا انفرادی سطح پر اس کا آغاز کیا جائے گا۔
خبروں کے مطابق پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی جماعتوں نے تحریک چلانے کی منظوری دے دی ہے۔ گزشتہ روز نون لیگ کے تاحیات قائد اور العزیزیہ کرپشن ریفرنس میں سزا کے بعد کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو عید کے بعد سڑکوں پر آنے کی ہدایت کی ہے۔
لیگی رہنما رانا مشہود کہتے ہیں کہ اب حکومت کے جانے کا وقت آ گیا ہے۔ کوٹ لکھپت جیل سے حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز ہو گا اور یہ تحریک پورے پاکستان میں جائے گی۔
نون لیگ اور پیپلز پارٹی کبھی حلیف تو کبھی حریف رہی ہیں۔ اس لیے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک اپوزیشن کی مشترکہ مہم ہو گی یا نہیں، اس بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ لیکن لیگی رہنما رانا مشہود کہتے ہیں کہ نون لیگ کی جانب سے تحریک چلانے کا اعلان تاخیر سے اس لیے گیا ہے کیونکہ ان کی جماعت حکومت کو وقت دینا چاہتی تھی۔ اب دونوں جماعتوں کا مل کر تحریک چلانا ممکن ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ تحریک چلانا اپوزیشن کا حق ہے۔ لیکن ملک میں اس وقت جو بحران جاری ہے، اس کی ذمہ داری اپوزیشن جماعتوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ حزب اختلاف کی جانب سے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان ہوتے ہی وزیر اعظم کی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ حکومت کے ساتھ بیٹھ کر اس معاشی بحران کا حل نکالے۔
سیاسی تجریہ نگار کہتے ہیں کہ اگر اپوزیشن نے حکومت کے خلاف مشترکہ تحریک چلائی تو اس سے یقینی طور پر حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو گا کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب دونوں جماعتیں مشترکہ سیاسی حریف کے خلاف کد و کہد کریں گی۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر دونوں جماعتیں مل کر عوام کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو حکومت مشکل میں پڑ سکتی ہے، کیونکہ لوگوں کی اکثریت بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پہلے ہی پریشان ہے۔