وزیر اعلی عثمان بزدار کا مقدمہ
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 23 / مئ / 2019
- 5710
وزیر اعلی پنجاب کے طور پر عثمان بزدار کی تقرری وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ایک حیران کن اور غیر متوقع فیصلہ تھا۔ بہت سے لوگوں نے وزیر اعلی عثمان بزدار کا نام بھی اسی وقت سنا جب ان کی وزیر اعلی کے طور پر نامزدگی ہوئی تھی۔
پنجاب کی سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والے بہت سے سیاسی پنڈت وزیر اعظم عمران خان کے اس فیصلہ کو ایک بڑا سیاسی جوا اور ایک بڑی سیاسی ناکامی سے تعبیر کرتے تھے۔ ان سیاسی پنڈتوں کے بقول پنجاب میں تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی لڑائی ایک کمزور وزیر اعلی کے مقابلے میں ایک مضبوط، متحرک اور فعال وزیر اعلی ہی لڑسکتا ہے۔ بالخصوص اگر پنجاب میں تحریک انصاف نے مستقبل کی سیاست میں اپنی سیاسی حیثیت کو برقرار رکھنا ہے تو اس کے لیے وزیر اعلی کے طور پر عثمان بزدار کی تقرری درست فیصلہ نہیں ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین بھی عثمان بزدار کی تقرری پر سخت تنقید کرتے ہیں۔حالانکہ ان کے سیاسی مخالفین کو تو ہر صورت میں خوش ہونا چاہیے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک کمزور فرد کو وزیر اعلی بنا کر عملی طور پر ان کی سیاسی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔ عملی طور اگر پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار اپنی کارکردگی سے کچھ کرکے نہیں دکھاتے تو اس کا براہ راست سیاسی فائدہ ان کے سیاسی مخالفین کو ہی ہوگا۔لیکن پہلے دن ہی سے عثمان بزدار کو میڈیا سمیت سیاسی محاذپر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ خود تحریک انصاف میں بھی بہت سے لوگ ہیں جو سمجھتے تھے عثمان بزدار کی تقرری بہتر فیصلہ نہیں۔لیکن وزیراعظم عمران خان کا وزیر اعلی پنجاب پر اعتماد او ران کو ”وسیم اکرم پلس“ کا خطاب دینا یقینی طور پر وزیر اعلی کو زیادہ پراعتماد بناتا ہے۔
بہت سے لوگ یہ منطق دیتے ہیں یا دیتے تھے کہ بہت جلد وزیر اعظم عمران خان کو احساس ہوجائے گا کہ پنجاب کا فیصلہ درست فیصلہ نہیں تھا او راب ان کی جگہ کسی او رکو سیاسی او راقتدار کے محاذ پر لانا ہوگا۔ تحریک انصاف کے اپنے اندر ”طاقت ور فریقین“ کی باہمی لڑائی او رایک دوسرے پر سبقت لے جانے یا ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرنے کا عمل بھی بہت زیادہ ہے۔ تحریک انصا ف میں بھی ایک ایسا گروہ موجود ہے جو عثمان بزدار کی تبدیلی چاہتا ہے او رپس پردہ اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔کچھ ماہ قبل تو سیاسی پنڈتوں نے بڑی شدت کے ساتھ اپنا اپنا تجزیہ پیش کیا کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو تبدیل کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے اور وہ کسی بھی وقت تبدیل ہوسکتے ہیں۔ لیکن فی الحا ل یہ سب باتیں درست ثابت نہیں ہوئیں اور وزیر اعظم عمران خان بدستور وزیر اعلی پنجاب کی پشت پر کھڑے ہیں او ران کے مخالفین کو جواب دیتے ہیں کہ کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔
وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار بنیادی طو رپر دھیمے مزاج کے او رکم گو فرد ہیں۔ سیاسی محاذ پر اونچی آواز میں بات کرنے کا وہ ہنر نہیں جانتے اور بہت زیادہ کنٹرولڈ حیثیت سے کام کرنے کا ہنر بھی نہیں جانتے۔ان کی دیانت پر بھی کوئی بڑا مسئلہ سامنے نہیں آیا جو مخالفت کی جاتی ہے اس کی اہم وجہ ان کی صلاحیت کی کمی کی ہے۔لیکن یہاں دھیمے مزاج کے وزیر اعلی عثمان بزدار کو داد دینی ہوگی کہ پنجاب جیسے اہم او ربڑے صوبہ میں وہ خاموشی سے اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ مخالفین کی باتوں کا شدت سے جواب دینے کی بجائے وہ خاموش سیاسی حکمت عملی کے تحت کام کرتے رہے ہیں او رکررہے ہیں۔ان کے بقول وہ اپنے سیاسی مخالفین کا جواب باتوں میں شدت پیدا کرکے نہیں بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر دیں گے۔بنیادی طو ر پر پنجاب میں دو بڑے طاقت ور حکمران خاندان کی حکمرانی رہی ہے۔ایک طرف شریف برادران او ردوسری طرف پانچ برس چوہدری برادران کا سکہ چلتا تھا۔ ان طاقت ور حکمرانوں کی موجودگی میں لوگ عثمان بزدار کے مقابلے میں ایک طاقت ور خاندان کے کسی بڑے فرد کو ہی وزیر اعلی دیکھنا چاہتے تھے۔
وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار پر سیاسی او رمیڈیا دونوں محاذ پر سخت تنقید سننے کا موقع ملتا ہے۔لیکن اس تنقید کے ماحول میں حالیہ دنوں میں ملک کے ایک معروف ادارے ”گیلپ سروے آف پاکستان“نے اپنے جائزہ رپورٹ میں پاکستان کے چاروں صوبائی وزرا اعلی کی سیاسی کارکردگی کو بنیاد بنا کر ان کی سکورنگ چارٹ پیش کیا ہے۔ یہ چارٹ بہت سے لوگوں کے لیے خلاف توقع ہے۔کیونکہ اس رپورٹ کو دیکھا جائے تو اس کے نتائج کے مطابق چاروں وزرائے اعلی میں پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار کی کارکردگی دیگر وزرائے اعلی کے مقابلے میں سب سے بہتر رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 37فیصد کارکردگی سے وہ اپنے صوبہ کے شہریوں کو مطمن کرسکے ہیں۔جب کے ہم اگر دیگر وزرائے اعلی کی طرف دیکھیں تو خیبر پختونخواہ میں وزیر اعلی محمود خان کی کارکردگی 34فیصد، بلوچستان کے وزیر اعلی کی کارکردگی کی بنیاد ، 30فیصد جبکہ سندھ میں سید مراد علی شاہ کی کارکردگی 27فیصدرہی ہے۔
وزیر اعلی عثمان بزدارکی حالیہ کارکردگی پر یہ مثبت رپورٹ بہت سے لوگوں کو یقینی طو رپر قبول نہیں ہوگی اور وہ اس رپورٹ کو بھی بہت زیادہ اہمیت نہیں دیں گے۔لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وزیر اعلی کے حلف اٹھانے سے لے کر اب تک ان کی کارکردگی میں یقینی طو ر پر بہتری آئی ہے۔ وہ اب کافی حد تک محترک اور فعال بھی نظر آتے ہیں او رطوفانی دوروں کی مدد سے مختلف شہروں کے حالات کا جائز ہ بھی لیتے ہیں اورکابینہ کے مسلسل اجلاس کا انعقاد بھی ان کی کامیابی ہے۔ایک اچھے وزیر اعلی کے طو رپر ہم پانچ نکات کو زیر بحث لاسکتے ہیں۔ اول اپنی حکومت اور کابینہ وانتظامیہ پر کنٹرول۔ دوئم بہتر ٹیم کا چناؤ۔سوئم کابینہ کے باقاعدگی سے اجلاس۔ چہارم صوبائی اسمبلی کے اجلاسوں میں مسلسل شرکت۔ پنجم ارکان اسمبلیوں سے رابطہ سازی۔ ششم امن و امان کی صورتحال جیسے اہم معاملات شامل ہوتے ہیں۔
اسی رپورٹ میں سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی کارکردگی کی شرح 55فیصد تھی جو کہ یقینی طور پر وزیر اعلی عثمان بزدار سے بہترہے۔مگر اس سروے رپورٹ کے نتائج نے یقینی طور پر وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے اعتماد کو مزید حوصلہ دیا ہوگا کہ وہ دیگر وزرائے اعلی کے مقابلے میں بہتر کارکردگی پیش کرسکے ہیں۔وزیر اعلی عثمان بزدار کے بارے میں اب وزیر اعظم عمران خان بھی اور زیادہ اعتماد سے بات کریں گے اور کہیں گے کہ وہ پہلے ہی کہتے تھے کہ عثمان بزدار درست تقرری تھی۔ان نتائج کے بعد وزیر اعلی عثمان بزدار کو کسی بڑی سیاسی خوش فہمی کا بھی شکار نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ ان کے مخالفین جو پارٹی میں بھی ہیں او رپارٹی سے باہر بھی وہ اب بھی ان کو قبول کرنے کی بجائے ان کو ناکام بنانے او رتبدیل کرنے کی کوششیں کرتے رہیں گے۔
وزیر اعلی عثمان بزدار کا اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف واحد علاج اپنی حکومتی کارکردگی کو اور زیادہ بہتر بنانا ہے۔کیونکہ وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ہی اپنے سیاسی مخالفین کو شکست دے سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں ایک متحرک اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ وہ خاموشی کا روزہ توڑیں او ر مختلف فریقین سے براہ راست رابطہ سازی کریں او رلوگوں کو اعتماد میں لیں۔ وہ حکومت او رپارٹی کے درمیان بھی موجود خلیج کو کم کریں اور خود پارٹی کے اہم پرانے لوگوں کے ساتھ مل کر اپنے صوبہ کی حکمرانی کے نظام میں بہتری پیدا کریں۔ نوجوان اور عورتیں ان کی جماعت کی اہم طاقت ہے او ران کو زیادہ فعال کرکے وہ نچلی سطح پر اچھی حکومت کے تاثر کو پیدا کرسکتے ہیں۔ بیوروکریسی پر حد سے زیادہ انحصار کرنے کی بجائے عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لیں۔ بالخصوص اگر وہ وہ ایک مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام تشکیل دے سکے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی جو حکمرانی کے نظام کو موثر بناسکتی ہے۔
وزیر اعلی عثمان بزدار کو اپنی ٹیم پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔کیونکہ آج کا دور تصورات پر مبنی ہوتا ہے۔ ان کی میڈیا ٹیم میں بہت خامیاں ہیں اور وہ حکومت اور وزیر اعلی سے زیادہ اپنی مقبولیت پیدا کرکے وزیر اعلی کو پیچھے رکھنا چاہتے ہیں۔ان کو بنیادی نوعیت کے کام جن میں بہت زیادہ وسائل بھی خرچ نہیں ہوتے صرف بہتر حکمت عملی سے بہتر اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے پاس اچھا موقع ہے کہ وہ اپنی ٹیم کی مدد سے خود کو اچھا وزیر اعلی ثابت کریں۔ یہ کام لفظوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات اور موثر کارکردگی سے ہوگا۔کیونکہ جو اعتماد وزیراعظم نے وزیر اعلی پر کیا ہے تو اس کا حق ایک اچھی حکمرانی سے جڑا ہوا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین بھی عثمان بزدار کی تقرری پر سخت تنقید کرتے ہیں۔حالانکہ ان کے سیاسی مخالفین کو تو ہر صورت میں خوش ہونا چاہیے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک کمزور فرد کو وزیر اعلی بنا کر عملی طور پر ان کی سیاسی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔ عملی طور اگر پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار اپنی کارکردگی سے کچھ کرکے نہیں دکھاتے تو اس کا براہ راست سیاسی فائدہ ان کے سیاسی مخالفین کو ہی ہوگا۔لیکن پہلے دن ہی سے عثمان بزدار کو میڈیا سمیت سیاسی محاذپر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ خود تحریک انصاف میں بھی بہت سے لوگ ہیں جو سمجھتے تھے عثمان بزدار کی تقرری بہتر فیصلہ نہیں۔لیکن وزیراعظم عمران خان کا وزیر اعلی پنجاب پر اعتماد او ران کو ”وسیم اکرم پلس“ کا خطاب دینا یقینی طور پر وزیر اعلی کو زیادہ پراعتماد بناتا ہے۔
بہت سے لوگ یہ منطق دیتے ہیں یا دیتے تھے کہ بہت جلد وزیر اعظم عمران خان کو احساس ہوجائے گا کہ پنجاب کا فیصلہ درست فیصلہ نہیں تھا او راب ان کی جگہ کسی او رکو سیاسی او راقتدار کے محاذ پر لانا ہوگا۔ تحریک انصاف کے اپنے اندر ”طاقت ور فریقین“ کی باہمی لڑائی او رایک دوسرے پر سبقت لے جانے یا ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرنے کا عمل بھی بہت زیادہ ہے۔ تحریک انصا ف میں بھی ایک ایسا گروہ موجود ہے جو عثمان بزدار کی تبدیلی چاہتا ہے او رپس پردہ اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔کچھ ماہ قبل تو سیاسی پنڈتوں نے بڑی شدت کے ساتھ اپنا اپنا تجزیہ پیش کیا کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو تبدیل کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے اور وہ کسی بھی وقت تبدیل ہوسکتے ہیں۔ لیکن فی الحا ل یہ سب باتیں درست ثابت نہیں ہوئیں اور وزیر اعظم عمران خان بدستور وزیر اعلی پنجاب کی پشت پر کھڑے ہیں او ران کے مخالفین کو جواب دیتے ہیں کہ کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔
وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار بنیادی طو رپر دھیمے مزاج کے او رکم گو فرد ہیں۔ سیاسی محاذ پر اونچی آواز میں بات کرنے کا وہ ہنر نہیں جانتے اور بہت زیادہ کنٹرولڈ حیثیت سے کام کرنے کا ہنر بھی نہیں جانتے۔ان کی دیانت پر بھی کوئی بڑا مسئلہ سامنے نہیں آیا جو مخالفت کی جاتی ہے اس کی اہم وجہ ان کی صلاحیت کی کمی کی ہے۔لیکن یہاں دھیمے مزاج کے وزیر اعلی عثمان بزدار کو داد دینی ہوگی کہ پنجاب جیسے اہم او ربڑے صوبہ میں وہ خاموشی سے اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ مخالفین کی باتوں کا شدت سے جواب دینے کی بجائے وہ خاموش سیاسی حکمت عملی کے تحت کام کرتے رہے ہیں او رکررہے ہیں۔ان کے بقول وہ اپنے سیاسی مخالفین کا جواب باتوں میں شدت پیدا کرکے نہیں بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر دیں گے۔بنیادی طو ر پر پنجاب میں دو بڑے طاقت ور حکمران خاندان کی حکمرانی رہی ہے۔ایک طرف شریف برادران او ردوسری طرف پانچ برس چوہدری برادران کا سکہ چلتا تھا۔ ان طاقت ور حکمرانوں کی موجودگی میں لوگ عثمان بزدار کے مقابلے میں ایک طاقت ور خاندان کے کسی بڑے فرد کو ہی وزیر اعلی دیکھنا چاہتے تھے۔
وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار پر سیاسی او رمیڈیا دونوں محاذ پر سخت تنقید سننے کا موقع ملتا ہے۔لیکن اس تنقید کے ماحول میں حالیہ دنوں میں ملک کے ایک معروف ادارے ”گیلپ سروے آف پاکستان“نے اپنے جائزہ رپورٹ میں پاکستان کے چاروں صوبائی وزرا اعلی کی سیاسی کارکردگی کو بنیاد بنا کر ان کی سکورنگ چارٹ پیش کیا ہے۔ یہ چارٹ بہت سے لوگوں کے لیے خلاف توقع ہے۔کیونکہ اس رپورٹ کو دیکھا جائے تو اس کے نتائج کے مطابق چاروں وزرائے اعلی میں پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار کی کارکردگی دیگر وزرائے اعلی کے مقابلے میں سب سے بہتر رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 37فیصد کارکردگی سے وہ اپنے صوبہ کے شہریوں کو مطمن کرسکے ہیں۔جب کے ہم اگر دیگر وزرائے اعلی کی طرف دیکھیں تو خیبر پختونخواہ میں وزیر اعلی محمود خان کی کارکردگی 34فیصد، بلوچستان کے وزیر اعلی کی کارکردگی کی بنیاد ، 30فیصد جبکہ سندھ میں سید مراد علی شاہ کی کارکردگی 27فیصدرہی ہے۔
وزیر اعلی عثمان بزدارکی حالیہ کارکردگی پر یہ مثبت رپورٹ بہت سے لوگوں کو یقینی طو رپر قبول نہیں ہوگی اور وہ اس رپورٹ کو بھی بہت زیادہ اہمیت نہیں دیں گے۔لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وزیر اعلی کے حلف اٹھانے سے لے کر اب تک ان کی کارکردگی میں یقینی طو ر پر بہتری آئی ہے۔ وہ اب کافی حد تک محترک اور فعال بھی نظر آتے ہیں او رطوفانی دوروں کی مدد سے مختلف شہروں کے حالات کا جائز ہ بھی لیتے ہیں اورکابینہ کے مسلسل اجلاس کا انعقاد بھی ان کی کامیابی ہے۔ایک اچھے وزیر اعلی کے طو رپر ہم پانچ نکات کو زیر بحث لاسکتے ہیں۔ اول اپنی حکومت اور کابینہ وانتظامیہ پر کنٹرول۔ دوئم بہتر ٹیم کا چناؤ۔سوئم کابینہ کے باقاعدگی سے اجلاس۔ چہارم صوبائی اسمبلی کے اجلاسوں میں مسلسل شرکت۔ پنجم ارکان اسمبلیوں سے رابطہ سازی۔ ششم امن و امان کی صورتحال جیسے اہم معاملات شامل ہوتے ہیں۔
اسی رپورٹ میں سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی کارکردگی کی شرح 55فیصد تھی جو کہ یقینی طور پر وزیر اعلی عثمان بزدار سے بہترہے۔مگر اس سروے رپورٹ کے نتائج نے یقینی طور پر وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے اعتماد کو مزید حوصلہ دیا ہوگا کہ وہ دیگر وزرائے اعلی کے مقابلے میں بہتر کارکردگی پیش کرسکے ہیں۔وزیر اعلی عثمان بزدار کے بارے میں اب وزیر اعظم عمران خان بھی اور زیادہ اعتماد سے بات کریں گے اور کہیں گے کہ وہ پہلے ہی کہتے تھے کہ عثمان بزدار درست تقرری تھی۔ان نتائج کے بعد وزیر اعلی عثمان بزدار کو کسی بڑی سیاسی خوش فہمی کا بھی شکار نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ ان کے مخالفین جو پارٹی میں بھی ہیں او رپارٹی سے باہر بھی وہ اب بھی ان کو قبول کرنے کی بجائے ان کو ناکام بنانے او رتبدیل کرنے کی کوششیں کرتے رہیں گے۔
وزیر اعلی عثمان بزدار کا اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف واحد علاج اپنی حکومتی کارکردگی کو اور زیادہ بہتر بنانا ہے۔کیونکہ وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ہی اپنے سیاسی مخالفین کو شکست دے سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں ایک متحرک اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ وہ خاموشی کا روزہ توڑیں او ر مختلف فریقین سے براہ راست رابطہ سازی کریں او رلوگوں کو اعتماد میں لیں۔ وہ حکومت او رپارٹی کے درمیان بھی موجود خلیج کو کم کریں اور خود پارٹی کے اہم پرانے لوگوں کے ساتھ مل کر اپنے صوبہ کی حکمرانی کے نظام میں بہتری پیدا کریں۔ نوجوان اور عورتیں ان کی جماعت کی اہم طاقت ہے او ران کو زیادہ فعال کرکے وہ نچلی سطح پر اچھی حکومت کے تاثر کو پیدا کرسکتے ہیں۔ بیوروکریسی پر حد سے زیادہ انحصار کرنے کی بجائے عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لیں۔ بالخصوص اگر وہ وہ ایک مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام تشکیل دے سکے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی جو حکمرانی کے نظام کو موثر بناسکتی ہے۔
وزیر اعلی عثمان بزدار کو اپنی ٹیم پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔کیونکہ آج کا دور تصورات پر مبنی ہوتا ہے۔ ان کی میڈیا ٹیم میں بہت خامیاں ہیں اور وہ حکومت اور وزیر اعلی سے زیادہ اپنی مقبولیت پیدا کرکے وزیر اعلی کو پیچھے رکھنا چاہتے ہیں۔ان کو بنیادی نوعیت کے کام جن میں بہت زیادہ وسائل بھی خرچ نہیں ہوتے صرف بہتر حکمت عملی سے بہتر اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے پاس اچھا موقع ہے کہ وہ اپنی ٹیم کی مدد سے خود کو اچھا وزیر اعلی ثابت کریں۔ یہ کام لفظوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات اور موثر کارکردگی سے ہوگا۔کیونکہ جو اعتماد وزیراعظم نے وزیر اعلی پر کیا ہے تو اس کا حق ایک اچھی حکمرانی سے جڑا ہوا ہے۔