سعودی شاہ نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر غور کے لئے عرب ملکوں کا اجلاس طلب کرلیا

  • اتوار 19 / مئ / 2019
  • 5880

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان نے خلیجی اور عرب رہنماؤں کو 30 مئی کو مکہ مکرمہ میں ایک فوری ہنگامی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین سیکورٹی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس دوران سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ہمارا ملک جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور طریقے سے جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے یہ اعلان گزشتہ ہفتے ملک کی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں اور متحدہ عرب امارات کے ساحل پر تیل بردار جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد دیا گیا ہے۔ ان حملوں کو ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کی کڑی قرار دیا جارہا ہے۔

ریاض نے تہران کو ان حملوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ کیوں کہ سعودی پر حملوں کی ذمہ داری یمن کے حوثی قابل نے قبول کی تھی۔ تاہم ایران نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

سعودی عرب کے وزیر برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ 'سعودی عرب خطے میں جنگ نہیں چاہتا'۔ انہوں نے کہا کہ 'اس جنگ کو روکنے کے لیے جو کوششیں ممکن ہوئی کی جائیں گی لیکن اسی دوران اگر دوسری جانب سے جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا جواب بھر پور انداز میں پوری طاقت سے دیا جائے گا'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں لیکن ہم ایرانی حملے کے جواب میں ہاتھ پر ہاتھ دہرے بیٹھے نہیں رہیں گے'۔ انہوں نے کہا کہ 'بال اب ایران کے کورٹ میں ہے اور یہ اب ایران پر منحصر ہے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ کرے'۔

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان نے خلیجی اور عرب رہنماؤں کو 30 مئی کو مکہ مکرمہ میں طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے جس میں ان حملوں کے حوالے سے صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے ایک  بیان میں کہا کہ 'موجودہ صورت حال میں یہ ضروری ہے کہ عرب اور خلیجی ممالک کا مشترکہ موقف سامنے آئے'۔

سعودی عرب کے سب سے اہم اتحادی تصور کیے جانے والے متحدہ عرب امارات نے اپنے ساحل پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار تاحال کسی کو قرار نہیں دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یو اے ای کے ساحلی علاقے میں تیل بردار جہازوں پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری فی الحال کسی نے  قبول نہیں کی ہے۔ تاہم امریکی حکومت کے ذرائع کا اندازہ ہے کہ گزشتہ ہفتے ایران نے حوثی قبائل اور عراق میں موجود مسلح گروہ کو اس حملے کے لیے اُکسایا تھا۔

گزشتہ روز ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے خطے میں نئی جنگ چھڑ جانے کے امکان کو مسترد کیا تھا۔ جواد ظریف نے کہا تھا کہ ’ایران جنگ کی مخالفت کرتا ہے اور کوئی بھی یہ گمان نہیں کر سکتا کہ تہران پر حملہ ہوسکتا ہے‘۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ جنگ نہیں ہوگی اور نہ ہی ہم جنگ کے حق میں ہیں‘۔