بریگزٹ میں ناکامی: برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے 7 سات جون کو مستعفی ہوجائیں گی
- جمعہ 24 / مئ / 2019
- 5510
برطانیہ کی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے بریگزٹ معاہدے کے معاملے پر اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے سات جون کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
جمعہ کو لندن میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر اپنے خطاب میں برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے ’شدید پشیمانی‘ کی بات ہے کہ وہ بریگزٹ نہیں کروا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالتے ہی یہ کوشش کی تھی کہ برطانیہ صرف چند لوگوں کو فائدہ نہ دے بلکہ سب کے لیے ہو‘۔
ان کا کہنا تھا میں نے ریفرینڈم کے نتائج کو عزت دینے کی کوشش کی اور ’ہمارے انخلا کے لیے شرائط پر مذاکرات کیے۔‘ ٹریزا مے نے کہا کہ ’میں نے ارکان پارلیمان کو قائل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ اس معاہدے کی حمایت کریں لیکن افسوس میں اس میں کامیاب نہیں ہو سکی۔‘
انہوں نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ واضح ہو چکا ہے کہ برطانیہ کے بہترین مفاد میں یہی بہتر ہے کہ کوئی نیا وزیر اعظم ملک کی قیادت کرے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میں آج یہ اعلان کر رہی ہوں کہ میں سات جون کو کنزرویٹو پارٹی کے قائد کی حیثیت سے مستعفی ہو رہی ہوں۔‘ برطانوی وزیراعظم نے کہا ’میں نے پارٹی کے چیئرمین سے اتفاق کیا ہے کہ آئندہ ہفتے نئے وزیرِاعظم کی انتخاب کا عمل شروع ہو جائے گا۔‘
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے بعد آنا والا وزیرِ اعظم شاید بریگزٹ پر اتفاق رائے حاصل کر لے تاہم ان کا کہنا تھا ’اتفاق رائے اسی وقت ہو گا جب فریقین سمجھوتہ کریں گے۔‘
یورپین کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک نے بتا چکے ہیں کہ برطانیہ اور یورپی یونین نے 31 اکتوبر تک بریگزٹ کی ’لچکدار توسیع‘ پر اتفاق کیا تھا۔ ٹریزا مے نے نومبر 2018 میں یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ معاہدے پر اتفاق کر لیا تھا مگر اس معاہدے کو دو مرتبہ برطانوی پارلیمان میں مسترد کیا گیا جبکہ اس کے بعد صرف علیحدگی کے معاہدے کو 58 ووٹوں سے مسترد کر دیا گیا۔