پی ٹی ایم اور سکیورٹی فورسز میں جھڑپ، تین افراد ہلاک
- اتوار 26 / مئ / 2019
- 5820
پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ پشتون تحفظ تحریک کے رہنما اور اراکینِ قومی اسمبلی محسن جاوید داوڑ، علی وزیر کی قیادت میں مسلح افراد نے شمالی وزیرستان میں فوجی کی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجہ میں پانچ سیکورٹی اہل کار زخمی ہو گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں تین افراد ہلاک جبکہ دس زخمی ہوئے ہیں جنہیں آرمی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پی ٹی ایم رہنما چیک پوسٹ پر پہنچ کر چند روز قبل حراست میں لیے گئے ’مشتبہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی رہائی‘ کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ فوج کا کہنا ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں نے پی ٹی ایم کی اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ’پی ٹی ایم کی جانب سے چیک پوسٹ پر براہ راست فائرنگ کی گئی، فائرنگ کے تبادلے میں تین افراد ہلاک اور پندرہ افراد زخمی ہو گئے جن میں پانچ سیکورٹی اہل کار بھی شامل ہیں۔‘ بیان کے مطابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر سمیت آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ محسن جاوید موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
اس سے قبل پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں اس کے رہنماؤں اور کارکنوں پر ہونے والی مبینہ فائرنگ کے نتیجہ میں 25 کارکن زخمی ہو گئے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اب زخمیوں کو میران شاہ کے ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال لے جانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق علاقے میں ٹیلی فون لائنز سمیت دیگر مواصلاتی رابطے بھی منقطع کر دئیے گئے ہیں۔
وائس آف امریکہ کے نامہ نگار شمیم شاہد کے مطابق اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر اتوار کی صبح ایک احتجاجی دھرنے میں شرکت کے لئے قافلے کی صورت میں تحصیل دتہ خیل جا رہے تھے۔ جب قافلہ 'خڑ کمر' کی چیک پوسٹ کے قریب پہنچا تو مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز نے انہیں آگے جانے سے روک کر گیٹ بند کر دیا۔ جس پر لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا۔
محسن داوڑ کے سیکرٹری رحیم داوڑ نے بتایا کہ احتجاج شروع ہونے کے بعد اچانک فائرنگ شروع ہو گئی جس سے متعدد کارکن زخمی ہو گئے۔ رحیم داوڑ کے مطابق محسن داوڑ اور علی وزیر کو فائرنگ کے اس واقعے میں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ خیال رہے کہ حال ہی میں خیبر پختونخوا پولیس نے پشتون تحفظ تحریک کے رہنماؤں کو درپیش سیکورٹی خطرات کے پیش نظر ان کی سیکورٹی بڑھا دی تھی۔ حکام نے پی ٹی ایم کے متعدد رہنماؤں کو حملوں کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے محتاط رہنے اور اپنی سرگرمیاں محدود کرنے کی ہدایت کی تھی۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی یہ معاملہ موضوع بحث بنا ہوا ہے اور مختلف ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ جن پشتون تحفظ تحریک کی حمایت پر مبنی ہیش ٹیگ اور پاکستانی فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ پشتون تحفظ تحریک کراچی میں پشتون شہری نقیب اللہ محسود کے مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل کے بعد وجود میں آئی تھی اس کے سربراہ منظور پشتین ہیں۔
پی ٹی ایم قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کا خاتمہ، جبری گمشدگیوں کی روک تھام اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سلسلہ بند کرنے کے مطالبات کرتی آئی ہے۔ افواج پاکستان کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے پی ٹی ایم پر ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی ایم کو دی گئی مہلت اب ختم ہو گئی ہے۔