ملکی استحکام کیلئے میثاق معیشت کی ضرورت ہے

پی ٹی آئی کی حکومت کو ممکنہ طور پر کوئی سیاسی خطرہ لا حق نہیں ہے۔اپوزیشن کی دونوں جماعتوں کی قیادتوں کو نیب کیسز کا سامنا ہے۔ بلاول زرداری بھٹو نے حال ہی میں اسلام آباد میں سیاسی قائدین کو افطاری کی دعوت دی تھی۔ جس میں حکومت کے  خلاف تحریک چلانے کا عندیہ دیا گیا تھا۔

 تحریک تمام جماعتیں اپنے طور پر چلائیں گی، عید کے بعد مولانا فضل الرحمان اس تحریک کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔  عمران خان کے تمام ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات اچھے چل رہے ہیں اور اس حوالے سے ایک پیج پر ہیں مگر ان عوامل کے باوجود عمران خان بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روز گاری کی وجہ سے عوام میں غیر مقبول ہو رہے ہیں۔ مہنگائی کے ہاتھوں محدود آمدنی اور کم تنخواہ لینے والے طبقات بہت پریشان ہیں حکومتی وزراء خراب معاشی صورتحال کی ذمہ داری سابق حکومت پر ڈال رہے ہیں۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو  معاشی معاونت کا دعویٰ کرنے والے صنعت اور کاروبار  کا کا پہیہ متحرک نہیں کر سکے۔
اسٹیٹ بینک  نے شرح سود 12.25%کر دی ہے جس کی وجہ سے کاروباری اور صنعتی طبقات کیلئے قرضوں کا حصول بہت مہنگا ہو گیا ہے۔کار خانے بتدریج بند ہو رہے ہیں جس سے بے روز گاری پھیل رہی ہے۔  مینو فیکچر سیکٹر میں 11%کمی واقع ہوئی ہے۔ کاشتکاروں کا برا حال ہے انہیں اپنی اجناس کے دام نہیں مل رہے ہیں۔ مہنگی بجلی اور اخراجات کی وجہ سے پیدا واری لاگت میں اضافہ ہوا ہے جس سے قیمت فروخت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ہماری زمین نہایت زر خیز ہے جو کہ برسوں پہلے صرف تین کروڑ کی آبادی کی بھوک مٹاتی تھی اب 20کروڑ کا پیٹ بھرتی ہے۔پاکستان کا شعبہ زراعت  ہی ہے جو کہ خود کفیل ہے مگر بد قسمتی سے ہم نے  اس شعبہ  کوتیل کی پید ا وار کے لئے استعمال  نہیں کیا۔  جس کی وجہ سے ہمارا اربوں روپے کا زر مبادلہ خوردنی تیل کی درآمد پر خرچ ہو رہا ہے۔
 شہرپھیل کر زرعی زمین کو نگل رہے ہیں نقل و حمل کے اخراجات کی وجہ سے شہروں میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمت عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو گئی ہے۔ اب ان کھیتوں میں برائے فروخت کے بورڈ آویزاں ہیں۔ پلاٹ فروخت ہو رہے ہیں۔ ملک کا اربوں کا سرمایہ رئیل اسٹیٹ میں لگا دیا گیا ہے جہاں پر نئے بنگلے تعمیر ہو رہے ہیں۔ حکومت کے نئے ٹیکس قوانین اور زمینوں کی سرکاری قیمتوں کی وجہ سے خرید و فروخت کا سلسلہ تقریباً رک چکا ہے۔جس سے جائیداد کی خریدو فروخت کا کام کرنے والے ادارے اور افراد انتہائی پریشان ہیں۔کوئی گاہک اس لیے زمین نہیں خریدتا کیونکہ اس کو زمین کی اصل قیمت سے کہیں زیادہ رقم پر سرکاری قیمت پر رجسٹرری کروانی پڑتی ہے اس سے جائیداد کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ تو اس کو اس کی خریداری کے حوالے سے بعد میں ایف بی آر کو جواب دینا ہوتا ہے۔اسی پریشانی اور خوف نے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کو روک رکھا ہے جس سے تعمیراتی سامان تیار کرنے والی فرمیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ ہمارے کاروباری طبقات نے اپنی آمدنیوں کے بارے میں کبھی ایف بی آر کو بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس لیے ان کے جائز اور ناجائز کمائی سے بنائے جانے والے اثاثہ جات بے حساب بڑھتے گئے ہیں۔ جن میں بے نامی اور گمنام بینک کھاتے اور جائیدادیں شامل ہیں۔ حکومتی آمدنی کے ذرائع کم ہونے کی وجہ سے اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے ہر سال قرضوں پر انحصار کرتی ہے جس میں مقامی اور بیرونی بینکوں سے ادھار لیا جاتا ہے۔ یاد زیادہ نوٹ چھاپ کر اخراجات پورے کیے جاتے ہیں جس سے افراط زر اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ برآمدات بھی زر مبادلہ کے کمانے کا اہم ذریعہ ہیں جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کرنے میں مدد ملتی ہے۔ دوسرے تارکین وطن کی بھجوائی گئی رقوم بھی غیر ملکی ادائیگوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ان دونوں میں کمی سے ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑتا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر 8ارب ڈالر کے لگ بگ رہے گئے ہیں۔ ڈالر کا ریٹ 153روپے کو چھو رہا ہے۔ ایسے میں  ڈالر اور سعودی ریال جمع کئے جا رہے ہیں۔پاکستان کی زر مبادلہ کی کھلی منڈی چھوٹی ہے جس میں  سٹے بازوں پر مرکزی بینک آسانی سے کنٹرول کر سکتا ہے مگر اب آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ کیوں کہ آئی ایم ایف کی شرائط میں ڈالر کی قیمت کا تعین کرنا منڈی کی قوتوں کی ذمہ داری ہے۔
سابق دور حکومت میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقہ کار سے مستحکم رکھ کر معیشت کو بچانے یا ترقی دینے کی کوشش کی جس میں کرنسی کو ڈالر کے مطابق ایک ہی ریٹ یا شرح پر منجمد کر دیا گیا تھا۔ متحدہ عرب امارات نے پانچ سال پہلے بھی ڈالر کا ریٹ 3.675رکھا تھا جو اب بھی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ  یہ ہے کہ متحدہ  عرب امارات کو تیل کی وجہ سے زر مبادلہ کا کوئی دباؤ نہیں ہے لہذا وہ ایسا اقدامات اٹھانے میں مجاز تھا۔پاکستان میں اسحاق ڈار نے اپنی کرنسی کو ایک حد کے اندر اوپر نیچے ہونے کی اجازت دی تو اس کیلئے ضروری ہوتا ہے خزانہ میں کرنسی کے انتظامات کیلئے ریزور موجود ہوں۔جب کرنسی کی شرح گرنے لگے یا ڈیمانڈ زیادہ ہو جائے تو خود کرنسی بیچ کر یا خرید کر مارکیٹ کو متوازن کیا جاتا ہے۔
 دنیا کے ترقی یافتہ امیر ممالک اپنی کرنسی ریٹ کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں چونکہ ان کے پاس برآمدات کے ذریعے کافی زر مبادلہ کمانے مواقع ہوتے ہیں اور وہ توازن ادائیگی کے بحران سے دو چار نہیں ہوتے۔  ویسے بھی معیشت کی آزاد منڈی میں کرنسی کو ایک ریٹ پر لمبے عرصے تک رکھنا مشکل ہے کیونکہ مارکیٹ نے امپورٹ، ایکسپورٹ اور ترسیلات زر کے ذریعے خود کو ایڈ جسٹ کرنا ہوتا ہے۔ جب مارکیٹ خود کو ایڈ جسٹ کرتی ہے تو سنٹرل بینک اس کو روک نہیں سکتا۔ تو ایک دم ڈالر کا ریٹ جمپ کر جاتا ہے اور مارکیٹ میں ایکسچینج کا بحران آ جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں سیاسی اور عسکری حکومتوں نے کرنسی ریٹ کو ہر صورت کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے۔جب اگلی حکومت آتی ہے تو مارکیٹ میں بحران آ جاتا ہے۔ مارکیٹ کے نئے انتظامات کے تحت کرنسی ریٹ کو فکس کیا جاتا ہے۔ ایسے مصنوعی طور پر روکے ہوئے ایکسچینج ریٹ کا عذاب اگلی حکومت آ کر بھگتتی ہے۔ ایسی صورتحال سے ہی تحریک انصاف کی حکومت دو چار ہے۔
پاکستان کے اقتصادی امور چلانے والوں کا یہ المیہ ہے کہ انہوں نے ریاست کے وسائل بڑھانے کیلئے کبھی محصولات کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کی کوشش نہیں کی۔انہوں نے ہمیشہ روایتی کاروباری طبقات کو  متاثر کیا ہے جبکہ غیر روایتی کاروباری کرنے والے جس میں عام دکاندار، حلوائی، بیکری، پکوڑے سموسے بچنے والے شامل ہیں جو کہ روزانہ ہزاروں کی سیل کرتے ہیں مگر ٹیکس میں کچھ ادا نہیں کرتے۔ اسی طرح کئی پروفیشنل ڈاکٹر، انجینئرز اور ہسپتال، سکول شامل ہیں جو کہ بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں مگر  کوئی ٹیکس ریٹرن نہیں داخل کرتے اور نہ انکم ٹیکس درست طریقہ سے ادا کرتے ہیں۔ ان تمام شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی اشد ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ملک میں جدید انڈسٹری کے قیام کی ضرورت ہے جو کہ ویلیو ایڈیٹ مصنوعات میں اضافہ کر سکے۔ جس سے روز گار کے ساتھ حکومتی مصولات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بد قسمتی سے ہماری کسی حکومت نے صنعت کاری کی طرف توجہ نہیں دی۔ بلکہ اس کو مختلف طبقات اور سبسڈی کے ذریعے زندہ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ موجودہ حکومت بھی ان کاروباری صنعتوں کی بحالی کے لئے غریب عوام کے ریلیف دینے کی بجائے انہیں مزید امداد اور رعاتیں دینے کے بارے میں اقدامات اٹھا رہی ہے۔ مگر اصل مسئلہ بد اعتمادی کا ہے۔  وہ جب تک ختم نہیں ہوتی اس وقت تک ہماری صنعت کار برادری کاروباری عمل میں بھرپور حصہ لینے سے گریز کرے گی۔
دیکھنے میں ہم 21ویں صدی میں جا رہے ہیں مگر ہمارے حکمران طبقات ہمیں اٹھارویں صدی میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ اور ایوان سیاست میں ملکی صنعتی ترقی اور صحت اور انسانی سرمایہ کی تخلیق کے بارے میں کوئی باتیں نہیں ہوتیں صرف الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔کہیں پر نیب کے احتسابی عمل کے بارے میں غل غپاڑہ ہے تمام تاجر اور صنعت کار عدم اعتماد کے بحران سے دو چار ہیں۔ ملک میں روپے کی سر کو لیشن رک جانے سے کاروباری اور صنعتی سر گرمیاں ماند پڑ گئی ہیں۔ ہزاروں ہنر مندوں کو روز گار دینے والے کار خانے اب تعمیر نہیں ہوتے ہیں، چند سو کو روز انہ کی اجرت دینے والے شادی حال اور شاپنگ مال تعمیر ہو رہے ہیں۔ نئے برانڈز نئی مصنوعات اور فوڈ کمپنیوں کے ذریعے ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یا د رہے کوئی معیشت کسی منصوبہ بندی اور ماہر معاشیات کے بغیر آگے نہیں بڑ سکتی۔ عمران خان کی معاشی ماہرین کی ٹیم میں ہر عام تبدیلی ہو رہی ہے کوئی چھوڑ کر جا رہا ہے کوئی بر طرف کیا جا رہا ہے اور اس کی جگہ نئے افراد برتی کیے جا رہے ہیں۔ جس سے حکومت کی معاشی سمت سامنے نہیں آ رہی حکومتی وزراء گردشی قرضوں کی گر دان کرتے ہیں جو کہ 9سو ارب روپے سے بڑھ کر 16سو ارب روپے کے ہو چکے ہیں۔ حکومتی تحویل میں اداروں کے قرضے 11سو ارب روپے کے لگ بھگ ہیں۔
 سرکاری ہسپتالوں میں مفت دوائیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ ٹیسٹوں کی فیسیں کئی گنا بڑھا دی گئی ہیں۔ اپریشن مہنگے ہو گئے ہیں۔ گھریلوں استعمال کی چیزوں کی قیمت2سو فیصد بڑ ھ چکی ہے۔ہمیں کوئی نہیں بتاتا کہ معاملات کب سدھریں گے۔  آئی ایم ایف کی طرف سے قرضہ جاتی معاہدے کو آخری شکل دے دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کے ترجمان کے مطابق اس سے پاکستان میں بہتری آئے گی اور اس کی معیشت پر عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہوگا۔ساتھ ہی آئی ایم ایف کے پریس ریلیز میں انتباہ کیا گیا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ہمیں گرے لسٹ میں ڈال رہی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے حوالہ سے صوبوں اور وفاق کے مابین مالی ذرائع کی تقسیم پر جاری کشمکش کو تیز ہونے اور نئے عدم توازن کا اشارہ دیا ہے۔
 ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ آنے والی تبدیلی غریب عوام کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کر دے گی۔ پاکستان کے حکمران طبقات سرکاری پالیسی سازی اور آئی ایم ایف سب ایک ہی نظام کے رکھوالے ہیں جو کہ غریب طبقات کو کوئی ریلیف فراہم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اس نظام میں آئی ایم ایف کے جبر کے ساتھ دوسرا کوئی آپشن نہیں ہے سوا اس کے کہ ہم محصولات میں اضافہ کرنے کے ساتھ صنعتی عمل کو آگے بڑھائیں۔ تا کہ ہم بتدریج عالمی اداروں کی غلامی سے نجات حاصل کر سکیں۔ اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں اور معاشی ماہرین پر مشتمل تھینک ٹینک بنا کر اقتصادی بحران سے نکلنے کیلئے مربوط منصوبہ بندی اور میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے۔ تا کہ پاکستا ن کو معاشی استحکام بخشا جا سکے۔