پاکستان مشرق وسطیٰ مین تصادم نہیں چاہتا: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی
- ہفتہ 25 / مئ / 2019
- 6500
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کو یقین دہائی کرائی ہے کہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
پاکستان کے وزیر خارجہ نے یہ بات پاکستان اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں جمعہ کو وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے دوران کہی۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کی ہے جب کہ ایرانی وفد کی قیات ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نےکی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ ایران کشیدگی کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔
پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات میں دو طرفہ امور، علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ مذاکرات میں وزیر اعظم عمران کے حالیہ دورہ ایران کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے معاملات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور دو طرفہ تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے اور یہ کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب معاملات کو بات چیت سے حل کرنے کا حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ تمام فریقین کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مصالحانہ کوششیں جاری رکھے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تہران خطے میں امن کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر سے بھی ملاقات کی۔
ایران کی وزیر خارجہ جواد ظریف نے راولپنڈ ی میں واقع فوج کے صدر دفتر میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے جمعہ کو ملاقات کی۔ جس میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ‘آئی ایس پی آر’ کے بیان کے مطابق خطے کی صورتحال پرتبادلہ خیال ہوا۔ اس موقع پر جنرل باجوہ نے کہا کہ جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے اور تمام متعلقہ فریقین کو اسے خطے سے دور رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ کے دورے کے مقصد کے متعلق اسلام آباد اور تہران کی طرف سے کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی، تاہم بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کو سفارتی سطح پر حل کرنے کے لیے پاکستان کی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان یہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ کے تنازع میں فریق نہیں بنے گا اور یہ کہ اگر تنازع میں شدت آئی تو یہ پورے خطے کے مفاد میں نہیں ہو گا۔