دسمبر 2020 تک گردشی قرضے ختم ہوجائیں گے: وزیر توانائی

  • ہفتہ 25 / مئ / 2019
  • 6020

حکومت ماہانہ 3 سو یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو 50 ارب روپے کی اضافی سبسڈی فراہم کرے گی تاکہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈز کی شرائط کے تحت بجلی کی قیمت میں اضافے سے محفوظ رہیں۔

حکومت بجلی چوروں اور نادہندگان سے 3 سو ارب روپے کی وصولی کرنے کا ارادہ بھی  رکھتی ہے۔ یہ باتیں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتائیں۔  ان کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی کی تقسیم کار 4 بڑی کمپنیوں کو 8 کمپنیوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ان کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس مقصد کے لیے پشاور، کوئٹہ، ملتان اور لاہور کی تقسیم کار کمپنیوں کو 2 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ ان کی سروس بہتر بنائی جاسکے۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت دسمبر 2020 تک گردشی قرضوں کا حجم 450 ارب روپے سے کم کر کے صفر کردے گی۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے 8 ماہ کے دوران بجلی کمپنیوں نے نجی نادہندگان سے 81 ارب روپے وصول کیے جبکہ اسی عرصے میں بجلی چوروں کے خلاف 30 ہزار مقدمے درج کیے گئے اور 4 ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ بجلی کے نقصانات میں بجلی کمپنیوں کے افسران کے کردار پر سخت محکمہ جاتی کارروائیاں بھی کی جارہی ہیں۔

وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ 300 یونٹس تک استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کے لیے یہ تمام اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ بجٹ میں 230 ارب روپے کی سبسڈی ختم کررہے ہیں تا کہ چھوٹے صارفین کو محفوظ رکھا جاسکے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمتوں میں 3.84 روپے فی یونٹ اضافے کی تجویز دی تھی لیکن حکومت نے 1.27 روپے فی یونٹ اضافہ منظور کیا اور اس سے چھوٹے صارفین کو مستثنیٰ رکھا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکج کے تحت بھی یہی پالیسی جاری رہے گی۔ اس وقت ملک کے 80 فیصد فیڈرز سے بالکل لوڈ شیڈنگ نہیں ہورہی۔

عمر ایوب کے مطابق موجود گردشی قرضوں کا حجم 38 ارب روپے ماہانہ ہے جسے کم کرکے جون تک 26 ارب روپے اور جون 2020 تک 8 ارب روپے کر کے اس مسئلے سے چھٹکارا پالیا جائے گا۔

وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ اتنے زیادہ گردشی قرضوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ توانائی کمپنیاں بجلی بنانے کے لیے 60 فیصد درآمدی ایندھن پر انحصار کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت 2 طرفہ میٹرز متعارف کروانے پر کام کررہی ہے جنہیں ٹرانسفارمرز میں بھی نصب کیا جائے گا تا کہ بجلی چوری پر قابو پایا جاسکے اور یوں بجلی چوری میں ملوث صارف کی بجلی ایک بٹن دبا کر معطل کی جاسکے گی۔

وزیر تونائی کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی چوری میں ملوث مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کرچکی ہے لیکن پیٹرولنگ کے لیے بجلی کمپنیوں کے پاس عملے کی کمی ہے لہٰذا اس کام کے لئے  950 سے 1000 افراد کو تعینات کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نادہندگان سے 100 ارب روپے جبکہ بجلی چوری میں ملوث افراد سے آئندہ برس جون تک 200 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف طے کیا ہے