کس پر اعتبار کریں اور کیوں؟

  • تحریر
  • جمعہ 24 / مئ / 2019
  • 4940

عجیب مخمصہ ہے، جو سنا وہ افسانہ تھا یا جو دیکھ رہے ہیں  وہ ہمارا وہم ہے۔ تین  چار ہفتے قبل کی بات ہے، وزیر خزانہ اسد عمر نے قوم کو خوشخبری دی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ تمام معاملات طے پا گئے ہیں۔ گھبرانے کی کوئی ضرورت ہے نہ  پریشانی کی کوئی بات۔اس سوال پر کہ روپے کی قدر میں ٹھیک ٹھاک کمی کرنے کا آئی ایم  ایف  کا مطالبہ مان لیا گیا ہے انہوں نے واشگاف الفاظ میں باور کروایا،  روپیہ اپنی اصل قدر کے لیول پر آچکا، اب اس میں مزید کسی کمی کی ضرورت ہی  نہیں۔ بلکہ انہوں نے  سٹّے بازوں کو سمجھایا کہ خواہ مخواہ ڈالر کے پیچھے ہلکان نہ ہوں، ان کے سرمائے  کا زیاں ہو گا۔ 

چار ہفتے فاسٹ فارورڈ ہوئے تو  اندازہ ہوا کہ بقول غالب  خواب تھا جو کچھ کہ  دیکھا جو سنا افسانہ تھا۔ پوری اکنامک ٹیم ہی فارغ ہو گئی۔ جو مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کو دلاسہ دے رہے تھے ان کی روانگی رات گئے یوں ہوئی کہ  اگلے دن  الوداعی پریس کانفرنس میں ان کے ساتھ کندھا ملا کر کوئی بھی بیٹھا دکھائی نہ دیا۔  راتوں رات نئے نام سامنے تھے اور معیشت کو  ٹریک پر لانے کا پورا  روڈ میپ بھی ان کے پاس تھا۔ 
گزشتہ  جمعرات، جمعہ اور رواں ہفتے میں سوموار اور  منگل کو  انٹر بنک  میں روپے کی قدر میں گیارہ بارہ روپے کی کمی ہو گئی۔ اسٹاک ایکسچینج میں بقول شخصے کشت و خوں کا سماں  رہا، مارکیٹ ایک ہی دن میں آٹھ سو پوائنٹ  تک گری۔  حکومتی حلقوں میں ایک پراسرار خاموشی تھی۔ مشیرِ خزانہ اس دوران سرمایہ کاروں سے ملے، انہیں دلاسہ دیا بلکہ شاید پرسہ دیا۔ اسٹیٹ بنک سے سرمایہ کاروں کی ملاقات ہوئی۔  رواں ہفتے اسٹاک ایکسچینج  میں  فنڈز کی کوششوں سے کچھ بہتری  کا انتظام ہوااور انٹر بنک میں  بھی  مزید  گراوٹ روکنے   کی کوشش  سامنے آئی۔
ایک ماہ قبل کے وزیر خزانہ کی بات ماننے والے سرمایہ کار اب گلہ کریں تو کس سے کریں؟ بہت سوں نے اسد عمر پہ اعتبار کیا۔ درآمدی سودے کئے، برآمدی سودوں میں ڈالر کو  جاری لیول پر بیچا مگر یہ کیا!  گزشتہ  ہفتے سے ان کے منہ پر بے اعتباری  کے زناٹّے دار تھپڑ رسید ہو رہے ہیں۔ بھاڑ میں گئی وہ  یقین دہانی کہ اب گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، سب معاملات طے  ہوگئے ہیں۔۔۔ میڈیا اور عوام کے  پاس چنگھاڑتے ہوئے سوالات ہیں لیکن جوابات دینے کے لئے کوئی منتخب نمائندہ سامنے نہیں۔
کونسا  اعتبار، کہاں  کا بھروسہ!   کسی  میں تو اتنا حوصلہ ہوتا کہ  جواب دیتا کہ رات گئی بات  گئی والا معاملہ تھا  یا  ان کی اپنی بے خبری کا تماشہ   تھا۔  آنکھیں دیکھنے اور کان سننے کو ترس گئے   کہ وہ ان سوالوں کے جواب دیتے  جنہوں  نے چند  ہفتے قبل سٹے بازوں پر پھبتی کسی کہ وہ اپنا سرمایہ کسی اور منافع بخش کام میں لگائیں اور یوں ڈالر کے پیچھے  وقت ضائع نہ کریں ۔  احمد فراز شعر یاد یاد آرہا ہے:
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لئے آ
معاشی میدان میں جاری بے یقینی کیا کم تھی کہ سال بھر سے پی ٹی آئی کی  معاشی ٹیم  اسد عمر کی سربراہی میں حکومت سنبھالنے سے قبل اور مابعد کاروباری حلقوں اور سرمایہ کاروں سے رابطے میں تھی، تجاویز اور مسائل پر بحثیں  رہیں،  سفارشات اور اقدامات کے وعدے وعید ہوئے، کئی ایک کے اعلانات بھی ہوئے مگر پھر یوں  ہوا  کہ فیصلہ کن مرحلے پر وہ  بندہ  رہا نہ  بند ہ  نواز۔ روابط، مشاورت اور مکالمے کے  اب نئے ادوار شروع ہو گئے ہیں۔ مشیر خزانہ  کی جتنی باتیں سنیں ان میں ایک ہی نکتہ زیر بحث پایا؛ محصولات کی فراہمی۔ پانچ فیصد مالیاتی خسارے کو کیسے کم کرنا ہے  تاکہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں پرائمری خسارہ 0.6 % ہو سکے۔
 مصدقہ اور غیر مصدقہ خبروں کی بہتات  ہے۔ کوئی روپے کو  جون تک ڈالر  کے مقابلے میں  155  دیکھنے  پر مصر ہے اور کوئی حسب توفیق اپنے  اندازوں کی ربڑ کو مزید کھینچ  کر اس سال کے آخر میں  ایک ڈالرکے  170  روپے پر حق الیقین کئے بیٹھے ہیں۔ اعتبار کریں تو چار ہفتے پہلے اسد عمر کے اعتبار کی درگت یاد آتی ہے، اعتبار نہ کریں تو۔۔۔ خیر اب تک اعتبار دلانے کی سنجیدہ کوشش بھی کس نے کی ہے جو اعتبار نہ کرکے کوئی تیر مار لیں گے۔  بظاہر سلیم کوثر والا معاملہ درپیش  ہے:
عجب  اعتبار و بے اعتباری کے درمیاں  ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے  جانتا کوئی اور ہے
ایسے میں میڈیا اور سوشل میڈیا میں اپنے اپنے سچ کے حق میں اعدادوشمار کے انبار لگ رہے ہیں۔  پی ٹی آئی کے بہی خواہ مصر ہیں کہ چار دنوں میں  ڈالر کے مقابلے میں  روپے کی  قدر میں گیارہ  روپے کی کمی کے باوجود روپے کی بے قدری میں مسلم لیگ ن اور پاکستان  پیپلز پارٹی کی نسبت ان کا ریکارڈ ابھی بہتر ہے۔
 اپوزیشن  حکومت پر طعنہ زن ہے کہ اس نے ملک آئی ایم ایف کو گروی رکھ دیا۔  وزارت کا کنٹرول بھی اور اسٹیٹ بنک کا کنٹرول بھی بالواسطہ آئی ایم ایف کے پاس چلا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔  دوسری  طرف حکومتی حلقے موجودہ معاشی افتاد کو سراسر پچھلی دونوں حکومتوں کا کارنامہ  قرار دیتے ہیں بلکہ پاکستان بننے سے لے کر اب تک کے ستر سالوں کو ہی ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔  یہ مناظر اجنبی تو نہیں کہ نوے  کی دِ ہائی اور گزشتہ اٹھارہ سالوں  میں حکومتی اشرافیہ نے یا تو ایک دوسرے کو مسائل کا ذمہ دار قرار دیا یا پھر آئی ایم ایف کو۔  وہی شناسا مناظر پھر دیکھنے سننے کو مل رہے ہیں۔  تلخ حقیقتیں  اور سوالات ان سیاسی دشنام طرازیوں میں کل بھی دب کر رہ گئے تھے اور آج بھی  یونہی دبائے جا رہے ہیں۔
 حکمران اشرافیہ کسی بھی جماعت سے  تعلق رکھتی ہو، کیا یہ حقیقت نہیں کہ پارلیمنٹ میں موجود ارکان میں سوائے چند استثنیات کے کوئی بھی خاطر خواہ ٹیکس گزار نہیں۔ بیشتر کے  دولت گوشوارے بھی منہ چڑاتے ہیں کہ کروڑوں روپے  الیکشن پر خرچ کرنے والوں  میں سے کئی ایک کا  اپنا گھر تک نہیں، کچھ کی تو اپنی گاڑی تک نہیں حالانکہ ان کے سفر کے قافلے میں شامل گاڑیاں اور گارڈز کی تعداد کچھ اور چغلی کھاتے ہیں۔ گزشتہ  تیس پینتیس سالوں سے سیاست میں پیسے، زمینوں، میگا کنسٹرکشن  و  انڈسٹری پروجیکٹس، تبادلوں اور  مختلف انتظامی  کمیٹیوں اور کمپنیوں کی صورت   ریاست کے وسائل پر استحقاق جتانے والے خود پر ٹیکس لگانے اور ادا کرنے سے گریزاں رہے  لیکن عوام سے  ہر ایک نے قربانی مانگی۔ آئی ایم ایف کو ذمہ دار ٹھہرانا آسان ہے لیکن  حقیقت  یہ ہے  کہ حکمران ایلیٹ (Ruling elite)  کل بھی  اور آج   بھی دوسروں کی ٹیکس گزاری کے لئے ہلکان  ہے  لیکن اپنی ٹیکس گزاری پر گنگ  ہے۔ 
ایسے میں جو ہورہا ہے، وہ وہی ہے جو کئی بار ہو چکا، ایک دوسرے پر الزام مگر بنیاد ی مسائل سے اغماض، دوسروں کو نصیحت خود میاں فضحیت۔  رولنگ ایلیٹ کی اپنی  پاور ایڈجسٹمنٹ کے اس کھیل میں ایک بار پھر الزامات کا سہارا سب کے کام آرہا ہے۔ معیشت کے پیداواری ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں، دولت کے ارتکاز اور ہر سطح پر  ناہمواری، زراعت اور صنعتی شعبے میں جمود بلکہ ترقی معکوس،  بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل کل بھی اس  رولنگ ایلیٹ  کے ہاتھوں سیاسی غرض کے لئے استعمال ہوئے اور آج بھی ہورہے ہیں۔ اس شور شرابے میں کس  پر  اعتبار کریں اور کیوں؟ َ