امریکہ کا مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوج کی تعیناتی پر غور
- جمعرات 23 / مئ / 2019
- 5070
امریکی حکام نے کہا ہے کہ محکمہ دفاع (پینٹاگون) ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔
بعض امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ پینٹاگون کے اعلیٰ حکام عنقریب وائٹ ہاؤس کو ایک مجوزہ منصوبے پر بریفنگ دینے والے ہیں جس کے تحت مزید کئی ہزار امریکی فوجی اور بھاری اسلحہ مشرقِ وسطیٰ بھیجا جائے گا۔
حکام کے مطابق پینٹاگون سے مزید فوجی اہلکار، جنگی جہاز اور میزائل مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کی درخواست امریکی فوج کی سینٹرل کمان نے کی ہے اور اس پر وائٹ ہاؤس کو جمعرات کو بریفنگ دیے جانے کا امکان ہے۔ لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا وائٹ ہاؤس سینٹ کام کی یہ درخواست منظور کرے گا یا نہیں۔
پینٹاگون نے ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے معذرت کی ہے اور کہا ہے کہ مستقبل کے دفاعی منصوبے پر رائے دینا محکمے کی پالیسی نہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز گزشتہ سال اس وقت ہوا تھا جب صدر ٹرمپ کی حکومت یک طرفہ طور پر اس جوہری معاہدے سے الگ ہوگئی تھی جو 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا تھا۔
معاہدے سے الگ ہونے کے بعد امریکی حکومت نے ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں بحال کردی تھیں جو رواں ماہ موثر ہوئی ہیں۔ ان پابندیوں کے موثر ہونے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کرگئی ہے جس میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب امریکہ نے اپنا طیارہ بردار جہاز، جنگی طیارے اور میزائل بیٹریاں مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کیا۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ اقدام خطے میں اپنے مفادات پر ایران کے ممکنہ حملے کے خدشے کے پیشِ نظر اٹھایا ہے۔ لیکن ایران امریکہ کے اس اقدام پر سخت برہم ہے اور دونوں ملکوں کے اعلیٰ قائدین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیان بازی جاری ہے۔
اگر وائٹ ہاؤس نے مزید فوجی اہلکار اور اسلحہ مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کی سینٹ کام کی درخواست منظور کرلی تو یہ صدر ٹرمپ کے موقف کے برخلاف اقدام ہوگا جو صدر بننے کے بعد سے بارہا بیرونِ ملک تعینات امریکی فوجیوں کو وطن واپس بلانے کی حمایت کرچکے ہیں۔