لوگ در لوگ

فرخ سہیل گوئندی  ایک معروف سیاسی دانشور،کارکن،مصنف،تجزیہ کار، سیاح کی حیثیت سے ملک کے سیاسی اور سماجی و علمی و فکری حلقوں میں ایک معتبر نام کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست سے عشق کرنے والے فرخ سہیل گوئندی نے عملی سیاست کا آغاز بھی بھٹو سیاست سے کیا۔

یہ وہ دور تھا جب ملک میں دائیں اور بائیں بازو کی سطح پر نظریاتی سیاست کا غلبہ تھا اور علمی و فکری حلقوں سمیت اہل سیاست میں بڑی گرم جوشی اور انقلاب جیسے موضوعات زیر بحث ہوتے تھے۔فرخ سہیل عملًا سیاسی جدوجہد کا ایک ایسا سپاہی ہے جس کی ساری زندگی جدوجہد کے درمیان گزری ہے۔نظریاتی محاذ پر مزاحمت کی سیاست کرنے والے فرخ سہیل گوئندی کے سیاسی اہداف بڑے واضح تھے۔ وہ جمہوریت، قانون کی حکمرانی، منصفانہ اور شفافیت پر مبنی نظام او ربالخصوص محروم طبقات جس میں مزدور،کسان، عورتیں، اقلیتیں اور نوجوان طبقات کی خوشحالی کو اپنی سیاست او رجدوجہد کو بنیاد بناتے ہیں۔

اگرچہ فرخ سہیل اب عملی سیاست کا حصہ نہیں لیکن سیاست اور سماجیات ہی ان کی  جدوجہد کا اب بھی حصہ ہے۔ وہ  اپنی تحریریوں اور مختلف تھنک ٹینک میں اپنی موثر شمولیت اور بالخصوص سوشل میڈیا کی دنیا میں رائے عامہ بنانے اور اس عمل میں اپنا نکتہ نظر پیش کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔وہ ایک متحرک اور فعال دانشور ہیں اور ہمیشہ کسی نئے نکتہ کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ ان کو پاکستان میں ترکی کی داخلی سیاست کا گرو سمجھا جاتا ہے۔پاکستان کے بعد ترکی ان کا دوسرا گھر ہے او رہمیشہ ترکی میں ہونے والی سیاسی او رسماجی تبدیلیوں پر ان کی نہ صرف گہری نظر ہوتی ہے بلکہ ہم جیسوں کی وہ راہنمائی بھی کرتے نظر آتے ہیں۔اسی طرح پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست پر بھی ان کو بہت دسترس ہے اور مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے اہم موضوعات پر ان کی گہری نظر ہے۔ وہ صرف داخلی سیاست ہی نہیں بلکہ ان کو عالمی سیاست پر بھی کافی عبور حاصل ہے۔
”لوگ در لوگ“ ان کی نئی کتاب ہے۔ یہ کتاب کم اور ان کی سیاسی اور سماجی زندگی اور جدوجہد کی ایک ایسی کہانی ہے جس میں وہ ایک ہی وقت میں کئی بڑی بڑی اہم شخصیات پر اپنے ذاتی تجربات پیش کرتے ہیں بلکہ ان شخصیات کا خاکہ بھی خوب پیش کرتے ہیں۔ ان میں جو بڑے نام شامل ہیں ان میں ذوالفقار علی بھٹو،بے نظیر بھٹو،ملک معراج خالد،مولانا عبید اللہ سندھی،حنیف رامے، بابائے سوشلزم شیخ رشید احمد، راؤ رشید، ممتاز کاہلوں، خشونت سنگھ، کلدیپ نیئر، اندرکمار گجرال، منو بھائی، وارث میر، عاصمہ جہانگیر، حنا جیلانی، ڈاکٹر انور سجاد، محمود مرزا ایڈوکیٹ، مدیحہ گوہر، سید مشاہد حسین، یونس ادیب سمیت کئی اہم اکابرین شامل ہیں۔ ان بڑی شخصیات سے جڑی یادوں کو فرخ سہیل نے بہت خوب انداز میں پیش کرکے کئی اہم واقعات سے پردہ اٹھایا ہے۔
فرخ سہیل گوئندی کے بقول ان کی حالیہ کتاب ”لوگ درلوگ“ان واقعات او رتجربات پر مشتمل کتا ب ہے جنہیں میں نے اپنی سیاسی جدوجہد،قلمی میدان اور عملی زندگی کے دوران دیکھام بیتا یا محسوس کیا۔عملی زندگی کے اس سفر کے دوران ان بیشتر لوگوں یا شخصیات نے مجھے اپنے حلقہ دوستی میں شامل کرلیا او ران ہی واقعات وتجربات کا کچھ حصہ میں نے اس کتاب میں پیش کردیا ہے۔سیاسی کارکن، قلم کار اور فکری جدوجہد کے ایک مسافرکے طورپر جن لوگوں سے مجھے ملنے، ملاقاتوں او رمکالمات کے جو تجربات ہوئے انہیں اس کتاب میں اس لیے بھی شامل کیا گیا ہے کہ ان کا میرے حوالے سے ایک طرح سے ”عوامی تاریخ“سے تعلق ہے۔کتاب کا مطالعہ کرتے وقت آپ کو 1970 کی دہائی کی سیاست کی کہانی، پیپلز پارٹی کے عروج و زوال کی داستان،پاک بھارت تعلقات میں بہتری پیدا کرنے کی سیاست، پاکستان کی عملی داخلی سیاست کے گردوپیش دائیں بازو اور بائیں بازو کی سیاست کے نشیب و فراز کی کئی کہانیاں پڑھنے کو ملیں گی او رآپ کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ مصنف کی آوارہ گردی کے کیا نتائج سامنے آئے ہیں۔
معروف صحافی اور دانشور آئی اے رحمان کے بقول یہ کتاب پر شور عہد کی ایسی تصویر ہے جسے پڑھ کر قارئین تو لطف انداوز ہوں گے ہی اس میں مورخین کے لیے بھی بہت سا قابل قدر مواد موجود ہے جو انہیں تاریخ کو حقیقت کے قریب رکھنے میں مدد دے گا۔گوئندی کی یہ بات درست ہے کہ اس کتاب میں درج واقعات کل ہماری سیاسی تاریخ لکھنے والوں کے کام آئیں گے اور عوامی تاریخ سازی کا عمل آگے بڑھتا جائے گا۔“اسی طرح گوئندی کی دوسرے ملکوں میں دوست بنانے کی صلاحیت کی اعلی ترین مثا ل ترکی کے قد آور سیاست دان بلند ایجوت سے تعلق خاص کی حکایت ہے جنہوں نے ترکی میں گوئندی کی متعدد بار پزیرائی کی اور اسی طرح بھار ت میں بھی ان کے دوستوں کا حلقہ کافی وسیع ہے جو ان کی عالمی شخصیت کے پہلو کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
فرخ سہیل گوئندی سابق وزیر اعظم ملک معراج خالد کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ”زندہ انسانوں سے پیار کا جن سے میں نے سبق سیکھا ان میں ملک معراج خالد سرفہرست ہیں۔ میں نے ان کے لبوں سے ہزاروں مرتبہ سٹیج پر ”احترام آدمی“اور ”احترام آدمیت“ کا لفظ سنا۔ لفظوں کی حرمت کے حوالے سے بھی ان ہی کے لبوں سے یہ فلسفہ حیات سمجھا۔“معراج خالد بیڈن روڈ پر رہتے تھے اور برصغیر کا سب سے  بڑا افسانہ نگار سعادت حسن منٹواور مایہ ناز ادیب مستنصر حسین تارڑبھی یہیں کے رہنے والے تھے۔ فرخ سہیل کے بقول بڑے لوگ  گھروں اور گاڑیوں سے نہیں ناپے تولے جاتے۔
ڈاکٹر انور سجاد میری زندگی میں ان لوگوں میں سے ایک ہیں جن سے میں نے ہر دم خوش رہنا سیکھا ہے۔لاہور کے اس سپوت کو میں نے کبھی بھی مایوس نہیں دیکھا، ہردم مسکراتے پایا۔جنرل ضیا کی آمریت میں ان کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس افسر نے کہا چلیں ڈاکٹر صاحب آپ کی گرفتاری کا حکم ہے۔ وہ اپنے کلینک سے اٹھے، پولیس کو گرفتاری دی او رپولیس وین میں بیٹھ گئے۔محلے والے اکھٹے ہوگئے،گاڑی چلنے لگی، سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے مارشل لا کے زندان میں جاتے ہوئے انقلابی دانشور نے مسکراتے ہوئے تھایندار سے کہا، ٹھرو ابھی گاڑ ی نہ چلاؤ، وہ رک گئے او رپوچھا کیوں۔ڈاکٹر انور سجاد نے کہا  کہ  گاڑیوں کے اوپر لگے ہوٹر بجاؤ، محلے میں پتہ چلے کہ میری بارات پس زندان جارہی ہے۔ میرا ٹہکا ہونا چاہیے کہ آمریت کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے گرفتار ہوا ہوں۔“
فرخ سہیل نے بہت ہی کمال شخصیت محمود مرزا ایڈوکیٹ کے بارے میں بھی خوب لکھا ہے۔ ان کے بقول محمود مرزاشہر کے ان دانشوروں میں شمار ہوتے تھے جو ہر نکتہ نظر کے لوگوں سے رابطہ رکھتے او رمختلف موضوعات پر کھل کر بحث کرنے، سمجھنے و سمجھانے کی کوشش کرتے۔ وہ توازن رکھنے والے دانشوروں میں شمار ہوتے تھے۔ مجھے خود یاد ہے کہ وہ سیاست اور سماجیات کو جوڑ کر ایک ایسے منصفانہ نظام کی بات بڑی شدت سے ہمارے سے کرتے تھے کہ کیسے پاکستان ایک فلاحی او رجدید اسلامی ریاست بن سکتا ہے۔وہ طبقاتی نظام کے خلاف اور عام آدمی کے مسائل پر گہری نظر رکھتے او ران عام آدمی کی سیاست ان کا اہم ایجنڈا ہوتا تھا۔
اچھی بات یہ ہے کہ مصنف نے لکھتے ہوئے حقایق کو مدنظر رکھا اور معاملات کو جس انداز میں دیکھا اسی انداز میں سب کے سامنے پیش بھی کردیا ہے۔ ان کے بقول یہ مختلف شخصیات سے جڑے واقعات تھے جو ان پر قرض بھی تھے۔ کیونکہ نئی نسل کو اس کتاب کی مدد سے یہ راہنمائی مل سکتی ہے کہ اس معاشرے میں سیاسی اور سماجی سطح پر جدوجہد کرنے والے بہت سے لوگوں نے مختلف محاذوں پر بڑی بڑی مشکل  اور صعبوتیں سمیت کن حالات واقعات کا سامنا کیا اور برداشت کیا، مگر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
جن کرداروں پر فرخ سہیل نے اپنے تجربات پیش کیے ہیں یہ واقعی نایاب لوگ تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگ اب اس دنیا میں نہیں مگر یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ آج اس ملک میں جو تھوڑی بہت جمہوریت یا اس سے جڑی قدریں ہیں، اس کی وجہ یہ وہی کردار ہیں جوکتاب میں پیش کیے گئے ہیں۔ فرخ سہیل نے ان کرداروں کو پیش کرکے او ران کی خدمات کا اعتراف کرکے ان اہم اور بڑے ناموں کی جدوجہد کو بھی سب کے سامنے پیش کردیا ہے۔فرخ سہیل کو  داد دینی ہوگی کہ انہوں نے اپنے قلم کی مدد سے بادشاہوں او رحکمرانوں یا دولت مندوں کی تاریخ لکھنے کی بجائے ان کرداروں کو پیش کیا ہے جو واقعی اس معاشرے کا اصل حسن ہیں او رمجھ سمیت بہت سے لوگ ان بڑے ناموں پر فخر کرسکتے ہیں۔