بھارتی پارلیمانی انتخابات کا آخری مرحلہ شروع ہوگیا

  • اتوار 19 / مئ / 2019
  • 4660

بھارت میں پارلیمانی انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے کے لئے پولنگ کا عمل جاری ہے۔ ساتویں اور آخری مرحلے کے لئے 7 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے 59 حلقوں کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

جن ریاستوں میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں ان میں اترپردیش، پنجاب، مغربی بنگال، بہار، مدھیہ پردیش، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ اور چندی گڑھ شامل ہیں۔  اس مرحلے میں کل 918 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ دس کروڑ سے زائد رائے دہندگان حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں۔ انتخابی عمل کے لئے الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک لاکھ بارہ ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔

اترپردیش میں سب کی نگاہیں بنارس پر لگی ہوئی ہیں جہاں سے وزیر اعظم نریندر مودی دوبارہ میدان میں ہیں۔ ان کے مقابلے میں کانگریس کے امیدوار اجے رائے اور سماج وادی پارٹی سے شالنی یادو قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ یہاں کل 26 امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔

اس مرحلے میں وزیر اعظم مودی کے علاوہ جو اہم امیدوار میدان میں ہیں ان میں مرکزی وزیر روی شنکر پرساد اور بی جے پی کے باغی امیدوار شتروگھن سنہا قابل ذکر ہیں۔ شتروگھن سنہا پٹنہ صاحب سے کانگریس کے امیدوار ہیں اور ان کا مقابلہ روی شنکر سے ہے۔ لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار، لالو یاد کی بیٹی میسا بھارتی، منیش تیواری، سکھ بیر سنگھ بادل، کرن کھیر، سنی دیول، اور شیبو سورین بھی ساتویں مرحلے کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

بنارس کے علاوہ مغربی بنگال پر بھی سب کی نظریں ہیں جہاں 9 نشستوں کے لیے پولنگ ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان حلقوں میں حکومت مخالف رجحانات نظر آرہے ہیں جبکہ یہاں مسلمان ووٹرز اور متوسط طبقہ فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔

مبصرین کے مطابق حکمران جماعت بی جے پی نے اس ریاست میں سب سے زیادہ محنت کی ہے وہ اتر پردیش اور بہار میں نقصان کے ازالے کے لئے یہاں سے انتخاب جیتنا چاہتی ہے۔ جبکہ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں مغربی بنگال میں کمزور دکھائی دے رہی ہیں۔  وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے صدر امت شاہ نے یہاں دو انتخابی ریلیاں منعقد کی ہیں۔ انتخابی مہم کے آخری روز نریندر مودی نے یہاں دو جلسے کئے تھے۔

آخری مرحلے کی پولنگ میں مغربی بنگال کے اسلام پور میں پرتشدد واقعات ہوئے جب بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے کارکنوں کی جانب سے دستی بم پھینکے گئے اور پتھراوؑ کیا گیا۔ یہاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

بھارت میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ انتخابات میں کسی بھی جماعت کو مطلوبہ اکثریت نہیں مل سکتی جس کے بعد اپوزیشن کی جانب سے مرکز میں حکومت سازی کی کوششیں شروع ہو گئیں ہیں۔ ان کوششوں کی قیادت آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائڈو کر رہے ہیں جو کہ پہلے بی جے پی کی زیر قیادت محاذ این ڈی اے کا حصہ تھے مگر اب وہ اس سے الگ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے دہلی میں کانگریس صدر راہول گاندھی اور نیشنل کانگریس پارٹی کے صدر شرد پوار سمیت کمیونسٹ رہنما ڈی راجہ اور شرد یادو سے بھی ملاقات کی ہے۔ نائڈو نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے بھی ملاقات کرکے بی جے پی مخالف حکومت بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے دو خواتین وزیر اعظم کے عہدے کی خواہش مند ہیں۔ ایک ممتا بنرجی اور دوسری مایاوتی۔ بتایا جاتا ہے کہ ممتا بنرجی اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے ریاست کی تمام 42 نشستیں جیتنا چاہتی ہیں۔