پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد ایڈز کا شکار ہیں
- اتوار 26 / مئ / 2019
- 5380
وزیراعظم کے معاون خصوصی پر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز کے جتنے کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں وہ اصل تعداد سے کہیں کم ہیں اور تقریبا ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد ایڈز کا شکار ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اور سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے ماہرین پر مشتمل ٹیم ایچ آئی وی/ایڈز میں اضافے کی وجوہات کی تحقیق کرے گی۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ عالمی ماہرین کا 10 رکنی وفد آئندہ 2 یا 3 روز میں دن کراچی پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال بے قابو ہونے کے باعث عالمی ادارہ صحت سے رابطہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماہرین ہمارے مقامی ڈاکٹروں اور دیگر عملے کے ساتھ ایچ آئی وی میں اضافے کی تحقیق کریں گے تاکہ ہمیں اس کی وجوہات کا صحیح اندازہ ہوسکے اور اسے مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کررہی ہے اور جتنے بھی بالغ افراد میں ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے انہیں تمام ادویات پہنچارہے ہیں۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ بچوں کے لیے بھی ادویات فراہم کی جارہی ہیں اور مزید منگوائی جارہی ہیں کیونکہ یہ ناکافی ہیں۔ عام طور پر ہمارے یہاں بچے اس بیماری سے متاثر نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اسکریننگ کے لیے 50 ہزار کٹس کا آرڈر دیا ہے وہ بھی جلد پاکستان پہنچ جائیں گی اور اس کے علاوہ سندھ میں ایڈز کے مستند علاج کے لیے 3 ٹریٹمنٹ سینٹرز قائم کیے جارہے ہیں۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ جب کسی بچے کو ایچ آئی وی کی تشخیص ہوتی ہے تو اسے تمام عمر ادویات کے سہارے گزارنی پڑتی ہے جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ اس حوالے سے صوبائی حکومت کو طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس میں وفاق کی جانب سے بھر پور تعاون کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز کے جتنے کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں وہ پاکستان میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد سے کہیں کم ہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس وقت ہمارا اندازہ ہے کہ تقریبا ایک لاکھ 63 ہزار افراد اس مرض کا شکار ہیں لیکن ان میں سے صرف 25 ہزار افراد قومی اور صوبائی ایچ آئی وی ایڈز پروگرامز کے ساتھ رجسٹر ہیں جن میں سے 16 ہزار افراد مستقل دوائی لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے تخمینہ سے بہت کم لوگ علاج کرواتے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں لوگ اس مرض کو بدنامی کا باعث سمجھتے ہیں اور اس پر بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس حوالے سے آگاہی کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ 23 مئی کو صوبائی وزیر صحت کے ہمراہ لاڑکانہ کا دورہ کیا تھا۔ رتوڈیرو میں اب تک 21 ہزار 375 افراد کی اسکریننگ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کل تک 681 افراد میں ایڈز کی تشخیص ہوئی جن میں سے 537 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔
معاون خصوصی نے کہا کہ خدشہ ہے بچے استعمال شدہ سرنجوں سے اس مرض میں مبتلا ہوئے جبکہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے والدین کے ٹیسٹ منفی آئے۔ انہوں نے کہا کہ استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال مرض پھیلنے کی بڑی وجہ ہے۔ استعمال شدہ سرنجوں، خون کی منتقلی، انفیکشن پر قابو پانے کے انتظامات نہ ہونے جیسے مسائل سے متعلق اقدامات کیے جائیں گے۔