راہول گاندھی کا پارٹی سربراہی چھوڑنے کا امکان، رہنماؤں کے استعفوں کی بھرمار

  • جمعہ 24 / مئ / 2019
  • 5270

بھارتی لوک سبھا انتخابات 2019 میں ناکامی کے بعد انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کو شکست خوردہ امیدواروں کے استعفے موصول ہورہے ہیں۔ جبکہ ان کی جانب سے بھی پارٹی صدارت چھوڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق بڑی تعداد میں گانگریس کے رہنما اپنے عہدوں  سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔  استعفے دینے والے رہنماؤں میں بولی ووڈ اداکار راج ببر بھی شامل ہیں جو اتر پردیش میں کانگریس کے ریاستی سربراہ بھی تھے۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس کے دوران راہول گاندھی بھی اپنا استعفیٰ پیش کردیں گے۔  راہول گاندھی اس وقت انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ہیں اور انہوں نے اپنی بہن پریانکا گاندھی کے ہمراہ انتخابی مہم کے دوران پارٹی کی سربراہی کی تھی۔

یاد رہے کہ کانگریس کو گزشتہ لوک سبھا انتخابات کی طرح ان انتخابات میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بھارتی الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بی جے پی کو 302 نشستوں پر اکثریت حاصل ہے جبکہ کانگریس کے حصے میں صرف 52 نشستیں آئی ہیں۔

راہول گاندھی  اپنے آبائی حلقے امیٹھی سے سے بی جے پی رہنما سمرتی ایرانی سے شکست کھا گئے ہیں۔  بھارتی ویب سائٹ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں کو تامل ناڈو، کیرالہ، پیڈوچیری، پنجاب، اندامن نکوبار آئلینڈ، لکشادویپ اور میگھلایا سے قلیل مارجن کے ساتھ برتری حاصل ہے۔

گزشتہ روز ٹی وی چینلز کی جانب سے انتخابات میں بی جے پی کی واضح برتری کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں بی جے پی کے حامیوں نے دہلی ہیڈکوارٹرز سمیت بھارت کے مختلف شہروں میں کامیابی کا جشن منایا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان کے مطابق ' یہ مثبت سیاست اور نریندر مودی کی پالیسیوں کے لیے بڑا مینڈیٹ ہے'۔

دوسری جانب کانگریس ترجمان سلمان سوز نے کہا کہ 'یہ سب یقیناً ہمارے حق میں نہیں ہے، ہمیں حتمی نتائج کا انتظار کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ سب اچھا نہیں ہے'۔