سعودی عرب کا مکہ معظمہ کی طرف فائر کئے گئے میزائل مار گرانے کا دعویٰ
- منگل 21 / مئ / 2019
- 5170
سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے فائر کیے جانے والے دو بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں جن میں سے ایک کا نشانہ سعودی حکام کے مطابق مکہ معظمہ تھا۔
تاہم ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے مکہ کی جانب کوئی میزائل فائر نہیں کیا۔ حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب ملکوں کے فوجی اتحاد کے ایک ترجمان نے پیر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی فضائیہ نے دو میزائلوں کو جدہ اور طائف کی حدود میں مار گرایا۔
بعد ازاں واشنگٹن میں واقع سعودی سفارت خانے نے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ دونوں میزائلوں کو صوبہ مکہ کی حدود میں نشانہ بنایا گیا۔ اس سے قبل عرب نشریاتی ادارے 'العریبیہ ٹی وی' نے دعویٰ کیا تھا کہ مار گرایا جانے والا ایک میزائل مکہ کی جانب پرواز کر رہا تھا۔
تاہم حوثی باغیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کا یہ الزام اپنی جنگ کے لیے عوامی حمایت سمیٹنے کا ایک حربہ ہے۔ حوثی باغیوں کے ترجمان یحیٰ ساریہ نے فیس بک پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ سعودی حکومت ان الزامات کے ذریعے یمن کے عوام کے خلاف جاری اپنی ظالمانہ جارحیت کے لیے حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔
دریں اثنا حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے علاقے نجران کے ہوائی اڈے پر کامیاب حملہ کیا ہے۔ حوثی باغیوں کے ٹی وی چینل 'المسیرۃ' نے دعویٰ کیاہے کہ حملے کا نشانہ ہوائی اڈے پر موجود اسلحے کا ایک ڈپو تھا جس میں حملے کے نتیجے میں آگ لگ گئی۔ حوثی باغیوں کے اس دعوے سے قبل سعودی اتحاد نے تصدیق کی تھی کہ صوبہ نجران میں ایک غیر فوجی تنصیب پر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے۔
حوثی باغی اس سے قبل بھی سعودی عرب میں ڈرونز کے ذریعے حملے کرچکے ہیں جب کہ ان کی جانب سے سعودی علاقوں پر میزائل اور راکٹ حملے بھی معمول ہیں۔ سعودی حکام کا الزام ہے کہ یمن کے وسیع علاقے پر قابض ان باغیوں کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے اور انہیں میزائل، ڈرون اور راکٹ بھی ایران ہی فراہم کرتا ہے۔
حملوں کے حالیہ الزامات ایسے وقت سامنےآئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی کے باعث خطے کی صورتِ حال پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہے۔
اس دوران ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ کے ساتھ تنازعہ کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہمیشہ ان کی ترجیح رہے ہیں لیکن موجودہ حالات میں بات چیت کا کوئی امکان نہیں۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے 'ارنا' کے مطابق پیر کو ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ موجودہ حالات مذاکرات کے لیے سازگار نہیں اور اس وقت ایران کے پاس واحد راستہ مزاحمت اور جدوجہد ہے۔
ایرانی صدر کا یہ بیان امریکہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی کے دوران سامنے آیا ہے جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے۔ اس سے قبل پیر کو اپنے ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اسے پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ ایران نے واشنگٹن سے کھلی دشمنی مول لے رکھی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی قیادت چاہے تو وہ بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔