آصف زردرای کا چیئرمین نیب کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان

  • منگل 21 / مئ / 2019
  • 6250

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے چیئرمین قومی احتساب بیورو  کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے دوران صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات بتائی ہے۔  ایک سوال کے جواب میں سابق صدر نے کہا کہ وہ نیب کا بائیکاٹ نہیں کریں گے بلکہ اسے تھکائیں گے، کیونکہ اگر بائیکاٹ کریں گے تو کہا جائے گا کہ ہم قانون کا احترام نہیں کر رہے۔

جب ان سے چیئرمین نیب کے انٹرویو سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کا عہدہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ٹی وی چینل پر انٹریو دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ چیئرمین نیب کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔

شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے نیب کے ہاتھوں منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 80 سالہ بوڑھوں کو بھی عدالت میں لایا جارہا ہے۔ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ابھی ملزمان کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوا لیکن پھر بھی انہیں ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بوڑھوں کو جیلوں میں بھی ڈالو اور اس کے ساتھ ساتھ معیشت بھی چلاؤ، تو پھر یہ کیسے چلے گا؟ جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایک افطار ڈنر سے حکومت اتنی پریشان ہوگئی جس پر آصف علی زرداری نے کہا کہ ’ابھی تو ابتدا عشق ہے۔‘

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ جب سے عہدہ سنبھالا ہے تو کبھی بھی اپنی ذات پر ہونے والی تنقید پر کوئی گلہ نہیں کیا کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ اس طرح کے کاموں میں اس طرح تو ہوتا ہے۔ لیکن دو تین دن سے صورتحال ٹھیک نہیں جس پر بحیثیت چیئرمین نیب میرا خاموش رہنا ادارے کے لیے مناسب نہیں تھا۔

چیئرمین نیب نے آصف زرداری کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ بڑا بلند بانگ دعویٰ ہے کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں اور چلیں گے لیکن نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔