مراد علی شاہدؔ کے کھٹے میٹھے کالم

کالم نگاری کوئی سہل کام نہیں ہے۔ یہ کانٹوں پر چلنے کے مترادف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زیرِ بحث موضوع کے دریا کو کوزے میں بند کرنا پڑتا ہے۔ ایک ایک جملہ بلکہ ایک ایک لفظ نپا تلا ہونا چائیے۔

 اس میں داستان گوئی یا افسانہ نویسی جیسی’کھُل کھیلنے‘ والی گنجائش بالکل نہیں ہوتی۔ محدود مضمون میں متذکرہ موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنا پڑتا ہے۔اس کے ساتھ زبان و بیان کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ زبان سادہ مگر تیکھی ہونی چائیے۔ کیونکہ اخبار کے قارئین مشکل زبان پسند نہیں کرتے لیکن سنجیدہ موضوعات میں بھی تلخ و شیریں چٹکلے ضرور چاہتے ہیں۔ یوں کالم کو ایسی چٹپٹی پلیٹ بنا کر پیش کرنا پڑتا ہے جس میں کھٹے، میٹھے، نمکین اور کرارے کھانے موجود ہوں۔ ایسی ہی ایک چٹپٹی پلیٹ یعنی کالموں کی کتاب اس وقت میرے سامنے موجود ہے جس کا نام ہی’کھٹے میٹھے کالم‘ ہے۔

اس کتاب کے خالق مراد علی شاہدؔ ہیں جو دوحہ(قطر) کے ایک سکول میں ٹیچر ہیں لیکن اپنے خیالوں،خوابوں اور تحریروں میں ہمہ وقت پاکستان میں رہتے ہیں۔کالموں کے علاوہ افسانچے بھی لکھتے ہیں اور شعر بھی کہتے ہیں۔ لیکن ان کا اصلی میدان کالم نگاری بلکہ مضمون نگاری ہے۔ ان کے تقریباََتمام کالموں کے موضوعات پاکستان کے سیاسی، سماجی، معاشرتی اور خاندانی مسائل پر مشتمل ہوتے ہیں۔ان مسائل پر نہ صرف مراد صاحب کی نظر بہت گہری ہے بلکہ اس کے علل و اسباب اور روزمرہ کے حالات و واقعات کا بھی ادراک ہے۔ ان مسائل کو وہ اپنے مخصوص مزاحیہ اور طنزیہ انداز میں یوں بیان کرتے ہیں کہ جس پر طنز کیا گیا ہو وہ بھی بے اختیار مسکرا اٹھتا ہے۔

وہ سیاسی کج رویوں اور معاشرتی اُونچ نیچ کو طنز و مزاح میں لپیٹ کر یوں پیش کرتے ہیں کہ قاری حظ اٹھائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان کی مثالیں اور لطیفے موقع کی مناسبت سے اور لڑی میں پروئے پھولوں کی طرح  دلکش محسوس ہوتے ہیں۔ایسے محسوس ہوتا ہے کہ قاری کوئی مزاحیہ ڈرامہ دیکھ رہا ہے لیکن مراد شاہد کے ڈرامے میں کہیں بھی پھکڑ پن نظر نہیں ہے۔ شروع سے آخر تک ادبی زبان کی گرفت قائم رہتی ہے کہیں بھی یہ سطح سے نیچے نہیں جاتی۔ جو مراد شاہدؔ کی انتہائی کامیابی ہے کیونکہ اتنے چٹخاروں اور تلخ و ترش باتوں میں طرزِ تحریر اور زبان کا معیار قائم رکھنا ہر گز آسان نہیں ہے۔ 

 یوں تو کالم بھی ادب کی ایک صنف ہے مگر ’کھٹے میٹھے کالم‘ صرف کالم نہیں بلکہ فکاہیہ اور طنز و مزاح پر مشتمل مضامین ہیں۔ ان کے دلچسپ ہونے کا  اندازہ ان کے ناموں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔اس کتاب میں شامل کچھ کالموں کے نام حسبِ ذیل ہیں۔بچہ جمہورا،شاعری ایک متعدی مرض ہے،لوٹے لفافے اور گھوڑے،بیوی پٹاخہ، متشددانہ شوہر، گدھا خر اور کھوتا،روٹی کھل گئی اے، میاں کی میاؤں اور بچے من کے سچے۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ تحریر کو دلچسپ بنانے کے چکر میں مقصدیت کا خاتمہ ہوجائے۔ مراد شاہد کے کالموں میں مقصدیت، سنجیدگی اور واضح پیغام ملتا ہے۔اپنا مقصد بیان کرنے کے لیے مراد کوئی تقریر نہیں کرتے، بحث میں نہیں الجھتے اور الجھاتے، بلکہ کھیل کھیل میں اپنا مدعا بیان کر دیتے ہیں۔ بلکہ ایسے لگتا ہے مصنف کسی موضوع کو ہاتھ میں لے کر اس سے کھیل رہا ہو اور اپنے ساتھ قارئین کو بھی کھلا رہا ہو۔کھیل کھیل میں وہ ایسی کام کی بات کر جاتا ہے کہ قاری انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ اور مقام ہوتاہے جو کالم لکھنے کا مقصد ہوتا ہے۔

مراد شاہد کے طنز و مزاح سے بھرپور چند جملے ملاحظہ فرمائیں ”شاعر کسی شخصیت کا نہیں، ایک کیفیت کا نام ہے، جو کسی وقت بھی، کسی پر بھی لاحق ہو سکتی ہے۔ بعد از کیفیت ایک اچھا خاصا وضع قطع کا وجیہہ شخص، شاعر شاعر سا لگنے لگتا ہے۔ یہ عرصہ کیفیت مختصر بھی ہو سکتی ہے اور طویل بھی“ ایک جگہ لکھتے ہیں ”ایک بار مجھے ایک عالمی مشاعرہ میں شمولیت کا اتفاق ہوا تو جناب میں حیران و ششدر رہ گیا کہ ایک کہنہ مشق شاعر ’چسکہ‘ چائے کے کپ میں ڈال کر اسٹیج پر رونق افروز ہو گئے۔ ’چسکہ‘ خالص تھا، پہلے گھونٹ پر ہی فرمانے لگے کہ جناب ’چسکہ ابھی گرم ہے اس میں تھوڑا پانی  ملا دیجیے تاکہ شعر حلق میں پھنس کر نہ رہ جائے“۔

ایک جگہ لکھا”موقع پرست شاعر نہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے دیتے ہیں اور نہ کوئی مشاعرہ۔ موقع اور مشاعرہ کی ایسے تاک لگائے بیٹھے ہوتے ہیں جیسے ٹام جیری کے انتطار میں منہ بسور رہا ہو“ایک اور جگہ لکھتے ہیں ”جیسے جیسے الیکشن قریب آتے جا رہے ہیں، سیاسی لوٹے ایک سیاسی مسجد چھوڑ دوسرے سیاسی باتھ اور حمام کا رخ کر رہے ہیں۔ جبکہ سیاسی گھوڑے اپنے سائیس سمیت ایک اصطبل کو چھوڑ  دوسرے اصطبل کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہوتے ہیں“ ایک جگہ رقم طراز ہیں ”وکیلوں کے دھرنوں میں سب سے زیادہ مار پولیس سے پڑتی ہے یا مارِ آستین سے۔ دونوں ماروں سے وکلا کو اس بات کا اندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ روؤں دل کو یا پیٹوں جگر کو‘‘

غرضیکہ ’کھٹے میٹھے کالم‘ حقیقتاََ طنز و مزاح اور شگفتگی کلام کا خوبصورت مرقع ہے۔ اس کی سطر سطر دلچسپیوں سے بھر پور ہے۔ میں اس کتاب کے مصنف مراد شاہد کو اس خوبصورت تخلیق پر مبارک  باد دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ان کا قلم یوں ہی شگفتگیوں کے رنگ بکھیرتا رہے۔