مودی کی جیت: خدشات اور توقعات
- تحریر افتخار بھٹہ
- سوموار 27 / مئ / 2019
- 4600
ہندوستان میں 17ویں لوک سبھا کے انتخابات میں نریندر مودی کی قیادت میں ہندوبنیاد پرست بھارتی جنتا پارٹی نے اکثریت حاصل کر لی ہے۔ انتخابات میں 67%ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحاد نے 353نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے اس میں بی جے پی کی نشستیں 303 ہیں۔
1971کے بعد ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اتحادیوں کی بیساکھیوں کے بغیر کوئی جماعت مسلسل دوسری بار دہلی میں حکومت بنائے گی۔ کانگریس 52 نشستیں جیت پائی ہے اور اس کے اتحاد کی صرف 95نشستیں ہیں۔ انتخابات میں اپوزیشن کے بقول الیکشن کمیشن نے مودی کی مدد کی ہے اور اس کی نفرت پر مبنی تقریر کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی ۔ اپوزیشن کی پارٹیوں کو انتخابا ت میں دھاندلی کے بار ے میں تحفظات ہیں اس انتخاب کے نتیجہ میں مودی کو ایک بار پھر ایک ارب سے زائد انسانوں کی قسمت کا اختیار مل گیا ہے۔ سیاسی پاپو لزم کے اس دور میں امریکہ میں سفید شدید پسند ٹرمپ انسانیت کے ساتھ گھناؤنا کھیل کھیل رہا ہے جبکہ اسرائیل میں شدت پسند یہودی نیتن یاہو فلسطینیوں کیلئے عرصہ حیات تنگ کر رہا ہے۔ ہندستان نے کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ایسا لگتا ہے اگلے پانچ سال بھی اسی تناؤ اور بحرانوں میں گزریں گے۔
سرحد پار کے الیکشن کے نتائج سن کر سب کو تفتیش ہو رہی ہے کیونکہ ہندوستان کے سیاسی حالات پورے خطے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب سے مودی سرکار بر سر اقتدار ہے وہاں پر چھوٹی ذات کے ہندوؤں اور اقلیتوں کو تشد د کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان کے خلاف مودی کا نفرت بھرا رویہ دنیا کے سامنے ہے، انتخات میں فقید المثال کامیابی کے بعد نریندر مودی نے اعلان کیا کہ انتخابات میں سیکو لرزم کا ناکام ہوگیا ہے۔ جعلی سیکو لر اپنی اخلاقی قوت گنوا چکے ہیں جس کی تصدیق انتخابات میں کر دی ہے۔
بھارت اپنے آئین کی روح کے مطابق اپنا ریاستی تشخص سیکو لر جمہوریہ کھو بیٹھا ہے اب بھارت اپنے آئین کی فلاسفی کے بر عکس ایک بنیاد پرست ہندو ریاست بن چکا ہے۔ جنوبی ایشیا کے ایک ارب سے زائد شہری بھارت کی انسان دشمن پالیسیوں کے سبب زندگی کی راحتوں کو ترستے ہیں مگر انتخابات میں فیصلہ تو بھارتی عوام کا ہے جس کا احترام کرنا چاہیے۔ لیکن یہ خطے کی سلامتی کا سوال ہے جس سے ہماری آنے والی نسلوں کی زندگیوں کا تحفظ جڑا ہوا ہے۔ مودی نے گزشتہ پانچ سال جس طرح ہندو اکثریت کے تعصبات کو ہوا دی خیال تھا کہ وہ الیکشن میں اکثریت نہیں حاصل کر پائے گا۔ مگر یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مودی نے اپنے اقتدار کے شروع ہی میں کئی اچھے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا تھا جس میں غریبوں کو بینکوں میں اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت دینا، انشورنس کا منصوبہ، دیہاتی علاقوں میں بجلی کی فراہمی امدادی قیمتوں کے ساتھ ایل پی جی کے کنکشن کی فراہمی، غریب عوام کیلئے ٹائلٹ بنانا میک ان انڈیا، انڈین مہارتوں اور ڈیجٹل انڈیا وغیرہ کے پروجکٹس شامل ہیں، جنہوں نے ہندوستان کے عوام کا تعلق مودی کے ساتھ جوڑ کر اس کو سیاسی کامیابی سے ہمکنار کیا۔
مودی کے دور حکومت میں معیشت دن بدن ترقی کرتی رہی اور اب اس کا شمار دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں ہوتا ہے۔ مودی کی ادارہ جاتی اصلاحات کی آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے تعریف کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت 2019میں دنیا کی پانچویں بڑی اکنامی بن جائے گا۔ مودی کی کامیابی پر ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔ اس کی کامیابی پر سرمایہ داروں کی خوش دیدنی ہے کہ وہ ان حالات میں بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ اور جیو پالیٹکس کو اپنے بڑھتے ہوئے مواقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ہندوستان کی تاریخ کے سب سے مہنگے انتخابات پر 7بلین ڈالر خرچ ہوئے ہیں جو کہ2016میں امریکہ میں ہونے والے انتخابات سے زیادہ ہیں۔ جس میں 6.5ارب ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ کارپوریٹ سیکٹر کی جانب سے سیاسی پارٹیوں کو دیئے جانے والے فنڈ کا 91%بھارتیہ جتنا پارٹی کو ملا تھا جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر اشتہارات کی مد میں کروڑ ہا روپے خرچ کیے گئے تھے۔ جبکہ کانگرس کے اخراجات اس کے مقابلے میں معمولی تھے۔ آج کے کانگرس کے برعکس بی جے پی سرمایہ دار طبقات کی روایتی جماعت ہے۔ ہندوستان میں 90کی دہائی میں شروع ہونے والی لبرل پالیسی کی وجہ سے ارب پتیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ مودی کی سرمایہ دارانہ پالیسیاں ہیں۔ امیر اور غریب کے درمیان تفریق میں اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں 80%لوگوں کی آمدنی 3ڈالر روزانہ کے لگ بھگ ہے۔ مودی نے سالانہ 2کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس وقت بے روز گار کی شرح 3دہائیوں میں بلند ترین ہے۔
مالیاتی اداروں اور بینکوں کو خوش کرنے کیلئے نوٹ بندی جیسے اقدام اٹھائے گئے معیشت میں موجود 86%لوگوں کو اکاؤنٹ کھولنے پر مجبور کیا گیا۔ اس کے علاوہ جی ایس ٹی کے ایک نظام کا نفاذ کیا گیا جس سے چھوٹے کاروبار کو نقصان پہنچا مگر بڑے سرمایہ داروں کو منافع ہوا۔ اس ساری صورتحال میں مودی نے اپنی انتخابی مہم کی بنیاد ہندو نیشنل ازم اور پاکستان کی دشمنی پر رکھی تھی اور خود کو ہندوستان کے چوکیدار کے روپ میں پیش کیا۔ انتخابی مہم کے دوران بی جی پی کے تمام راہنماؤں بشمول نریندر مودی پارٹی صدر امید شاہ اور دیگر وزرا نے پاکستان کے علاقہ بالا کوٹ پر فضائی حملے کا کریڈٹ لیتے ہوئے دکھائی دیئے۔ کشمیر کے علاقہ پلوامہ میں نیم دستی فوجی پر خود کش حملے کا خوب فائدہ اٹھایا مودی کا پاکستان کے خلاف یہ نعرہ گھر میں گھس کر ماریں گے اس کے ذریعہ جنگی جنون کو بڑھایا گیا۔ اور ہندوستانی عوام کو پیغام دیا گیا کہ ان کی حکومت میں ملک کی سلامتی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
بالا کوٹ پر فضائی حملے کے بعد مودی کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ نریندر مودی ایک سخت گیر ہندو قوت پرست ہے جس نے ڈنکے کی چوٹ پر ہند و توا کا پرچار کیا۔ گجرات فسادات کے دوران مودی کا متنازعہ کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اس کی حکومت کے دوران مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا اور وہ تمام بدلتی ہوئی صورتحال میں خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ مودی اپنے شدت پسندانہ ہندو توا نظریہ کے اظہار سے کبھی اجتناب نہیں کیا ہے اور نفرت کو اپنی سیاست کی بنیاد بنایا ہے۔ بھارتیہ جتنا پارٹی کی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں سے ہندو سماج کو بہت بڑا خطرہ ہے۔ بنیادی طور پر ہندوستانی عوام نے خاندانی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔ کانگریس طویل عرصہ تک بر سر اقتدار رہنے کے باوجود عوام کی زندگیوں میں بہتری نہیں لا سکی ہے۔
آج ہندوستان کو روشن اور آزاد سوچ رکھنے والا سماج جان کر ملٹی نیشنل کمپنیاں وہاں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ہندوستان میں پاکستان کے حوالہ سے یکساں سوچ ہے۔ مگر ہندوستان کے بارے میں پاکستان میں یکساں سوچ نہیں ہے۔ تعصبات سے بھرا ہندوستان مغرب کی ڈارلنگ بنا ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان پر بھارتی انتخابات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورتحال پر کھل کر بحث کی جائے۔ ملک میں امن کے نام پر قائم انسٹی ٹیوب بھارتی منظر نامے کا تجزیہ کریں اور سفارشات مرتب کریں پھر اتفاق رائے سے ایسی پالیسی تشکیل دی جائے جو تمام اسٹیک ہولڈرز کیلئے قابل قبول ہو۔