سفر در سفر ۔ 11 ۔ کتابوں کے گھر میں تاک جھانک

غُلام حسین ساجد صاحب کی زبانی مستان علی کی منظم داستان سسی کا تذکرہ سنا تو دل نے کہا کہ اب لاہور آئے ہو تو یہ تحفہ خرید کر لے چلو ، یہ  کتاب حُجرے کی تنہائی میں تمہیں صحبت مہیا کرے گی ۔

مستان علی کا لب و لہجہ بہت شیریں ، متوازن ، معتبر اور پنجابی زبان کے لیے جہاں  ایک اعزاز ہے وہاں مستان علی کے لیے بھی کہ انہوں نے اپنی مادری زبان میں محبت کی کہانی لکھی ۔  اِس کا تذکرہ میں نے ریاض صحافی صاحب سے کیا اور اُنہوں نے بتایا کہ مزنگ میں کسی کتابوں کی دکان سے یہ کتاب مل سکتی ہے ۔چنانچہ برادرِ خورد زاہد راٹھور کی معیت اور ریاض صحافی صاحب کی رہنمائی میں  ہم مزنگ جا پہنچے تاکہ میں مطلوبہ پنجابی کتاب خرید سکوں ۔

کتاب کی تلاش میں صحافی صاحب ہمیں بُک ہوم لے گئے ۔ کتابوں کا یہ سٹور مزنگ کی بُک سٹریٹ میں واقع ہے ۔ بُک سٹریٹ کا نام میرے لیے نیا تھا مگر بہت بھلا لگا کہ اہلِ لاہور نے کتابوں کو احترام دینے کے لیے اردو بازار کے بعد ایک گلی مخصوص کر دی ہے ۔ اس دکان میں مجھے میری مطلوبہ کتاب تو نہ مل سکی لیکن یہاں مجھے ذوالفقار علی بھٹو کی آخری کتاب جس کا اردو ترجمہ " اگر مجھے قتل کیا گیا ۔ ۔ ۔" کے نام سے  ہمارے مرحوم دوست مظفر شیخ نے شائع کیا تھا ، نظر آ گئی اور میں نے اس کو دوبارہ پڑھنے کی غرض سے خرید لیا کہ  موجودہ سیاسی منظر نامے میں اِس کی نئی توجیہات دریافت کرنے کے امکانات موجود ہیں ۔

دریں اثنا دکان میں گاہک اور دکاندار کے مابین شناسائی کا ماحول پیدا ہوگیا اور میں نے بک ہوم میں بہت سے مغربی مشاہیر کی کتابوں کے تراجم دیکھے جن میں اطالوی مصنف دانتے کی شہرہ ئ آفاق تصنیف ، گوئٹے صاحب کی فاؤسٹ ، ارسطو کی مثالی ریاست اور وادی  سندھ اور تہذیبیں نام کی کتاب دکھائی دی ۔ اچانک بُک ہوم کے مہتمم نے مجھے پُکارا اور ایک کتاب دکھائی جس پر ہماری  ریڈیو کی مرحومہ رفیقِ کار نسرین انجم بھٹی کی تصویر تھی اور جسے ہمارے دوست زاہد مسعود نے مرتب کیا تھا ۔ اس کتاب میں نسرین پر میرا ایک مضمون بھی شامل تھا ۔ کتاب کی ایک کاپی از راہِ عنایت مجھے عطا کی گئی ۔ بُک ہوم شکریہ ۔

کتابیں تو اور بھی تھیں جو مجھے خرید کر ساتھ لانی چاہیے تھیں مگر ہوائی سفر کے دوران وزن کا خیال رکھنا پڑتا ہے کیونکہ وہاں عام مسافر کے لیے خاص برتاؤ کی کوئی روایت موجود نہیں کہ وہ مقررہ وزن سے زیادہ سامان لے جا سکے ، ممکن ہے پی آئی اے  کے ذریعے سفر میں وی آئی پی لوگوں کے لیے کوئی ایسا بندوبست ہو مگر  مجھ جیسے عامی کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ بہت زیادہ کتابوں کو شریکِ سفر کر سکے ۔

غلام حسین ساجد صاحب کے یہاں کوئی صاحب بتا رہے تھے امریکہ یاترا کے دوران  امریکہ میں مقیم دیسی مصنفین نے پاکستان سے   آئے مہمانوں کو اپنی کُتب پیش کی تھیں جو وہ لوٹتے ہوئے ساتھ نہ لا سکے اور وہ کتابیں وہیں ہوٹل والوں کا نا خواستہ تحفہ بن گئیں ۔ جب سے ادب کا محکمہ ادبی شو بزنس بنا ہے تب سے ایسی  غیر ضروری ،سرپلس یا زائد کتابیں چھپنے لگی ہیں جو ظاہر میں تو کتابیں ہیں مگر بباطن یعنی متن اور اسلوب میں نا کتابیں ہیں ۔ پھر ایک المیہ یہ بھی ہے کہ کتاب کا عہد ختم ہوگیا ہے اور اس کی جگہ الیکٹرونک میڈیا  نے لے لی ہے اور اب ای۔ کتابیں  معرضِ وجود میں آتی ہیں  ۔ اب کتاب کی پی ڈی ایف فائل بنا لی جاتی ہے ، جس کی حسبِ ضرورت چند  کاپیاں چھاپ لی جاتی ہیں اور کتاب چھپ کر بھی نہیں چھپتی ۔

ایسی ہی کچھ میرے ساتھ بیت چکی ہے کہ 2012 میں میری غزلوں کی کتاب "گُلِ ہجر کی زیبائی " پاکستان میں ایک پبلشر صاحب نے چھاپی جس کے جملہ اخراجات میں نے جیب سے ادا کیے اور اس کتاب کی تین کاپیاں مجھے بھجوائی گئیں ، چند کاپیاں مختلف اہلِ قلم کو گواہ بنانے کے لیے دی گئیں کہ کتاب چھپی ہے لیکن نہ کتاب کا اجرا ہوا ، نہ بُک سٹالوں تک پہنچی اور اُس کے بعد پبلشر نے رابطہ ہی منقطع کر دیا ۔ اسے کہتے ہیں پبلشنگ کا جادوئی جھرلو ۔ اس سے پہلے بھی پاکستان میں پاکستان بکس ایند لٹریری ساؤنڈز کے نام کے ایک ادارے نے میری دو کتابیں " خلطِ مبحث" اور " دیس نکالا" کے نام سے چھاپیں جن کے جملہ اخراجات بھی میں نے جیب سے ادا کیے تھے اور اس بعد کیا قوالی ہوئی ۔ اللہ ہی جانے کون پبلشر تھا ۔اس قسم کی کہانیاں اور بہت سی ہیں کہ ایک خاتون کی کتاب چھپوانے کے لیے اخراجات تو خاتون سے لے لیے گئے  مگر کتاب کسی دوسرے کی چھاپ دی ۔ لیکن کوئی کیا کرے ہم  ایسے ہی ہیں  اور ہم میں ایسے ویسے بہت ہیں۔ ہم سب غیر ذمہ داری کی اُس کشتی کے سوار ہیں جو ہمیں کہیں نہیں لے جا رہی ۔ بلکہ ہمارا وہ حال ہے جو منیر نیازی نے بیان کیا ہے :

منیر اس شہر پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

لیکن بُک ہوم میں میری جو پذیرائی ہوئی اُس نے مجھے بڑا حوصلہ اور توانائی دی کہ نہیں ، ہم پاکستانی ، کتاب کو اپنا علمی اور ثقافتی اثاثہ سمجھتے ہیں ۔ چونکہ ہم اہلِ قرآن ہیں اور قرآن ایک کتاب ہے جو کتابوں کی ماں ہونے کے ساتھ ہم سب کی ماں  بھی ہے اور ماں کے قدموں میں جنت کی حقیقت  سےبھی ہم باخبر ہیں اس لیے ہم  کتاب کو خود سے جُدا کر سکتے ہیں اور نہ ہی کتاب ہم سے جُدا ہو سکتی ہے ۔

تاہم کتابوں کی کوالٹی برقرار رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے ۔ میں نے دیکھا کہ پاکستان میں چھپنے والی بعض کتابوں کا کاغذ بہت ناقص ہوتا ہے ۔ بعض کی جلد کمزور اور بعض کی شیرازہ بندی اتنی نحیف و نزار ہوتی ہے کہ کتاب دو چار بار کی ورق گردانی سے ورق ورق ہو جاتی ہے ۔ بعض کتابوں کا پُشتہ جلد سے جدا ہوجا تا ہے اور چند بار کی خواندگی کے بعد کتاب گاغذوں کا گچھا بن جاتی ہے یعنی کتاب ، کتاب ہی نہیں رہتی ۔ ناقص معیار کی کتابیں چھاپنا ، طباعت کا مذاق اُڑانا ہے۔ یہاں مجھے پرانی مذہبی کتابوں کے تراجم کا ذکر بھی کر دینا چاہیے جن کی مولویانہ اردو قبلِ مسیح کے مخطوطوں کی ہم عمر لگتی ہے اور ابلاغ کے بجائے ابہام کا سبب بنتی ہے ۔ تاہم جو لوگ اور معاشرے ابہام کی فضا میں پروان چڑھتے اور بسر کرتے ہیں اُن کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ اُن کا کام صرف خواندگی ہوتا ہے تفہیم نہیں ۔ وہ پرانی کتابوں کو دوبارہ چھاپنے کے لیے زبان کو  مروجہ اسلوب ، محاورے اور روز مرہ کے مطابق بنانا ضروری نہیں سمجھتے اور مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں اور وہ اس لیے کہ من حیث القوم ہم ہیں ہی ایسے مکھی مار ۔ کر لو جو کرنا ہے !