کویت میں اُردو نعت کا ایک مختصر جائزہ
- تحریر افروز عالم
- اتوار 26 / مئ / 2019
- 16940
اردوادب میں نعت گوئی کی روایت بہت ہی قدیم ہے۔ اس فن کے حوالے سے معتبر اور معزز شعرا کرام کی ایک طویل فہرت اردو ادب کے بہی خواہوں کے پاس موجود ہے۔در حقیقت نعت گوئی کا فن اظہارِ عقیدت ہے۔
اُرد‘و زبان کی یہ بلند بختی ہے کہ اس میں نعت کا بہت بڑا سرمایہ محفوظ ہے۔ مقامِ شکر ہے کہ اس سرمائے میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آقائے دوجہاں رسول ِ اکرم ﷺ کی ذاتِ بابرکت اور ان کی حیاتِ مبارکہ کی وجہ سے اس فن میں برکت کا سلسلہ بحال ہے۔ سرزمینِ پاک و ہند سے باہر جہاں جہاں اُردو زبان لکھنے پڑھنے والے موجود ہیں وہاں وہاں بھی مسلسل نعت رسول ؐ لکھی جا رہی ہے۔ وقتاََ فوقتاََ یہ نعتیہ کلام مجلد ہوکر ادبیٖ، علمی و مذہبی حلقوں تک پہنچتا رہتا ہے۔ یہ بھی ایک بہت ہی اچھی بات ہے کہ اکثر و بیشتر شعرائے کرام کی نعت سے وابستگی، دیگر اصناف ِ ادب کی نسبت حد درجہ مضبوط و پابند ہے۔
خلیجی ممالک میں تیل کی دولت سے مالامال ایک خوشحال ملک ہے کویت۔ د یار کویت میں بھی نعت گوئی کاسلسلہ عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہے۔ اس لئے اس مضمون میں، دیار کویت میں تخلیق ہونے والی نعت گوئی کے حوالے سے میں اپنے خیالات کو قلم بند کروں گا۔ اس لئے آپ سب کی معلومات میں اضافہ کے لئے مختصر جائزہ پیشِ خدمت ہے۔
کویت کی ادبی تاریخ پر تحقیق کرنے والے محققین کے مطابق کویت 1953سے اُرد‘و شاعری کے آثار ملتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ کویت میں برِ صغیر سے آنے والے افراد کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا رہا۔ ظاہر ہے یہ تعداد مختلف پیشوں سے وابستہ افراد کی تھی۔ جس نے حصولِ رزق کی خاطر یہاں کا سفر کیا تھا۔ ان آنے والوں میں علم و ادب سے گہری دلچسپی رکھنے والے بھی شامل تھے اس طرح کویت میں بھی تخلیق و تنقید اور نشر و اشاعت کے سلسلے چل نکلے۔ نعتیہ مشاعروں کی روایت کی بھی ابتدا ہوئی اور نعتیہ مجموعے بھی اشاعت پذیر ہوکر منظرِ عام پر آنے لگے۔ مجھے یہ لکھتے ہوئے نہایت مسرت و فرحت کا احساس ہو رہا ہے، کہ مختلف نظریات اور ذاتی اختلاف کے باوجود نعت گوئی کے حوالے سے ایک دوسرے کے لئے احترام وتحسین کو مقدم سمجھا گیا۔ یہاں ایک ایک کر کے نعت کے ان شعرا کا ذکر کیا جائے گا، جن کے ادبی کوائف میں نعت کا مجموعہ بھی شامل ہے۔
محمدکمال اظہرؔ: 1994 میں ”حرفِ عقیدت“ کے نام سے اشاعت ہونے والا نعتیہ مجموعہ کو سرزمین کویت میں اولیت کا اعزاز حاصل ہے۔ ”حرفِ عقیدت“ کو مقامی، مذہبی،ادبی اور سماجی حلقوں میں نہایت تپاک کے ساتھ استقبال کیا گیا تھا۔ ”حرفِ عقیدت“ کے شاعر کمال اظہرؔ اُرد‘و کے ادبی منظر نامے پر مقبول و معروف ہیں۔ آپ دنیا بھر کے عالمی مشاعروں میں کویت کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ادبی رسائل میں ان کا کلام اشاعت ہوتا رہتا ہے۔ ”حرفِ عقیدت“ کے بعددوسرا نعتیہ مجموعہ ”مدینہ مدینہ“ 2004 میں نظر نواز ہوا۔ محمد کمال اظہرؔ کا جھکاؤ تصوف کی طرف رہتا ہے۔ اور رسول ِ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو وسیلہئ نجات مانتے ہیں۔ آپ نعت میں حضورﷺ کی صفات بیان کرتے ہوئے سراپا عجز و انکسار ہو جاتے ہیں۔
اعلی تعلیم یافتہ شخصیت، مذہبی خاندان سے تعلق اور روحانی کیف سے سرشار ی کی مثلث نے محمد کمال اظہرؔ کی نعتیہ شاعری کو باکمال بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ دربارِنبوت میں روحانی حاضری ان کی ہر وقت رہتی ہے اور کوشش بھی۔ آپ کویت کی دینی مجالس میں بکثرت شرکت کرتے ہیں۔ ترنم کے ساتھ پڑھتے ہوئے سامعین کو متوجہ رکھتے ہیں۔ آپ جامعۃ الکویت ذمہ دار عہدے پر فائز رہے۔ ”حرفِ عقیدت“ سے نمونہ ئ کلام پیش ہیں:
نظارہئ عروس بہاراں کی دیر تھی
جلوے نے چار چاند لگائے بہار کو
عظمت ِ انسان ہیں میرے حضورﷺ
آدمی کی شان ہیں میرے حضورﷺ
نورِ خدا ہے جلوہ فگن کائنات پر
جلوہ نے آفتاب کیا خاکسار کو
سنتے ہیں ذوق و شوق سے ہم ذکرِ مصطفے
ہے بات بس وہی جومحمدﷺ کی بات ہے
محمد اقبالؔ سندھو:۔ کویت میں اُرد‘و نعت کے حوالے سے نمایاں شہرت یافتہ، شخصی و قلمی اعتبار سے محبت میں ڈوبے ہوئے انسان، اگرچہ دیگر منظوم اصناف میں بھی طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن نعت ان کا اول و آخر تعارف ہے۔ بجا طور پر جناب محمد اقبالؔ سندھو ملتانی اپنے اس حوالے پر فخر کرنے کا حق رکھتے ہیں. 2002 میں ان کا پہلا نعتیہ مجموعہ ”ہوائے بطحا“ شائع ہوا تھا۔ کویت و بیرون کویت میں اس کتاب کو سراہا گیا۔ 2004 میں ” قندِ فردوس“ کے نام سے آپ کا دوسرا مجموعہ کتابی صورت میں نظرنواز ہوا، مترنم بحروں کی لہروں سے قارئین و سامعین کے جذبات میں ارتعاش پیدا کرنے کا ہنر موصوف کو خوب آتا ہے۔ خیال یا موضوع کو مصرعوں میں ڈھالتے وقت حدِ ادب کو تجاوز نہیں کرتے۔ زبان و بیان عقیدت و احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ شانِ رسالت مآب میں ہدیہئ عقیدت پیش کرتے ہوئے احترام پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ آپ اخلاص کے ساتھ نعت کہتے ہیں لیکن اس اپنائیت میں بے تکلف نہیں ہوئے۔ ذاتی طور پر بہت ہی ملنسار مزاج کے مالک تھے۔ اپنی زندہ دلی اور شگفتہ کلامی کے باعث ہر محفل میں سر آنکھوں پربٹھائے جاتے ر ہے۔ کویت کی اکثر دینی و ادبی مجالس میں نعت خواں حضرات اقبالؔ سندھو کی نعتیں اب بھی پڑھتے ہیں۔ آپ کا تعلق مدینہ الو لیا (ملتان) سے ہے۔ قاری کی دلچسپی کے لئے ”ہوائے بطحا“ سے نمونہئ کلام پیش خدمت ہے:
تخلیق جس کے دم سے ہوئی کائنات ہے
وہ صرف اور صرف محمدﷺ کی ذات ہے
خالق نے بھیجے یوں تو کئی انبیاء رسُل
اے کملی والے آپﷺ کی کچھ اور بات ہے
اک گھونٹ سے ہی میری تو دنیا بدل گئی
عشقِ نبی ﷺ تو چشمہئ آبِ حیات ہے
بخشا عروج آپ کو رب العظیم نے
مثبت دلیل آپﷺ کی اسری کی رات ہے
اقبال ؔ ذکرِ سرورِﷺ دیں ہے علاجِ غم
یہ ذکر معصیت سے بھی دیتا نجات ہے
اصغر علی اعجازؔ: سلسلہئ چشتیہ سے تعلق رکھنے والے اصغر علی اعجازؔ عام طور سے چشتی صاحب کہہ کر یاد کئے جاتے ہیں۔ چشتی صاحب کئی اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ آپ کی اب تک پانچ کتابیں چھپ کر منظرعام پر آ چکی ہیں۔ ان کی پہلی کتاب نعتیہ مجموعہ ”باغِ عبد“ ہے۔ ”باغِ عبد“ سمیت ان کی بیشتر کتابوں کے بابت متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ لاکھ احتیاط کے باوجود اشاعتی کاموں میں کم یا زیادہ اغلاط کا رہ جانابعید از امکان نہیں ہے۔ایسے نقائص کی شکایت عام ہے اور لکھاری و قاری ان سے آگاہ بھی ہیں۔ گرچہ چشتی صاحب کی طرف سے کتاب کے آخر میں تصحیح نامہ کے طور پر اغلاط کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔ باوجود اس کے کئی صفحات پر سقم موجود است۔ چشتی صاحب کویت کی ادبی پروگراموں میں اپنا کلام سناتے ہوئے ہر مصرعے کی تشریح بھی کرتے ہیں۔ اپنی نعتوں میں اکثر عربی کے الفاظ اور محاورات کا استعمال کرتے ہیں جو ان کے علمی مرتبے کا اظہار کرتے ہیں۔ اُرد‘و اور پنجابی کے علاوہ عربی پڑھنے اور بولنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ نعت گوئی کو ذریعہئ نجات سمجھتے ہیں۔ ان کا نمونہئ کلام پیش
خدمت ہے۔:
رب کے حبیب ہیں اور دلدار ہبں محمدﷺ
سب انبیاء کے افضل سردار ہیں محمدﷺ
سنّت حدیث دونوں اک ذات میں مجسم
گفتار ہیں محمدﷺ کردار ہیں محمدﷺ
آنکھیں تو موند ہی لیں ”ھب لی“کی اک صدا ہے
امت کے واسطے ہی بیدار ہیں محمدﷺ
ہر نقطہ ایک مرکز سے انطباق رکھے
توحید کے مثالی پرکار ہیں محمدﷺ
اعجاز خلق و خلقت میں بے مثال ہیں وہ
گویا خدا کے ارفع شہکار ہیں محمدﷺ
تری ہی یاد میں کٹی ہے
آقا ﷺعمر مری یہ کٹتے کٹتے
ذی النّورین عثماں ؓ بنے ساتھ نبی کے رہتے رہتے
حضرت علی ؓ بھی بنے صحابی نوری چہرہ تکتے تکتے
سیرت،سرورِ عالم کی ہے راہ نما رب رستے رستے
آپ کی رحمت کے صدقے سے
زخم بھرے گا بھرتے بھرتے
یثرب، بنا مدینہ بطحا طابہ طیبہ بنتے بنتے
در پہ تیرے آن گرا ہوں میں بھی سخیا گرتے گرتے
ملے گی انشاء اللہ اس کو جزا ء بھی نعتیں پڑھتے پڑھتے
جب مشتاقؔ کی عمر ہے گزری حمد و ثنا ہی لکھتے لکھتے
نعت نگاری میں زیباؔ صاحبہ کا نامِ نامی اُرد‘و نعت گو خواتین شاعرات کی فہرست میں نمایاں حیثیت رکھتاہے۔ ا ٓپ کے نعتیہ کلام میں گہرائی اور تاریخِ اسلام سے آگاہی کی بنا پر اکثر واقعات کی طرف اشارے بھی ملتے ہیں۔ آپ اپنے فن کے ساتھ مخلص ہیں، اپنا کام دلجمعی کے ساتھ کر تی ہیں۔ نعتیہ مجموعہ ”درِخدا نما“ کے علاوہ آپ کے شعری مطبوعات میں رخ زیبا، پہلا آنسوں موسم کا، چاہتیں بے وصول ہوتی ہیں، چلے بھی آؤ گلاب رت ہے، بھی شامل ہیں ۔۔،در خدا نما،سے نمونہئ کلام پیش ہے:
ہے مقصود میرا وہ ذاتِ گرامی
مقدس ہے جن کا بہت نام نامی
منوّر ہوا یہ جہاں اک جھلک سے
کہ تشریف آئی ہے خیرالانامی
وہ ذکرِ شفاجس کے ہر ھمّ و غم میں
دلوں کو ملی ہے سد ا شادمانی
نکل جائے گی ذہن سے پھر ہراک شے
رگ و پے میں آئی جو حبِّ دوامی
اشارے سے انکے پلٹ آئے سورج
وہ داعیئ حق رحمتوں کے پیامی
جسے لوگ کہتے ہیں معراج زیباؔ
یہ ہے نیم شب آپ کی خوش خرامی
رشید میواتی:۔ چہرے پہ شباب،لب پہ تبسم، دل میں خلوص واحترام،ڈسکہ کی سیاست میں سرگرم اور کویت کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ دار رہے۔ پاکستان میں ہوں تو کویت کی سرگرمیوں سے باخبر۔ کویت میں ہوں تو پاکستان کی سیاست و واقعات پر نگاہ۔ میواتیؔ صاحب محبت کرنے والے آدمی تھے۔ گفتگو‘، لباس اور برتاؤ میں سلیقہ اور اہتمام رکھتے تھے۔ غزل کا دو مجموعہ منظرِ عام پر ہے۔ جس طرح ان سے مل کر طبیعت خوش ہوتی ہے بالکل اسی طرح ان کی کتابیں دل شاد کرتی ہیں۔ حبیبِ خدا حضرت محمدؓﷺ سے محبت کرتے ہیں جس کا آئینہ دار منظرِ عام پر آیا ہو ا نعتوں کا مجموعہ ”عقیدتوں کی مہک“ ہے۔ رشید میواتی صاحب اپنی شاعری میں انتہائی سادہ بحریں استعمال کرتے ہیں۔ ذاتِ نبی ﷺ سے عقیدت و اخلاص ہر مصرعے میں نمایاں ہے۔ کہیں کہیں روحانی محسوسات بھی پائی جاتی ہیں۔ ”عقیدتوں کی مہک‘ سے چند شعر پیش کرنا چاہتا ہوں:
انھیں کے نام سے روشن ہے سینہ
وہی منبہ ہیں ساری روشنی کا
انھیں کے نام کی جپتا ہوں مالا
یہ عالم ہے مری دیوانگی کا
اگر لکھتا نہ میں نعتِ محمدﷺ
کوئی مقصد نہیں نھا شاعری کا
اس کے علاوہ کویت کی ادبی تاریخ میں اور کئی شاعر ہیں جو تبرکاََ نعت گوئی کرتے رہے ہیں۔ اس میں کئی صاحبان صاحبِ تصنیف بھی ہیں۔ قاری کے ذوقِ مطالعہ کے لئے کچھ اشعار درج کئے دیتا ہوں:
تصور میں معنی کی دنیا بساؤ
تخیل جہاں تک چلے لے کے جاؤ
محمدﷺ کی تعریف ممکن نہیں ہے
محمدﷺ کی توصیف ممکن نہیں ہے(عمرخطاب ارم)
مودّب ہوگئیں آنکھیں، جبیں کو بندگی آئی (باقی ؔ احمدپوری)
دھوپ دنیا میں، میرا سایہ آپﷺ (عابدہ ؔ کرامت)
ؔ
سویا ہوا نصیب جگایا ہے آپ نے
ذرے کو آفتاب بنایا ہے آپ نے (فیاض وردگ)
خوشبوؤں سے جو معطر ہے فضا یاد آئے (نجم عکاسی)
ؔ
چٹخ جاتی ہیں کلیاں بھی ستارے تھام لیتا ہوں
ہوا لیتی ہے بوسے جب نبی ﷺکا نام لیتا ہوں (سعیدروشن)ؔ
شکر کا سجدہ کیا، یا رحمۃ اللعالمیں (ایوب کرجیکر)
ہم عاصیوں پہ آقا یہ احساں ہے آپﷺکا
جھکتے نہیں ہیں ہم کسی پتھر کے سامنے (عنبرؔ فتحپوری)
جس سے کون و مکاں معطر ہے (سعید نظرؔ)
جب بھی کرتی ہیں تیرا ذکر بدلتے موسم
پھول کھلتے ہیں درختوں پہ ثمر لگتا ہے (خالد سجاد)
صفدر جی گنگنا کے اسے پیار کیجیے (صفدر علی صفدر)
انھیں نسبتوں کے جمال سے ملا عظمتوں کو دوام ہے (افروز عالم)
ؔ
زباں پہ جن کی درود و سلام ہوتا ہے
نصیب ان کے ہی در کا غلام ہوتا ہے (بدرؔ سیماب)
کاش لے جائے رب مدینے میں
زندگی گزرے اب مدینے میں (عماد بخاری)