سفر در سفر ۔ 12 ۔ انجمن ترقی پسند مصنفین ، لاہور
- تحریر مسعود مُنّور
- ہفتہ 25 / مئ / 2019
- 8380
یارِ سُخن طراز ، سُلطان مُروت حضرت تبسم کاشمیری کا پیغام تھا کہ پاک ٹی ہاؤس میں بُدھ کے روز منعقد ہونے والی انجمن ترقی پسند مصنفین کی ادبی نشست میں شرکت کروں ۔ میں بالعموم نظریاتی لیبلوں اورتحریکوں کی سٹیمپوں سے فاصلہ رکھتا ہوں کیونکہ مجھے اس قسم کے خانوں میں فِٹ ہونے سے اُلجھن سی ہوتی ہے۔ یعنی مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ میں ترقی پسند ہوں ، رجعت پسند ہوں یا کوئی اور لیبل مجھ پر صادق آتا ہے ۔
ایک روز عدم صاحب مرحوم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں بھی ترقی پسند ہوں تو میں نے کہا ،" بابا جی ، ہاں نہیں "۔ تو عدم صاحب بولے ، " عشقے بھئی عشقے " ۔ یہ کیسا جواب ہے ۔ مجھے معلوم نہیں کہ میں نے عشقے کی املا درست لکھی ہے یا نہیں ۔ اس لفظ کی اصل نوعیت جان سکا ہوں یا نہیں ۔ اس سے قطع نظر ، عدم صاحب نے میری بات سُنی اور چھیڑنے والی مسکراتی نظروں سے مجھے دیکھا اور بولے:
کام کے لوگ تو بصد دقت
ہر زمانے میں چند ملتے ہیں
ورنہ اِس خوش نصیب دنیا میں
سب ترقی پسند ملتے ہیں
اور بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ میری شاعری کو سُن کو ذاتی ردِ عمل میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اہلِ نظر جانتے ہیں کہ :
میرے شعروں کا ماجرا مت پوچھ
یہ ندی دو رُخوں سے بہتی ہے
ایک مصرع شعور لکھتا ہے
ایک مصرع شراب کہتی ہے
جہاں تک میرا معاملہ ہے ، میں تو غیر مشروط دوستی کو اپنا مذہب گردانتا ہوں ۔ چنانچہ میں ترقی پسندوں کا بھی دوست ہوں اور رجعت پسندوں کا بھی ۔ مشرقی درویشوں سے بھی ارادت رکھتا ہوں اور مغربی فلسفیوں سے بھی جو بالکل مشرقی درویشوں جیسے ہوتے ہیں ۔ چانچہ ژُنگ ، ایڈلر ، رسل ، سقراط ، معین الدین چشتیؒ ، علی ہجویری ، نظام الدین اولیاء اور حضرت فضل شاہ فاضلی قادری مجھے ایک ہی قافلے کے شریکِ سفر لگتے ہیں ۔ اب میرے اس مسلک پرکوئی مجھ پر ہنسے یا مجھے جاہل سمجھ کر نظر انداز کرے ، یہ اُس کا معاملہ ہے ، میرا نہیں ۔
لاہور کے درویشوں اور ولیوں میں ڈاکٹر سلیم واحد سلیم ، ڈاکٹر نذیر احمد ، استاد دامن ، ظہیر کاشمیری ، منیر نیازی ، حبیب جالب ، ساغر صدیقی اور ناصر کاظمی سے تعلقِ خاطر بھی رہا اور سب سے یکساں ارادت بھی ۔ اور چونکہ کراچی میں این ایس ایف سے وابستگی کے زمانے میں معراج محمد خان صاحب کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ بھی ملا جہاں میں این ایس ایف کے جناح کالج کے یونٹ کا سیکریٹری بھی رہا ، اس لیے اگر مجھے ترقی پسند سمجھا جائے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔
القصّہ ، میں حضرت تبسم کاشمیری کے حکم کے مطابق بدھ کی شام پاک ٹی ہاؤس پہنچ گیا ۔ بالائی منزل پر اجلاس کا سا سماں تھا ۔ بہت سے ایسے شناسا چہرے نظر آئے جو میری دربدری کے زمانے میں اوجھل ہو گئے تھے ۔ چالیس سال کے دوران بہت سے چہرے بدل گئے تھے جنہیں پہچاننا مشکل تھا ۔ اور بطورِ خاص جس شخص کو میں پہچان نہیں پایا وہ ذکا راجپوت تھے ، جو چند برس نیوز ڈیسک پر میرے رفیقِ کار رہے تھے ۔وہ ٹی ہاؤس میں بالکل میرے سامنے آ کر بیٹھ گئے اور مجھے گھور گھور کر دیکھنے لگے ۔ اُن کے سر پر چترالی ٹوپی تھی ، چہرے پر آسودگی اور اطمینان کے رنگ چوکھے تھے ۔ کافی دیر بعد خُدا خُدا کیے بغیر اُنہوں نے خموشی کا کُفر توڑا تو ذکا راجپوت نکل آیا ۔ ارے میرے یار ذکا !اور پھر جپھی اور جذباتی جملوں کا تبادلہ ہونے لگا ۔ اب میں کیا بتاؤں کہ میں کتنا خوش ہو رہا تھا اور محسوس ہوا کہ عدم صاحب پاس کھڑے کہ رہے ہیں :
گلے آپس میں جب ملتے ہیں دو بچھڑے ہوئے ساتھی
عدم ہم بے سہاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے
اور پھر دوستی کا سیلاب آ گیا ، اور دوست ، میرے اپنے پُرانے دوست ایک ایک کر کے شمس رویانہ طلوع ہونے لگے ۔ برادرِ مہربان حضرت تبسم کاشمیری ، عزیزِ گرامی اظہر غوری ، پروفیسر سعادت سعید ، کالم نگار عمر فاروقی اور رشید مصباح سمیت کتنے ہی پرانے دوست تھے ، جو چاروں طرف محبت کا حصار باندھے تھے ۔ ہال میں بینر آویزاں تھا جس پر میرا نام بطور مہمانِ خصوصی رقم تھا ۔ اجلاس کے صدر عابد حسین عابد تھے جن سے میری پہلی بار ملاقات ہو رہی تھی ۔ اجلاس کے آغاز کا رسمی اعلان ہوا اور حسبِ روایت پچھلے اجلاس کی کاروائی پڑھی جانے لگی تو دل بلیوں اچھلنے لگا ۔ ارے ، اجلاس کی کاروائی پنجابی میں سنائی جا رہی تھی البتہ اردو تحریروں کے حوالے اردو میں تھے ۔ یہ میرے لیے ایک حیرت انگیز واقعہ تھا ، واہ انجمن ترقی پسند مصنفین واہ ۔ اس سے پہلے میں نے لاہور میں پنجابی ادبی سنگت کے جلسوں کی کاروائی پنجابی میں لکھی دیکھی اور سُنی تھی ۔ لیکن یہ تو انجمن ترقی پسند مصنفین تھی جو سنگت کی روایت کو آگے بڑھا رہی تھی ۔ میں اس روایت کو آگے بڑھانے پر انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کو سلام کرتا ہوں ۔
نشست میں آزاد مہدی صاحب نے اپنے ناول کا ایک باب سنایا ۔آزاد مہدی صاحب سے میں پہلے سے شناسا نہیں تھا ، نہ ہی اُن کی کوئی تحریر نظر سے گزری تھی اور نہ ہی ہی اُن کی کوئی کتاب دیکھی تھی ۔ اُن کی تحریر کی دلکشی ، پرفیکشن، منظر نامے کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات اور روانی نے مجھے بہت متاثر کیا ۔ مجھے خوشی ہوئی کہ ترقی پسند نثر نگاروں کی نئی کھیپ اپنی نظریاتی قدروں کی امین ہے اور اپنے ادبی سفر کو انہوں نے شعوری طور پر بڑی خوش اسلوبی سے طے کیا ہے ۔ نشست کے شرکاء میں سے بہت سی معتبر آوازوں نے آزاد مہدی کی تحریر پر تنقیدی کلمات کہے اور مجھے لگا کہ ترقی پسند تحریک بڑے مضبوط ہاتھوں میں ہے ۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں ان نئے ترقی پسندوں کی ایسی عمدہ تخلیقات سے محروم کیوں رہا اور خود ہی اعتراف کیا کہ اچھی تحریروں کی اشاعت اور تخلیق سے بے خبر رہنا نالائقی ہے ۔ اور آخر میں نے اپنی ایک نظم سنائی جو " ساتواں وصیت نامہ " کے عنوان سے میرے پہلے شعری مجموعے میں موجود ہے ۔