بھارت میں انتخابات مکمل ہوگئے، نریندر مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا امکان
- سوموار 20 / مئ / 2019
- 4870
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی 7 مرحلوں میں ہونے والے عام انتخابات کے ایگزٹ پولز کے مطابق ایک مرتبہ پھر عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔
بی بی سی کے مطابق بھارتی عام انتخابات کے نتائج کا اعلان 23 مئی کو کیا جائے گا تاہم تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی میں ایگزٹ پولز کے نتائج غلط بھی ثابت ہوئے ہیں۔ ’ایگزٹ پولز‘ کی اصطلاح سے ان نتائج کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو باقاعدہ اعلان سے قبل ووٹرز سے یہ پوچھ کر مرتب کیے جاتے ہیں کہ انہوں نے کسے ووٹ دیا۔
حالیہ انتخابات میں بی جے پی اور کانگریس پارٹی کو ایک دوسرے کے علاوہ طاقتور علاقائی جماعتوں کی طرف سے بھی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تاہم بہت سے افراد نے ان عام انتخابات کو وزیراعظم مودی کا ریفرنڈم بھی قرار دیا۔ بھارت میں حکومت بنانے کے لیے ایک جماعت یا مختلف جماعتوں کے اتحاد کو 272 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
اب تک کیے جانے والے 4 ایگزٹ پولز میں بی جے پی کی سربراہی میں قائم اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو کامیابی حاصل ہو رہی ہے اور امکان ہے کہ انہیں 280 سے315 نشستیں مل سکتی ہیں۔ نیلسن-اے بی پی نیوز کے سروے میں بی جے پی کو 267 نشستیں مل سکتی ہیں۔
اس پیش گوئی کے ساتھ یہ امکان بھی ہے کہ پارٹی کو ریاست اتر پردیش میں بری طرح شکست ہوسکتی ہے جہاں سے کسی بھی ریاست سے اراکین اسلمبلی کی سب سے بڑی تعداد یعنی 80 اراکین لوک سبھا میں پہنچتے ہیں۔
2014 کے انتخابات میں اتر پردیش سے بی جے پی نے 71 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن نیلسن اے بی پی سروے کے مطابق اس وقت وہ 2 طاقتور علاقائی جماعتوں کے مقابلے میں 51 نشستوں پر ہار سکتی ہے۔
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ مامتا بینرجی کا کہنا ہے کہ وہ ’ایگزٹ پولز اندازوں پر یقین نہی رکھتیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس کھیل کے ذریعے ہزاروں الیکٹرنک ووٹنگ مشینوں میں ردو بدل کرنے یا انہیں تبدیل کردینے کا منصوبہ ہے۔ میں تمام اپوزیشن جماعتوں سے متحد رہنے کی درخواست کرتی ہوں، مضبوط اور ڈٹے رہیں، ہم مل کر یہ لڑائی لڑیں گے‘۔
کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے بھی ٹوئٹ کر کے الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے سمجھوتہ کرلیا ہے۔
بھارت میں انتخابات کا آغاز 11 اپریل کو ہوا تھا 7 مرحلوں میں پایہ تکمیل تک پہنچا۔ تقریباً 90 کروڑ ووٹرز کے ساتھ اسے دنیا میں جمہوریت کی سب سے مشق قرار دیا جارہا ہے۔
نریندر مودی کی قیادت میں دنیا کی چھٹی بڑی معیشت کچھ حد تک اپنی رفتار کھو چکی ہے ، شرح نمو 7 فیصد جبکہ حکومتی رپورٹ کے مطابق بے روزگاری کی شرح 1970 کے بعد بلند ترین سطح پر ہے۔