بھارتی انتخاب: نظریات کی ناقابل فہم لڑائی
- تحریر محمد آصف اقبال
- سوموار 27 / مئ / 2019
- 5030
سات مرحلوں میں انجام دی جانے والی لوک سبھا الیکشن کی جدوجہد ختم ہو گئی۔جن کو اقتدار حاصل ہونا تھا ہو گیا اور جن کے حصے میں ناکامی لکھی جانی تھے لکھی جاچکی۔ایک بار پھر ہندوستان کے تکثیری سماج میں جو مختلف رنگوں سے مزین ہے ایک مخصوص نظریہ کو جن کی فکر اور رنگ ایک ہے اقتدار حاصل ہوا ہے۔
19مئی کے آخری مرحلے کے الیکشن ختم ہونے کے بعدایگزٹ پول آنا شروع ہو گئے تھے۔جس میں صاف طور پر این ڈی اے کی سونامی دیکھی جا سکتی تھی۔ایگزٹ پول بتارہے تھے کہ این ڈی اے کو 300سے زائد سیٹیں حاصل ہونے والی ہیں۔ان میں سب سے کم اے بی پی نیوز کے اعداد و شمار تھے جس میں 267سیٹیں این ڈی اے اور127یو پی اے کو ملنے کا اشارہ تھا۔لیکن دیگر نیوز ایجنسیاں 306سے لے کر 365تک این ڈی سیٹیں دیتی نظر آرہی تھیں۔اور آخر کار ایگزٹ پول پر بے شمار اندیشوں اورتجزیوں کے بعدایگزٹ پول کے اعداد و شمار ہی صحیح ہوتے نظر آئے۔
یہ سب کیسے ہوا؟اس کے باوجود کہ مودی حکومت کے خلاف بے شمار محاذ پر الیکشن لڑا جا رہا تھا،اس کا جواب غالباً کسی کے پاس نہیں ہے۔سوائے برسراقتدار حکومت سے وابستہ افراد اور کیڈر کے پاس۔جن کا کہنا ہے کہ دراصل الیکشن لڑا ہی مودی کے نام پر گیا ہے۔جو ایک بہادر،نڈر،ملک کی حفاظت کرنے والااور اسے ترقی دینا والا لیڈر ہے اور جس نے گزشتہ پانچ سال میں ملک کو گزشتہ ستر سال کی بدحالی سے نکال کر خوشحالی میں لانے کی جرات کی ہے۔لہذاعوام اپنا من بنا چکے تھے کہ اگر کسی کو کامیاب کرنا ہے تو وہ مودی ہی کو کامیاب کریں گے۔مودی کے چہرے کے علاوہ ملک میں کوئی ایسا چہرا سامنے نہیں تھا جس کے نام پر ووٹ دیا جا سکتا ہو۔لہذا یہ عوام کا مینڈیٹ ہے،عوام کی پسند ہے،عوام کا فیصلہ ہے۔اور اسی عوامی فیصلہ اور پسند کو نتائج آنے کے بعد تمام سیاسی پارٹیوں نے قبول کیا اور ایک بار پھر نریندر مودی اور ان کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیابی کی مبارک باد پیش کی۔
اس درمیان چند واقعات اہم ہیں جن کا تذکرہ ضروری لگتا ہے،کچھ کا تذکرہ گزشتہ ہفتہ کے مضمون میں بھی کیا گیا تھا ۔ یہ نتائج کو سمجھنے میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔بنگال کی پرتشدد صورتحال اور الیکشن کمیشن کا اندرونی خلفشار کا تذکرہ کیا جاچکا ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ بہار جہاں گزشتہ لوک سبھا انتخابات 2014میں آرجے ڈی کو 4سیٹوں پر کامیابی ملی تھی اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے کہ اس وقت لالو پرساد میدان میں تھے اور نتیش کمار بھی این ڈی اے کا حصہ ہونے کے باوجود ناراض چل رہے تھے۔
ابھی کے نتائج میں آر جے ڈی کو 3سیٹوں کے نقصان کے بعد صرف ایک لوک سبھا سیٹ پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ لالو پرساد جیل میں ہیں،لالوکی منفرد سیاست کام نہیں آسکی،اس کے باوجود کانگریس نے اتحاد کیا،لیکن راہل گاندھی نے ایک بھی بڑے پروگرام میں آر جے ڈی کے ساتھ اسٹیج شیئر نہیں کیا۔ دوسری جانب لالو یادو کے بیٹوں میں اختلاف کھل کے سامنے آگیا۔بڑے بھائی تیج پرتاب کا کہنا تھا کہ میں ہی بہار کا دوسرا لالو ہوں۔وہ تیجسوی پر حملہ بولتے ہوئے کہتے ہیں کہ لالو جی 10پروگرام کرتے تھے لیکن ہمارا بھائی صرف دو سے چار پروگراموں میں بیمار ہو جاتا ہے۔اس ڈائیلاگ کا ایک خاص پس منظر ہے جسے مختصرا ً سمجھنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ دونوں بھائیوں میں لالو یادو کے جیل جانے کے بعد سے بری طرح سے رسہ کشی جاری ہے۔اس رسہ کشی نے انہیں اندرون خانہ اور بیرون خانہ سیاسی محاظ پر کمزور کیاہے۔
دوسری جانب کانگریس کے راہل گاندھی نے ایک بیان میں کہاکہ ہم نے مودی کے لیے سارے دروازے بند کردیے ہیں۔آؤٹ لک انگریزی کے ایڈیٹر روبن بنرجی اور پولیٹکل ایڈیٹر بھاؤنما وج ارورہ کو انٹرویو دیتے ہوئے راہل نے کہا کہ گزشتہ 2014کے الیکشن کے وقت 10سالہ یو پی اے سرکار کے اقتدار میں رہنے سے ہمارے لیڈروں میں کچھ تکبر آگیا تھا۔خراب اقتصادی حالات نے بھی اثر ڈالا تھا۔ملک میں ناراضگی بڑھ رہی تھی، اس لیے لوگوں نے قیادت کے لیے بدمزاج شخص کو پسند کیا۔نریندر مودی کے پاس بڑا موقع تھا،لیکن وہ کوئی تبدیلی نہیں لا سکے،جو وزیر اعظم کے طور پر کامیاب ہونے کے لیے ضروری تھا۔
ملک کے عوام نے مودی کو جو موقع دیا، اس کا انہوں نے استعمال کیا ہوتا،لوگوں کو بھروسہ برقرار رکھ پاتے، خود کو تبدیل کرنے اور زیادہ حساس بناتے، احتیاط سے سنتے اور ٹیم کے ساتھ کام کرتے،تو وہ عظیم وزیر اعظم بن سکتے تھے۔لیکن مودی ویسا نہیں کر پائے،جس کی ملک کے لوگوں نے توقع کی تھی۔جن لوگوں نے انہیں 2014میں حمایت دی وہ ان سے ناراض ہیں۔پانچ سال بعد موجودہ نظام کے متبادل کے تلاش میں ہیں۔لیکن راہل کی یہ باتیں نتائج نے غلط ثابت کردیں۔
اُسی درمیان مہاتما گاندھی کا قاتل گوڈسے کو محب وطن بتانے پر نوبل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ آج پرگیہ ٹھاکر نے مہاتما گاندھی کی روح کو قتل کیا ہے،بی جے پی کو انہیں پارٹی سے فوری طور پر باہر نکال کر راج دھرم نبھانا چاہیے۔لیکن دلچسپی اور حیرت کی بات یہ ہے کہ عوام نے پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو لوک سبھا ممبر کے طور پر منتخب کر لیا اورکانگریس کے دگوجے سنگھ کو چھوٹی موٹی نہیں بلکہ بڑے مارجن کے ساتھ3,64,822ووٹوں سے ناکام بنا دیا۔اسی درمیان یہ خبربھی سامنے آئی کہ شمالی ہندوستان کی اکلوتی ریاست پنجاب جہاں کانگریس کو قدرے بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیں۔اسی ریاست کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندرسنگھ نے سنسنی خیز الزام لگاتے ہوئے کہا کہ نوجوت سنگھ سدھو جو گزشتہ اسمبلی انتخابات سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوئے تھے،وہ مجھے ہٹا کر خود وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں اور یہ بھی الزام لگایا کہ وہ کانگریس کی شبیہ خراب کر رہے ہیں۔
ان بیانات سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور نوجوت سنگھ سدھو کی اندرونی لڑائی عوامی سطح پر سامنے آگئی۔کیپٹن نے یہ بھی کہا کہ میں سدھو کو بچپن سے جانتا ہوں،میری ان سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے لیکن وہ لالچی ہیں اور وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں۔دوسری جانب سدھونے امریندر سنگھ کا نام لیے بغیر ان پرحملہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں،سیٹیں نہ ملیں تو استعفیٰ دے دیں گےلیکن میں کہتا ہوں کہ اگر بے ادبی کرنے والوں پر کارروائی نہیں ہوئی تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔اوراسی درمیان ترنمول کانگریس نے مرکزی الیکشن کمیشن میں اعتراض درج کراتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے کیدارناتھ دورہ کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا جائے۔راجیہ سبھا میں ترنمول کے راہنماڈیرک اوبرائن نے چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ کو خط لکھ کر شکایت کی اور کہا کہ 17مئی کو انتخابی مہم ختم ہوگئی لیکن دو دن سے ٹی وی والے مودی کی کیدارناتھ-بدری ناتھ یاترا نشر کر رہے ہیں۔مودی نے ٹی وی کے سامنے پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیدار ناتھ کا ماسٹر پلان تیار ہے۔آج آخری مرحلے کی پولنگ کے دن ووٹروں کو لبھانے کے لیے یہ سب کرنا انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔لہذا الیکشن کمیشن کو اس معاملے میں کارروائی کرنی چاہیے۔
اسی درمیان ترنمول کے ڈیریک اوبرائن کے ذریعہ یہ خبر بھی سامنے آئی جس میں انہوں نے کہا کہ مرکزی فورسز بی جے پی کے اشارے پر کام کرہی ہیں۔بنگال میں پولنگ کے دوران مرکزی فورسز بی جے پی کے اشارے پر ووٹروں کو خوف زدہ کرہی ہیں۔سنٹرل فورسز ووٹروں سے بی جے پی کو ووٹ دینے کو کہہ رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ کمل کے نشان پر ووٹ دیں ورنہ ٹھونک دیں گے۔اس کی ویڈیو بی جے پی کے پاس ہے،کئی میڈیا ہاؤسز نے جاری بھی کی ہیں۔اور آخر میں نتائج کے بعد پہلی پریس کانفرس میں راہل گاندھی نے مودی حکومت کو مبارک باد پیش کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ نظریات کی لڑائی ہے جو آگے بھی جاری رہے گی۔
لیکن یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ یہ کیسی نظریات کی لڑائی ہے جس میں نظریہ پر بات ہی نہیں ہوتی۔ کانگریس اور سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں کا اندرونی اور بیرونی خلفشار انتہا پر ہے اور وہ لوگ جو چیخ چیخ کر لال سلام کرتے ہیں،دہلی کے جے این یو میں ایک خاص نظریہ کے خلاف بڑے پیمانہ پر محاذ کھولتے ہیں،اُنہیں پر مغربی بنگال میں یہ الزام بھی لگتا ہے کہ وہ نہ صرف ترنمول کانگریس کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن ہر حربہ استعمال کرتے ہیں،یہاں تک کہ اُن لوگوں کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں،ووٹ دیتے اور دلواتے ہیں،جن کے خلاف وہ ایک طویل مدت سے نظریاتی جنگ میں برسرپیکار ہیں۔