مسلم لیگ (ن) نے چیئرمین نیب کی متنازع ویڈیو پر تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کردیا
- سوموار 27 / مئ / 2019
- 5040
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنما خواجہ آصف نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی متنازع آڈیو اور ویڈیو کی پارلیمانی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان سے خصوصی کمیٹی بنانے کی درخواست کی ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ چیئرمین نیب کی متنازع آڈیو اور ویڈیو منظر عام پر آنے میں پاکستان تحریک انصاف ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو کردار چیئرمین نیب کے معاملے میں ادا کیا ہے، وہ شرم ناک ہے کیونکہ انہوں نے اپنے لوگوں کو تحفظ دینے کے لیے چیئرمین نیب کی ذات پر حملہ کرکے ان کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ مسئلہ گھمبیر ہوچکا ہے۔ میں اپنی اور تمام اپوزیشن پارٹیز کی جانب سے اس ایوان کو تجویز پیش کرتا ہوں کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ سارا معاملہ عوام کے سامنے آسکے۔
مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت نے نیب کے قانون سے بچنے کے لیے ایک ایسی صورتحال پیدا کی ہے جس سے وہ نیب کو بلیک میل کرنا چاہتی ہے۔ تاہم حکومت نیب کو ٹارگٹ کرکے اپنے لوگوں کو نہیں بچا سکتی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں نیب کے قانون کا شکار ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ نیب میں قانون میں کچھ شقیں ایک آمر کے دور میں سیاسی حریفوں کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ڈالی گئیں تھیں۔ انہیں ختم کرکے نیب کے قانون میں تبدیلی کی جائے۔ چیئرمین نیب سے متعلق ایک کالم کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اس میں ایسی بات کہی تھی کہ نیب کے پاس کچھ ایسے کیسز بھی موجود ہیں جس کی وجہ سے حکومت گر سکتی ہے۔ اسی بیان کے بعد حکومت چوکنا ہوگئی۔
انہوں نے کہا چیئرمین نیب کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جارہی ہے اور قومی اسمبلی کو اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے، جس کی وجہ سے ہمارے ادارے کی عزت میں اضافہ ہوگا۔
تحریک انصاف کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت تحریک انصاف میں ایسے لوگ موجود ہیں جو عمران خان کی جگہ وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔
جب حکومتی اراکین اسمبلی میں موجود افراد میں سے کسی نہ کہا کہ ایسا نہیں ہے تو خواجہ آصف نے کہا کہ پوری دنیا کو معلوم ہے، اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی معلوم ہے، جس پر اسپیکر اسمبلی نے کہا کہ مجھے کیا معلوم؟ اور ایوان قہقہوں سے گونچ اٹھا۔