سائبر کرائم بِل صحافیوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے، نظر ثانی کی ضرورت
- منگل 21 / مئ / 2019
- 4800
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے الیکٹرانک جرائم کے تدارک کے لیے بنائے گئے سائبر کرائم بل کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے مقدمات کا سامنا کرنے والے کراچی کے صحافی شاہ زیب جیلانی نے کمیٹی کی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی اور بتایا کہ ان پر ایف آئی اے کی جانب سے سائبر دہشت گردی، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور ہتک عزت کے مقدمات دائر کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے ان پر دائر مقدمات کو خارج کر دیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’اس سارے معاملے سے معلوم ہوا کہ سائبر کرائم بل صحافیوں کو خاموش کرانے کے لئے استعمال ہو رہا ہے‘۔
انٹرنیٹ پر رازداری کے لئے سرگرم تنظیم 'بولو بھی' کی شریک بانی فریحہ ادریس نے کمیٹی کو بتایا کہ الیکٹرانک جرائم کے تدارک کے لیے اگست 2016 میں منظور ہونے والے سائبر کرائم بل کا تواتر سے غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ’شاہ زیب جیلانی کی طرح بہت سے صحافیوں اور بلاگرز کو اس قانون کے تحت گرفتاری اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے اس قانون کے غلط استعمال کے لئے رکھے گئے حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے‘۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی شرکت کی۔ کمیٹی اراکین نے سائبر کرائم بل کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کی تیاری کے وقت ان خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ اس کا استعمال صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف ہوگا۔ لیکن اس وقت کی حکومت نے ان خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے عجلت میں منظور کروایا۔
وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ گزشتہ پارلیمنٹ میں وہ سائبر کرائم بل کا مسودہ تیار کرنے والی کمیٹی کا حصہ تھیں ’اور ہمیں اس شکل میں بل کی منظوری پر تحفظات تھے‘۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ بل میں ایسی کوئی غلط قانون سازی نہیں ہے۔ البتہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔