سفر در سفر ۔ 9 ۔ قبروں کا بیٹا
- تحریر مسعود مُنّور
- ہفتہ 18 / مئ / 2019
- 26680
اٹھائیس سال بعد میں چنیوٹ جا رہا تھا جہاں میرے ماں باپ حافظ دیوان قبرستان میں محوِ خواب ہیں ۔ میرا جنم جس سال ہوا اُسی سال میرے والد انتقال کر گئے ۔ میں نے اپنے والد کو بقائمی ء ہوش و حواس نہیں دیکھا ۔
جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے بڑے ماموں کو ابا جی کہتا تھا ۔ چُونکہ بچے کو ابا کی ضرورت ہوتی ہے اِس لیے یہ ضرورت ایک نورانی صورت بزرگ نے پوری کردی ۔ وہ تو بہت بعد میں جب میں سکول میں داخل ہوا تو داخلے کے فارم میں میرے والد کا نام لکھا گیا جو میں نے پہلی بار سُنا ۔ یہ 1950 کی بات ہے ۔ پہلی جماعت کا امتحان پاس کیا تو سال گزر چکا تھا ۔ تب 1951 کے موسمِ بہار میں ماں بھی رُخصت ہو گئیں ۔ تب سے میری زندگی گملے میں اُگے پودے کی سی رہی اور میں سچ مُچ یہی سمجھتا رہا کہ میں زمین سے اُگا تھا اور اب تک میں ایک ایسا چلتا پھرتا درخت ہوں جس کی جڑیں زمین کے بجائے آسمان ہیں ہیں ۔ میری تین بڑی بہنیں تھیں ۔ ایک کا انتقال بچپن میں ہوگیا تھا ۔ دوسری بہن کی شادی میرے جنم سے کئی سال پہلے ہوگئی تھی اور تیسری بہن کی شادی اُس وقت ہوئی جب ابھی میں نے سکول جانا شروع نہیں کیا تھا ۔ میرے لیے عمر بھر دو قبریں ہی میرے ماں باپ کی جگہ رہی ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ میں قبروں کا بیٹا ہوں ۔
ہم لاہور سے نکل کر جس سڑک پر جا رہے تھے یہ وہ سڑک نہیں تھی جو میرے بچپن ، لڑکپن ، جوانی کے زمانے میں ہوا کرتی تھی جس پر لاہور آنا جانا ہوتا تھا۔ یہ تو شریفوں کا موٹر وے تھا ، جو بڑے لوگوں کی کاروں کے لیے بنایا گیا تھا ۔ راستے میں نہ شاہدرہ ، نہ شیخوپورہ ، نہ چوہڑ کانہ ( جس کا نام شاید اب فاروق آباد ہے) نہ خانقاہ ڈوگراں ، نہ سکھیکی منڈی کا مونہہ دیکھا ، البتہ کہیں کہیں ان ناموں کی تختیاں ضرور دکھائی دیں اور پرانی نشانیوں سے بچتے بچاتے ہم پنڈی بھٹیاں پہنچ گئے ۔
اب پنڈی بھٹیاں میں موٹر وے سے اُتر کر چنیوٹ جانے والی سڑک میں داخل ہوئے تو محاورے میں نانی یاد آ گئی ۔ دن میں تارے دکھائی دینے لگے ۔ ایسے لگ رہا تھا کہ اس سڑک کو کبھی سڑک سمجھا ہی نہیں گیا ۔ وہ سڑک نہیں ایک کچا پکا دیہی راستہ تھا جس پر ٹریکٹر تو چل سکتا ہے مگر ہلکی پھلکی گاڑی نہیں ۔ ایسا ہی بُرا اور خستہ حال چنیوٹ سے چک جھمرا جانے والی سڑک کا بھی تھا ۔ یعنی پاکستان کے شیر شاہ سوری جدید نے صرف ایک ہی سڑک بنوائی اور ملک کی دوسری چھوٹی سڑکوں کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا تھا کیونکہ شیر شاہ سوری کا خیال تھا کہ ان سڑکوں میں ہمت ہوئی اور ان کی قسمت اچھی ہوئی تو خود ہی بن جائیں گی ۔
چنیوٹ پہنچ کر سب سے پہلے اُس گھر کی دہلیز کو سلام کیا جہاں میرا بچپن گزرا تھا ۔ اس گھر میں اب میرے ماموں حکیم غلام مصطفیٰ بھٹی کے پوتے حکیم شاہد تنویر رہتے ہیں ۔ اُن سے مل کر جہاں دل کو سکون ملا وہاں دل نے بڑا وا ویلا کیا اور وہیں گلی میں تنویر کے بیٹے سے بھی ملاقات ہوئی جسے میں پہلی بار دیکھ رہا تھا ۔ اپنے تایا زاد بھائی شعیب مرحوم کے بیٹے صفدر کو ساتھ لے کر میں گلاب کے پھول لیے ماں باپ کی قبروں کی زیارت کے لیے چل دیا ۔ دونوں کی قبریں ایک ساتھ ایک کونے میں بنی تھیں ۔ میں نے قبروں کی پائینتی کی جانب سے ماں باپ کے چرن چھوئے ، اُن کو پھول پیش کیے ، آنسو بہائے ، ماں باپ سے گلے شکوے کیے ، اپنے بچوں کی طرف سے اُنہیں تعظیم پیش کی اور پھر اس گھر میں جھاڑو دی جہاں میرے ماں باپ رہتے ہیں ۔ اور میں ساتھ ساتھ اپنی نظم بھی ماں کو سناتا جا رہا تھا :
میری امبڑی ، پیاری امبڑی
مجھ کو کوکھ سے جننے والی ، گُڑ سے میٹھی میری امبو
تیری کُچھڑ کی خوشبو سے
میری رانیں ، پیٹ اور سینہ مہک رہے ہیں
میرے بدن کی دیواروں سے گہری بدن دکھانے والی
جل تھل لذت ٹپک رہی ہے
میری امبڑی ، پیاری امبڑی
نظم بہت طویل ہے اور اگر ساری لکھوں تو کالم نبڑ جائے گا اور جو باتیں کہنی ہیں وہ کہ نہ سکوں گا ۔ چنانچہ اپنے وہ آنسو جو میں نے کئی برسوں سے جمع کر کے رکھے ہوئے تھے ، اُس مٹی پر ارپن کر کے چلا آیا جو میری ماں ہے ۔ قبرستان سے سیدھا میں محلہ عید گاہ میں اپنے بھتیجے مولوی انور علی مرحوم کے گھر آیا جہاں اب اُن کی بیوہ ، بیٹے ، بہو اور پوتیاں پوتے رہتے ہیں ۔ یہ وہ محلہ ہے جہاں پہاڑی پر حضرت بہلول دریائی کا مزار ہے جو شاہ حسین لاہوری کے مرشد تھے اور اُن کے حوالے سے وہ مزار پیر شیخ حُسین کا مزار کہلاتا ہے ۔ اس پہاڑی کے ساتھ متصل میدان میں کریر اور ونڑ کے پودے ہوا کرتے تھے جن پر پیلوں لگتے تھے مگر اب نہ وہ ونڑ تھے نہ پیلو ، وہ پُرانے درخت نئی تعمیرات کی زد میں آ گئے تھے اور پرانا چنیوٹ معدوم ہو کر رہ گیا تھا ۔
وہاں سے نکل کر اپنے دوسرے عزیزوں کے گھروں پر حاضری دی ۔ اپنے بچپن کے دوست اور اپنی پھوپھی زاد کے بیٹے احمد نواز کے ہاں پہنچا جو اب میاں احمد نواز فہیم ایڈوکیٹ ہیں اور اُنہوں نے اس پیشے میں بڑا نام کمایا ہے ۔ بھلا ہو فیس بُک کا کہ میرے کزن حکیم شعیب مرحوم کا پوتا علی حیدر ، فیس بُک پر بڑا ایکٹو ہے جس کے ذریعے مجھے اپنے ننھیالی شہر چنیوٹ کی خبریں ملتی رہتی ہیں ۔
افسوس کہ اپنے کسی ہم جماعت سے ملنے کا قع نہ ملا مگر ایک ہم جماعت کے بیٹے عارف خواجہ سے ملاقات ہوئی جو پاکستان کے نامور شاعروں میں سے ایک ہیں اور انہوں نے خواجہ گرافکس کے نام سے ایک ادارہ قائم کر رکھا ہے اور بڑی ہی خوبصورت کتابیں چھاپتے ہیں ۔ وہیں اُن کے دفتر میں لالہ افتخار حسین کیتھ بھی تشریف لے آئے اور چنیوٹ میں پاک ٹی ہاؤس لاہور کی سی سبھا جم گئی ۔ اس دفتر کی دو گھڑی کی بزم میری زندگی کا ایک یادگار واقعہ ہے جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا ۔
چنیوٹ میں عید گاہ ایک بڑا خوبصورت باغ ہوا کرتی تھی ، جہاں بہت سے طلبا ء امتحانوں کی تیاری کرتے تھے ۔ اس عید گاہ کی ڈیوڑھی میں ان تمام درختوں کے نام ایک فہرست کی صورت میں لکھے تھے ، جو اس باغ میں لگائے گئے تھے ۔ اور اُس پر ایک قطع درج تھا جو میں کبھی بھلا نہیں سکا :
خُدا جانے صنم آئے نہ آئے
بھروسا کیا ہے ، دم آئے نہ آئے
کوئی دم سیر کر لو اس چمن کی
دوبارہ یاں قدم آئے نہ آئے
اس دوران میں گلی سے باہر نکلا تو ایک نو جوان نے مجھے دیکھا اور میری طرف چلا آیا ۔ یہ معروف شاعر باسط آزر تھے ، جو کسی دوست کے جنازے میں شامل ہونے کے لیے جا رہے تھے ۔ اُن سے ملاقات اور سرسری رہی اور میں جلدی میں بھی تھا کہ مجھ لاہور واپس پہنچنا تھا اور اگلے دن غلام حسین ساجد صاحب کے ہاں جانا تھا ۔ چنانچہ چنیوٹ کو الوداع کہا اور ہم واپس لاہور کی جانب چل دیے ۔