خارقمر سانحہ پر پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ، چوکی کے قریب سے مزید پانچ لاشیں مل گئیں

  • سوموار 27 / مئ / 2019
  • 5870

پاکستان میں حقوقِ انسانی کے کمیشن نے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں کی ہلاکت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر پشتون تحفظ موومنٹ کے تین کارکنوں کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد اب پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اسے علاقے سے پانچ مزید لاشیں بھی ملی ہیں تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان ہلاک شدگان کا تعلق اتوار کو پیش آنے والے واقعے سے ہے یا نہیں۔

پی ٹی ایم نے اپنے کارکنوں کی ہلاکت اور جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی فوجی حکام کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف پیر کو سوشل میڈیا پر مہم چلانے کا اعلان کیا ہے جبکہ ہلاکتوں کے خلاف پشاور اور بلوچستان کے کچھ شہروں میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

پاکستان میں حقوقِ انسانی کے کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن نے پیر کو ایک بیان میں شمالی وزیرستان میں ’فوجی طاقت کے استعمال کے نتیجے میں  پی ٹی ایم کے تین کارکنوں کی ہلاکت‘ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے تنظیم اور سکیورٹی اداروں کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے ریاست اور قبائلی اضلاع کے رہائشیوں کے درمیان مستقل بنیادوں پر کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔

ایچ آر سی پی نے ایم این اے علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر ایک پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے جو معاملے کی تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی ایم ایک برس سے زیادہ عرصے سے قبائلی اضلاع کی مقامی آبادی کے مسائل کو اجاگر کرتی آئی ہے اور یہ خدشات دور کرنے اور مطالبات پورے کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے اور یہ کہ ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی کو قبائلی اضلاع تک آزادانہ رسائی دی جانی چاہیے۔

اس سے قبل اتوار کو رات گئے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے بویا کے علاقے میں گشت کے دوران ایک نالے سے پانچ لاشیں ملیں جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ جس مقام سے یہ لاشیں ملیں وہ خارقمر کی اس چیک پوسٹ سے ڈیڑھ کلومیٹر دور ہے جو کہ کل کے تصادم کا مرکز تھی۔ فوج کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ کا کہنا ہے کہ ان کے پانچ کارکن اتوار کے واقعے میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 45 زخمیوں میں سے آٹھ کی حالت نازک ہے۔ خار قمر چیک پوسٹ پر اتوار کو پاکستانی فوج کے اہلکاروں اور پی ٹی ایم کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ پانچ فوجیوں سمیت 15 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کی قیادت کرنے والے پی ٹی ایم کے رہنما اور جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

قومی اسمبلی میں بویا میں اس سانحہ  پر بات کرتے ہوئے مسلم (ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے بھی پاک فوج کی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔  خواجہ آصف نے کہا کہ بویا میں ہونے والے واقعے کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس دھرتی پر جس کا بھی خون بہے وہ ہمارے لیے افسوس کا باعث ہے۔  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس طرح فاٹا کے عوام نے قربانیاں دی ہیں اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہم تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہم نے ماضی کو غلطیوں کو درست نہیں کیا تو قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔  لیگی رہنما نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں لازوال ہیں، ان پر قطعاً حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ہمیں اس کا بھی اعتراف کرنا چاہیے کہ یہ معاملات طاقت سے نہیں سیاست سے حل ہوتے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے نمائندوں کو چاہیے کہ وہ ان علاقوں اور ان کے لوگوں کو قومی دھارے میں شامل کریں۔ اگر ایسا نہیں کریں گے تو سرحد پر ایسے دشمن عناصر موجود ہیں جو ہمارے اندر موجود خامیوں کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔