سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نااہل تھے، ان کا احتساب ہونا چاہیے: فواد چوہدری
- اتوار 19 / مئ / 2019
- 7940
وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان محمد افتخار چوہدری کو بھی احتساب کے عمل سے گزرنا چاہیے۔
انہوں نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ 'سابق چیف جسٹس کے 2 فیصلوں کے نتیجہ میں وکلا کو 10 کروڑ ڈالر دینے کے بعد اب ملک کو 1.4 ارب روپے کے جرمانے کا سامنا ہے'۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک نا اہل جج مشکلات کھڑی کرسکتا ہے۔ ججز کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
روزنامہ ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں اٹھایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 'وزیراعظم عمران خان نے اٹارنی جنرل اور وزارت قانون کے حکام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ججز کے احتساب کے حوالے سے تجاویز پیش کرے گی'۔
منگل کو وفاقی کابینہ کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں 3 سال میں 10 کروڑ ڈالر سے زائد بین الاقوامی قانونی مقدمے میں ادا کیے، جس پر وزیراعظم نے اتنی کثیر رقم بین الاقوامی مقدمات پر خرچ کرنے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور وزیر قانون کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تاکہ مستقبل میں اس قسم کے اخراجات سے بچا جاسکے۔
اس سے قبل 2018 میں فواد چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے قومی احتساب بیورو کو سابق چیف جسٹس اور ان کے اہل خانہ کے خلاف لاہور میں قائم نجی ہاؤسنگ اسکیم 'ایڈن ہاؤسنگ' میں فوائد حاصل کرنے کی تحقیقات کے لیے درخواست کی تھی۔
نیب چیئرمین کو بھیجے گئے خط میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وہ افتخار چوہدری کے خلاف کارروائی کریں بصورت دیگر نیب کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھیں گے۔ خط میں کہا گیا تھا کہ 'افتخار محمد چوہدری، ان کی بیٹی، داماد اور ان کے والد کے خلاف معصوم لوگوں کو بیوقوف بنا کر ایڈن ہاؤسنگ اسکیم کے نام پر رقم وصول کرنے کی کارروائی ہونی چاہیے'۔
واضح رہے کہ ستمبر 2018 میں افتخار محمد چوہدری کے داماد کی گرفتاری کے بعد سابق چیف جسٹس نے فواد چوہدری کے الزامات کو مسترد کردیا تھا اور انہیں خبردار کیا تھا کہ ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت کیس ہوسکتا ہے۔